اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پیراڈائز سینما ، مری

FB IMG 1723273674554 2

پیراڈائز سینما، مری

ان دنوں میں گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ ایک دن سکول میں اعلان ہوا کہ کل مری شہر میں کسی ملک کے سربراہ تشریف لا رہے ہیں، جن کے استقبال کے لیے تمام سرکاری سکولز کے بچے مری جائیں گے۔ ہمیں ہدایت کی گئی کہ کل آپ وقت سے پہلے سکول آئیں۔ یہاں سے سرکار کے خرچے پر آپ کو گاڑیوں میں مری لے جایا جائے گا۔
اگلے دن مری جانے کی خوشی میں میں نے اپنا سب سے بہترین جوڑا پہنا اور سکول پہنچ گیا۔۔ سب بچے لائن میں کھڑے تھے۔ سب نے سکول یونیفارم پہن رکھی تھی اور میں ان سب کے درمیان "چٹا کاں” بنا کھڑا تھا۔
پی ٹی آئی صاحب نے غضب ناک نگاہوں سے مجھے گھورا اور کن مروڑا دے کر کہنے لگے تم مری کسی بارات میں جانے کے لیے آئے ہو یا سکول کی طرف سے جا رہے ہو۔۔

مجھے کہا گیا کہ آپ واپس گھر تشریف لے جائیں کیونکہ اتنا وقت نہیں ہے کہ آپ یونیفارم تبدیل کر کے واپس آسکیں( یہ تمام جملے ایسے مہذبانہ انداز میں نہیں کہے گئے تھے بلکہ ساتھ ہلکا پھلکا روایتی تشدد بھی شامل تھا)
میں مری جانے کی حسرت دل میں لیے بہت اداسی سے گھر واپس آیا۔ ابا ان دنوں کراچی سے آئے ہوئے تھے۔انہوں نے پوچھا مری کیوں نہیں گئے۔ میں نے وجہ بتائی تو دلاسہ دے کر کہنے لگے کوئی بات نہیں یہ لو 100 روپے اور اگر دل چاہتا ہے تو خود اکیلے مری چلے جاؤ۔
100 کا نوٹ دیکھ کر میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ یہ تو میرے ماہانہ جیب خرچ کا ادھا حصہ تھا۔ میں اچانک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جتنا امیر ہوگیا تھا۔۔ پہلے سوچا بھاڑ میں جائے مری کا ٹرپ۔ قومی خزانے کو فورا محفوظ کرنا چاہیے۔ دس منٹ تک مختلف جگہوں پر خزانہ گاڑنے کے باوجود دل مطمئن نہ ہوا تو سوچا چلو مری چلتے ہیں۔۔۔

فورڈ ویگن دیول سے مری ایجنسی تک جایا کرتی تھی۔ 3 روپے کرایہ ہوتا تھا۔ مری پہنچ کر سب سے پہلے سکول کے دوست تلاش کیے۔ بیچارے سب کے سب ہاتھوں میں غیر ملکی جھنڈے اٹھائے ملزمان کی طرح لائن حاضر کھڑے تھے۔
میں نے پی ٹی آئی صاحب کی ریڈار نما آنکھوں سے بچ کر اپنے تین دوستوں کو اشارہ کیا کہ لخ دی۔۔۔۔ بھیجو آنے والے معزز غیر ملکی مہمان پر اور نکلو یہاں سے۔تمہارا بھائی دبئی کے شیخوں جتنا امیر ہوچکا ہے۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں۔۔
وہ تینوں لائن سے فورا یوں غائب ہوئے کہ سکول کی سی آئی ڈی بھی حیران ہوئی ہوگی۔ ہم چاروں کی گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں یہ طے پایا کہ سب سے پہلے فلم دیکھتے ہیں۔ پھر کھانا کھاتے ہیں اور پھر مال روڈ پر آئسکریم کھائیں گے۔ اس زمانے میں 100 کا نوٹ بہت طاقت رکھتا تھا۔

ہم فورا پیراڈائز سینما پہنچے۔ نیچے دی ہوئی تصویر میں اوپر کی طرف اسی سینما کا تھوڑا سا حصہ نظر آرہا ہے۔ یہ تقریبا انہی دنوں کی تصویر ہے۔ مال روڈ کو فریدہ مارکیٹ اور موٹر ایجنسی سے ملانے والی یہ سڑک اسی حالت میں تھی۔ اب یہ سڑک کھوکھوں اور تجاوزات کے نیچے مکمل غائب ہوچکی ہے۔ سینما ختم ہوچکا ہے۔ یہ سینما انگریز دور میں بنا تھا۔

سب سے مہنگا ٹکٹ 15 روپے کا تھا۔ ہم نے وہ ٹکٹ لیا اور گیٹ کھلتے ہی بھاگ کر فرنٹ سیٹ یعنی سینما سکرین کے نزدیکی بینچوں پر قبضہ کرلیا تاکہ زیادہ قریب سے سلطان راھی اور انجمن کو دیکھ سکیں۔۔اندازہ کریں۔۔ ٹکٹ لیا گیلری کا اور بیٹھے فرنٹ سیٹوں پر جہاں سے زرافے کی طرح گردن اونچی کرکے ساری فلم دیکھی۔ سلطان راہی کی سمع خراش بھڑکیں اور ہیروئن کے ابا کے جذباتی ڈائیلاگ سنے جنہیں سر عام ناچ گانے پر اعتراض نہیں تھا البتہ ہیرو کے ساتھ شادی پر شدید اعتراض تھا۔

تین گھنٹے گردن اکڑا کر فلم دیکھنے کے بعد پشاوری چپل کباب کے ساتھ لنچ کیا۔ تب تک انتہائی معزز غیر ملکی مہمان دفعان ہوچکے تھے۔ مال روڈ پر آئس کریم کھائی۔ گڑیا کے بال خرید کھائے۔ چاکلیٹیس لیں۔ خوب مٹر گشت کیا۔ آخر ایک مقامی بزرگ کے ہتھے چڑھ گئے کیونکہ میرے تین دوست سکول کی یونیفارم میں تھے ۔
"باوا اوراں” نے خوب عزت افزائی کی اور کھونڈی سے ڈرا کر فورا گھر واپس جانے کا الٹی میٹم دیا۔ جب تک ہم ایجنسی اڈے سے گاڑی میں نہیں بیٹھے وہ بزرگ ساتویں بحری بیڑے کی طرح ہمارے پیچھے پیچھے رہے۔

واپس گاؤں کے سٹاپ پر پہنچے تو قومی خزانہ خالی ہوچکا تھا اور ہم پھر سے صومالیہ اور پاکستان والی پوزیشن میں آ چکے تھے۔
اگلے دن غائب ہونے کی پاداش میں تینوں دوستوں کو مرغا بناکر انڈا دینے پر مجبور کیا گیا جبکہ ہماری باقی کلاس ہماری تفریح کا احوال سن کر سخت بغض و عناد کا شکار ہوئی کیونکہ وہ سب بیچارے کئی گھنٹے کھڑے رہ کر بھوکے پیاسے واپس آئے تھے۔

 

حبیب عزیز ۔۔۔ اوسیاہ مری۔

21 نومبر 2024


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481