اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نمائندگان مادری زبانیں تحریک کی خصوصی سیکرٹری سے ملاقات

Screenshot 20241126 191930 1

مادری زبانوں کی تحریک کے نمائندگان کی خصوصی سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن جناب قیصر عالم سے ملاقات

 

بروز منگل، 26 نومبر 2024 کو پختونخوا کی مادری زبانوں کے لیے کام کرنے والے پلیٹ فارم ”مدر ٹنگز موومنٹ“ کے نمائندگان عنایت اللہ ضیاء، عصمت اللہ دمیلی، حیات روغانی، گل رحمان ہمدرد اور دانیال دانش نے پختونخوا کے صوبائی سیکرٹریٹ میں خصوصی سیکرٹری برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن قیصر عالم صاحب سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات میں درج ذیل نکات پر گفتگو ہوئی:

١۔ قیصر عالم صاحب سے درخواست کی گئی کہ ”دی خیبرپختونخوا پروموشن آف ریجنل لینگویجز اتھارٹی ایکٹ 2012‘‘ کے تحت جو لینگویجز اتھارٹی قائم کی گئی تھی، اس کو فعال کیا جائے۔ تاکہ پختونخوا کی مادری زبانوں کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے کے کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس پر قیصر عالم صاحب نے کہا کہ ہم سب مل کر ایک ورکنگ گروپ بنائیں گے جس میں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ”مدرٹنگز موومٹ“ کے نمائندگان بھی شامل ہوں گے۔ یہ ورکنگ گروپ ڈائریکٹوریٹ آف کیوریکولم اینڈ ٹیچرز ایجوکیشن (DCTE) سمیت تمام متعلق حکام سے بات کرے گا تاکہ لینگویجز اتھارٹی کو فعال کرنے کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں، ان کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبانوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ پختونخوا کی مادری زبانوں کا یہ حق ہے کہ ان کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔

٢۔ میٹنگ میں یہ نکتہ بھی زیر غور آیا کہ جن پانچ زبانوں یعنی پشتو، ہندکو، سرائیکی، کھوار اور کوہستانی کو پہلے مرحلے میں نصاب تعلیم میں شامل کیا گیا تھا، ان زبانوں کی تدریس کے لیے مختلف سطحوں پر نصاب کی تیاری، کتابوں کی فراہمی اور اساتذہ کی دستیابی کا کام جزوی طور پر ہی ہو سکا ہے۔ DCTE، ٹیکسٹ بک بورڈ اور دیگر متعلق اداروں سے بات کر کے اس کی تکمیل کی جائے۔ نیز گوجری، توروالی، گاؤری اور دمیلی سمیت جو زبانیں نصاب تعلیم میں شامل ہونے سے رہ گئی ہیں، ان کو بتدریج نصاب تعلیم میں شامل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ سیکرٹری صاحب نے کہا کہ اس ایشو کو بھی ورکنگ گروپ کے ذریعہ متعلق ڈیپارٹمنٹ اور اتھارٹیز کےسامنے اٹھائیں گے۔

٣۔ تیسرا نکتہ یہ زیربحث آیا کہ لینگویجز اتھارٹی ایکٹ کی رو سے مادری زبان لازمی مضمون (Compulsory Subject) کے طور پر نصاب میں شامل ہے۔ لیکن مختلف سرکاری و غیر سرکاری سکولوں میں مادری زبان کو لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل کرنے کے بجائے دیگر اختیاری مضامین (Optional Subjects) کے ساتھ ایک ہی گروپ میں رکھا جاتا ہے۔  اور پھر سکولوں کی انتظامیہ مادری زبان کے مضمون کے بجائے آپشنل سبجیکٹس منتخب کر لیتی ہے۔ یہ آئینِ پاکستان اور 2012 کے ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ اس پر سیکرٹری صاحب نے کہا کہ یہ نکتہ ہم اعلیٰ حکام اور متعلق اتھارٹیز کے سامنے اٹھائیں گے کہ اس مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے۔ مزید برآں، مادری زبانوں کے لازمی مضمون کے لیے ۱۰۰ نمبروں کے پرچہ کے مطالبہ پر بھی ورکنگ گروپ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

٤۔ چوتھا نکتہ یہ زیر بحث آیا کہ غیر سرکاری/ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں پر مادری زبان میں گفتگو کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے اور اگر بچے اپنی مادری زبان میں گفتگو کریں تو سکول انتظامیہ ان پر جرمانے عائد کرتی ہے۔ یہ اخلاقًا، آئینًا، شرعاً اور قانونًا غلط اقدام ہے۔ اس کا ایک نوٹیفی کیشن کے ذریعے سدباب کیا جائے۔
اسپیشل سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن جناب قیصر عالم صاحب نے کہا کہ اس حوالے سے ہم تمام سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کو ایک نوٹی فیکیشن جاری کریں گے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

گل رحمان ہمدرد ۔۔۔۔ پشاور


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481