اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تربت میں بم دھماکا،2 ایف سی اہلکار شہید، 4 زخمی

تربت میں بم دھماکا،2 ایف سی اہلکار شہید، 4 زخمی

بلوچستان کے علاقے ضلع تربت میں سڑک کنارے ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کارپس (ایف سی) کے 2 اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔

اسسٹنٹ کمشنر دشت حمید کورائی نے بتایا کہ واقعہ گوادر اور تربت کے درمیانی علاقہ دشت کھڈان زریں بک میں پیش آیا، جہاں عرب شیوخ شکار کھیلنے کے بعد واپس اپنے کیمپ جا رہے تھے۔

اسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ حملے میں تمام عرب شیوخ محفوظ رہے، تاہم سیکیورٹی پر مامور 2 ایف سی اہلکار شہید جبکہ 4 زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر تربت منتقل کردیا گیا۔

اس کی تصدیق غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو مقامی انتظامیہ کے سینئر حکام عبدالحمید نے بھی کی۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اور حکام نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان عربوں کا تعلق قطری شاہی خاندان سے ہے، مزید کہا کہ دھماکے کے بعد انہیں ’اضافی سیکیورٹی‘ فراہم کی گئی۔

کسی بھی عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ قطری شاہی خاندان کے کون لوگ شکار کھیل رہے، قطر میں شاہی خاندان کے ارکان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ کیا قطریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔

اس حملے کی کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خلیجی اشرافیہ میں سے شکار کے شوقین لوگ ہر موسم سرما میں بلوچستان کا سفر کرتے ہیں تاکہ نایاب تلور کا شکار کر سکیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس طویل عرصے سے پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ عرب ممالک کے امیر شہریوں کو تلور کے شکار کی اجازت دیتا ہے، جو ہر موسم سرما میں وسطی ایشیا سے ہزاروں کی تعداد میں ہجرت کرتے ہیں۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481