اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جناح سے قائد اعظم تک کا سفر

FB IMG 1733251562025 1 1

جناح سے قائد اعظم تک کا سفر

محمد علی جناح کی زندگی کا آغاز بمبئی کے ایک عام سے گھرانے میں ہوا، مگر ان کے خواب کبھی بھی معمولی نہیں تھے۔ ان کے والدین نے ان کے لیے ایک روایتی زندگی کا خواب دیکھا تھا، جہاں تجارت اور خاندان کی دیکھ بھال ان کے مستقبل کا حصہ بننے والے تھے۔ لیکن جناح کے اندر ایک بے چینی اور کچھ بڑا کرنے کی تڑپ تھی، جو انہیں ان محدود خوابوں سے آگے دیکھنے پر مجبور کرتی تھی۔ یہی بے چینی اور کچھ بڑا کرنے کا عزم انہیں ایک ایسے سفر پر لے گئے جس کا اختتام برصغیر کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی انقلاب پر ہوا۔

ابتدائی طور پر وہ ایک خاموش طبع لڑکے تھے، جنہوں نے کبھی بلند آواز سے اپنے خیالات کا اظہار تک نہیں کیا۔ مگر ان کی شخصیت کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ حقیقت پسندانہ اور عملی بات کرتے تھے۔ وہ وقت کے پابند، اصول پسند، اور اپنی ذمہ داریوں کے تئیں حساس تھے۔ یہ صفات ان کے مستقبل کی بنیاد بنیں۔ ان کا لندن جانا، وہاں وکالت کی تعلیم حاصل کرنا، اور پھر برصغیر کی سیاست میں قدم رکھنا محض اتفاقات نہیں تھے، بلکہ یہ ان کے غیر معمولی وژن کا نتیجہ تھا۔

جناح کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ وہ اپنے ارد گرد کے حالات کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کر سکتے تھے۔ جہاں دوسرے رہنما جذباتی نعرے بازی میں مگن ہوتے، جناح سیاسی بصیرت، قانونی مہارت اور منطقی دلائل کے ذریعے اپنے نظریات کا پرچار کرتے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی ضرورت صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایک ثقافتی، سماجی اور سیاسی تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔

ان کی زندگی کا سب سے متاثر کن پہلو یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کو ہمیشہ پسِ پشت رکھتے تھے۔ ایک طویل عرصے تک انہوں نے اپنی صحت، آرام، اور ذاتی خوشیوں کو قربان کیا تاکہ وہ ایک قوم کے لیے ایک ایسا خواب حقیقت میں بدل سکیں جو صدیوں تک صرف ایک خواب ہی رہا تھا۔ جناح کی بہادری صرف میدانِ سیاست تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی میں تنہائی، بیماری اور مخالفت کے پہاڑ جیسے چیلنجز کا سامنا بھی تن دہی سے کیا۔

نوجوانوں کے لیے جناح کی زندگی ایک سبق ہے کہ عظمت کبھی شارٹ کٹ سے نہیں آتی۔ یہ محنت، اصول پسندی اور بلند مقاصد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جناح نے ہمیں سکھایا کہ اگر آپ کے پاس ایک واضح مقصد ہو، آپ اپنے اصولوں پر قائم رہیں، آپ محنت و ریاضت کے خوگر ہوں اور آپ کے اندر خود پر یقین ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کو کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔ ان کا قول، "ایمان، اتحاد، تنظیم” صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسا فلسفہ ہے جو کسی بھی قوم کی کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

جناح سے قائد تک کا سفر اس بات کا گواہ ہے کہ اگر ایک انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر دوسروں کے لیے کچھ کرنے کا عزم کر لے، تو وہ تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔ محمد علی جناح نہ صرف پاکستان کے بانی تھے، بلکہ وہ ایک عہد تھے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وہ لوگ عظمت کے مینار ہوتے ہیں جو مدار ذات سے نکل کر دوسروں کے لیے ایثار اور قربانی کے خوگر ہوتے ہیں۔ آج، ان کی سالگرہ کے موقع پر، ہم سب پر یہ فرض ہے کہ ہم ان کے اصولوں کو اپنائیں اور ایک ایسا پاکستان بنائیں جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھا۔

جواد الحسن شمسی ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481