اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

زندگی کا میلہ

03fb8071 bc3c 4e29 be1f 691b9a41b990 1

راج کہا کرتا تھا زندگی ایک میلہ ہے جس میں ہم لوگوں سے ملتے ہیں‘ کچھ وقت ساتھ گزارتے ہیں اور پھر بچھڑکر وقت کی دھند میں کھو جاتے ہیں۔

مانچسٹر میں گزارے ہوئے دنوں کو یاد کروں تو وقت کی دھند سے راج اور جمیلہ کے روشن چہرے ابھرتے ہیں۔ راج یونیورسٹی آف مانچسٹر میں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر تھا ‘جس سے میری دوستی تھی۔ اُس کا تعلق ساؤتھ انڈیا سے تھا اور مانچسٹر میں سکارزڈیل کے علاقے میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا ۔ میں اکثر چھٹی والے دن اُس کے گھر چلا جاتا۔راج کے گھر میں کتنے ہی لوگوں سے میری ملاقات ہوئی ان میں اکثر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس ہوتے جن میں زیادہ تر کا تعلق جنوبی ایشیا کے ممالک سے ہوتا‘ جو راج سے ہر موضوع پر گفتگو کرتے۔یہیں پہلی بار میری ملاقات جمیلہ سے ہوئی جو دہلی کے ایک کالج میں سوشیالوجی پڑھاتی تھی اور ایک مختصر کورس کے لیے مانچسٹریونیورسٹی میں پروفیسر راج کے ڈیپارٹمنٹ میں آئی تھی اور پھر پروفیسر راج کے ارادت مندوں میں شامل ہو گئی تھی۔ اب میں سوچتا ہوںراج کی شخصیت میں نہ جانے کون سا جادو تھا کہ اسے ایک بار ملنے والا اسے پھر کبھی بھلا نہ پاتا۔جمیلہ مانچسٹر یونیورسٹی سے مختصر کورس ختم کر کے واپس دہلی جا رہی تھی اور راج نے اپنے گھر اس کی الوداعی دعوت کی تھی ‘ اس دعوت میں صرف تین لوگ تھے‘ راج‘ جمیلہ اور میں۔ مجھے یاد ہے اس روز دعوت کے بعد میں جمیلہ کو برستی بارش میں مانچسٹر کے سینٹ گبیرئل ہال تک چھوڑنے گیا تھا جہاںوہ ٹھہری ہوئی تھی۔ راج کے گھر میں جمیلہ سے دو بار ملا تھا۔ایک اس کی دعوت والے دن اور دوسری مرتبہ جب وہ برطانیہ کے شہر لیڈز میں ایک کانفرنس کے لیے آئی تھی اور کانفرنس کے بعد اگلے روز راج سے ملنے اس کے گھر آئی تھی۔ان دو ملاقاتوں میں مجھے اسے قریب سے دیکھنے اور اس سے باتیں کرنے کا موقع ملا۔مجھے یاد ہے وہ باتیں کرتے ہوئے اچانک کہیں کھو جاتی تھی۔ اس روز اس نے راج کو بتایا کہ وہ خود کو لوگوں کے درمیان Misfit محسوس کرتی ہے۔ اور کیسے راج سے مل کر اسے یوں لگتا ہے کہ اس کی ذات کتنی اہم ہے اور کیسے ایک لمبے عرصے کے بعد وہ زندگی کے رنگوں کو اپنے دل میں اُترتے دیکھ رہی ہے۔ اُس روز بارش میں راج کے گھر سے سینٹ گبیرئل ہال جاتے ہوئے جمیلہ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے راج کے صحبت میں رہنے کا موقع ملا ہے۔ اُس ملاقات کے اگلے روز وہ واپس دہلی چلی گئی جہاں اُس کی فیملی تھی اور جہاں وہ ایک کالج میں پڑھاتی تھی۔

