اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جسٹس منصور علی شاہ نے بھٹو ریفرنس پر اضافی نوٹ جاری کردیا

جسٹس منصور علی شاہ نے بھٹو ریفرنس پر اضافی نوٹ جاری کردیا

 

جسٹس منصور علی شاہ نے بھٹو ریفرنس پر اضافی نوٹ جاری کر دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ 5 جولائی 2024 کو جاری ہوا تھا، جسٹس منصور علی شاہ کا 6 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ آج ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا۔

اضافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آمرانہ دور میں ججوں کو یاد رکھنا چاہیے ان کی اصل طاقت عہدے پر رہنا نہیں آزادی قائم رکھنا ہے، جسٹس دراب پٹیل نے بھٹو کیس میں جرأت مندی سے اختلاف کیا، دراب پٹیل نے ضیاء کے جاری کردہ عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا، سمجھوتہ کر لینے کی میراث چھوڑنے کے بجائے عہدہ کھو دینا چھوٹی سی قربانی ہے۔

اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ جج کی بہادری کا اندازہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور مداخلت کے خلاف ثابت قدم رہنے سے لگایا جا سکتا ہے، آمرانہ مداخلتوں کا مقابلہ کرنے میں تاخیر قانون کی حکمرانی کیلئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ بھٹو نے خود کہا تھا آئین کی چھتری تلے ہی عدلیہ آزاد رہ سکتی ہے، بھٹو نے کہا تھا صحرا میں پھول نہیں کھل سکتے، ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل سیاسی ٹرائل کی کلاسیک مثال ہے، بھٹو کیس میں تفتیش کی منظوری غیر قانونی طور پر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی ٹرائل میں من پسند نتائج کیلئے غیر شفاف طریقے آزمائے جاتے ہیں، سیاسی ٹرائل میں عموماً سابق اتحادیوں کے ہی بیانات لے کر گواہ بنایا جاتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481