پھر دن‘ ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور میں بھی اپنی پڑھائی میں مصرو ف ہو گیا۔جمیلہ کا خیال زندگی کی مصروفیات میں کہیں کھو گیا۔ البتہ راج سے میری ملاقات ہفتے میں ایک بار ہو جاتی۔ کبھی اس کے گھر اور کبھی مانچسٹر کے وِٹ ورتھ پارک میں واک کے دوران۔ اب مانچسٹر میں میری پڑھائی کا آخر آخر تھا اور میں اپنے ریسرچ تھیسز پر کام کر رہا تھا۔ دیر تک لائبریری میں بیٹھا رہتا۔ انہیں دنوں کی بات ہے میں ایک روز لائبریری سے شام گئے اپنے ہاسٹل آیا تو ریسیپشن پر بیٹھے ہوئے کئیر ٹیکر ولیم نے مجھے میرے کمرے کی چابی دیتے ہوئے ایک خط بھی دیا۔ اُس زمانے میں موبائل فون نہیں ہوتے تھے۔خط ہی رابطے کا عام ذریعہ تھے اور اپنے وطن سے کسی خط کا آنا خوشی کا باعث ہوتا تھا۔ میں نے خط کھولا تو خوشگوار حیرت ہوئی۔ یہ جمیلہ کا خط تھا ۔مجھے یاد آیا اس نے آخری بار مجھ سے ہاسٹل کا پتہ لیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے دہلی سے خط لکھے گی۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم بچھڑتے وقت رابطہ رکھنے کا یقین دلاتے ہیں اور پھر دنیا کی بھیڑ میں گم ہو کر اپنے وعدوں کو بھول جاتے ہیں۔لیکن نے جمیلہ نے اپنا وعد یاد رکھا تھا۔میں نے بے تابی سے خط پڑھنا شروع کیا۔ جمیلہ نے خط میں لکھا تھا: ”دہلی میں سب خیریت ہے۔ آج یہاں صبح سے بارش ہو رہی ہے‘ جب بھی بارش ہوتی ہے تو مجھے مانچسٹر یاد آتا ہے اور پھر پروفیسر راج کے گھر کی محفلیں۔ کیسا اچھا وقت گزرا تھا وہاں۔سچ پوچھیں تو گھر میں میرا دم گھٹتا ہے‘ لگتا ہے کوئی پنجرہ ہے جس میں ایک آزاد پرندہ قید ہو کر رہ گیا ہے اور اب تو لگتا ہے پرندہ اُڑنا بھی بھول گیا ہے۔ میں نے پروفیسر راج کو بھی خط لکھا ہے۔ آپ کی ملاقات ہو تو میرا سلام کہیں۔ شاید کبھی موقع ملے تو میں مانچسٹر آؤں گی۔ پھر راج سے اور آپ سے ملاقات ہو گی ہم مل کر خوب باتیں کریں گے‘ ہنسیں گے۔‘‘

میں نے خط تہہ کر کے میز کی دراز میں رکھ دیا اور ڈنر کے لیے یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا چلا گیا جو ہاسٹل کے گراؤنڈ فلور سے ملحق تھا۔ کیفے کی گلاس وال سے باہر آکسفورڈ سٹریٹ کا منظر صاف نظر آرہا تھا جہاں ہمیشہ کی طرح ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ مجھے جمیلہ یاد آگئی او ر اس کے ساتھ وہ دن بھی جب میں اُسے پہلی بار راج کے گھر ملا تھا جہاں راج نے اُس کی الوداعی دعوت کی تھی اور دعوت کے بعدمیں اسے برستی بارش میں سینٹ گیبرئل ہال تک چھوڑنے گیا تھا جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھی۔کیسی تھی وہ رات جب آسمان سے لگاتار بارش برس رہی تھی۔
اور اب اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ ہزاروں میل دور دہلی کے ایک گھر میں اپنی کھڑکی سے باہر جل تھل بارش کا منظر دیکھ رہی تھی۔ لیکن اس نے اپنے خط میں یہ کیوں لکھا تھا کہ وہاں اس کا دم گھٹتا ہے۔اس سے ملتی جلتی بات جمیلہ نے اس دن بھی کہی تھی جب میں اُسے راج کے گھر ملا تھا۔آج کیفے ٹیریا میں بیٹھے گلاس وال سے باہر برستی بارش دیکھ کر نہ جانے کیوں مجھے جمیلہ یاد آگئی۔ جمیلہ کا خط ملے کئی ہفتے گزر گئے تھے ۔مجھے جواب لکھنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ ہر روز سوچتا کہ جمیلہ کیا کہے گی۔لیکن زندگی کے جھمیلوں میںبہت سے اہم کام بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔میں بھی خواہش کے باوجود جمیلہ کے خط کا جواب نہ دے سکا۔ پچھلے کچھ عرصے سے میرا زیادہ وقت یونیورسٹی کی لائبریری میں گزرنے لگا تھا۔مجھے ارد گرد کا ہوش نہ تھا۔ آ خر کار تھیسز مکمل ہو ا اور تھیسز جمع کرانے کے بعدمجھے یوں لگا جیسے سر سے ایک بھاری بوجھ اُتر گیا ہو۔میرے پاکستان جانے سے ایک ہفتہ پہلے راج نے ایک کانفرنس کے سلسلے میں سری لنکا جانا تھا۔راج کے سری لنکا جانے سے پہلے میں آخری بار راج کو اس کے گھر ملا ۔ دراصل راج نے مجھے الوداعی دعوت پر بلایا تھا۔اُس روز آکسفورڈ سٹریٹ سے راج کے گھر جاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا شاید میں آخری بار اس راستے پر چل رہا ہوں۔ مانچسٹر میں ایک سال قیام کے دوران راج کا گھر ہی میرا ٹھکانا ہوا کرتا تھا ۔ہر چھٹی والے دن میں راج کے گھر چلا جاتا جہاں ہم دنیا جہاں کی باتیں کرتے ۔ اُس گھر کی واحد سجاوٹ راج کی کتابیں تھیں یا پھر میز پر رکھی ہوئی پاروتی کی تصویر جو راج سے ایک وعدہ کر کے بھول گئی تھی۔ اور آج میں اس گھر میں آخری بار جا رہا تھا۔ تب مجھے وہ دن یاد آ گیا جب راج نے جمیلہ کی الوداعی دعوت کی تھی۔ جس میں اس نے مجھے بھی بلایا تھا۔اس دعوت میں صرف تین لوگ تھے: راج‘ جمیلہ اور میں۔ اُس روز میں جمیلہ سے پہلی بار ملا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اُس روز اس نے نیلے رنگ کے کپڑے پہنے تھے۔ وہ ہنستی تو اس کے گالوں میں بھنور پڑنے لگتے لیکن نجانے کیوں اس کی آنکھوں میں ایک بے نام اداسی کا رنگ تھا۔
مانچسٹر میں پروفیسر راج سے ملنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایک مینٹور (Mentor) کیا ہوتا ہے۔ کیسے وہ ہمیں اپنے آپ سے روشناس کراتا ہے اور کس طرح ہمارے دلوں میں نئے جہانوں کی تلاش کی اُمنگ جگاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے علاوہ یونیورسٹی آف مانچسٹر کے کتنے ہی طالب علم راج کے دلدادہ تھے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں راج میں ایسی کیا بات تھی کہ اس سے ایک بار ملنے والا اُسی کا ہو کر رہ جاتا تھا۔ شاید یہ اُس کا علم تھا جو دوسروں کو متاثر کرتا۔ ادب‘ معیشت‘ معاشرت‘ تاریخ‘ غرض ہر مضمون پر اُس کی دسترس قابلِ رشک تھی‘ یا شاید یہ اُس کی طبیعت کی عاجزی تھی جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی تھی ‘یا اُس کی شخصیت کی دل آویزی تھی جو دوسروں کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتی‘ یا پھر اُس کے اخلاص کی سچائی تھی جو اُسے دوسروں سے ممتاز بناتی تھی۔ کچھ تو تھا کہ یونیورسٹی کے طلبہ اس کے دیوانے تھے۔ میں خود کو اس لحاظ سے خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے راج کے ساتھ وقت گزارنے اور اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ مانچسٹر کے ایک سال کے قیام کے دوران جب میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ایم اے کر رہا تھا‘ اس عرصے میں کتنی ہی بار مجھے راج کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ کتنی ہی بار یونیورسٹی کے قریب واقع وِٹ ورتھ پارک میں راج کے ہمراہ واک کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر میں نے راج کی گفتگو سنی تھی۔ اور اب مانچسٹر میں میرے قیام کا اختتام ہونے جا رہا تھا اور میں راج سے ملنے اس کے گھر جا رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی راج نے مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا۔ کھانے کی میز پر ہمیشہ کی طرح دال چاول تھے۔ کھانے کے بعد کافی کا کپ لے کر راج اپنی مخصوص کرسی اور میں صوفے پر بیٹھ گیا۔
بلیک کافی کی اپنی ہی مہک ہوتی ہے جو دل و دماغ کو سرشار کر دیتی ہے۔ میں نے گرم کافی کا ایک گھونٹ لیا اور راج سے کہا: یہ زندگی کا سفر بھی کتنا عجیب ہے‘ کیسے اچانک ہماری ملاقات نئے لوگوں سے ہوتی ہے‘ کیسے ہم کچھ دور اُن کے ساتھ چلتے ہیں اور پھر کیسے ایک موڑ پر بچھڑ جاتے ہیں؟ راج غور سے میری بات سُن رہا تھا۔ یہی اس کی شخصیت کی خوبی تھی‘ وہ پوری توجہ سے دوسروں کی بات سنتا۔ یونیورسٹی کے طلبہ اس سے بلا جھجھک اپنے ذاتی مسائل پر گفتگو کرتے تھے۔ آج بھی راج نے پوری توجہ سے میری بات سنی۔ کافی کا گھونٹ لیا‘ سائیڈ ٹیبل پر رکھی پاروتی کی تصویر پر نگاہ ڈالی اور کہنے لگا: ہاں زندگی کا کچھ پتہ نہیں چلتا اور رہی جدائی کی بات تو انسان کا پہلا اور آخری دکھ جدائی کا ہے۔ پہلی جدائی کا تجربہ آدم کی جنت سے بے دخلی کا تھا اور پھر موت ہماری آخری جدائی ہے۔ پھر اچانک راج نے گفتگو کا رُخ موڑ دیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں پاکستان واپس جا کر کیا کروں گا؟ میں نے کہا: یہاں آنے سے پہلے میں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا۔ واپس جا کر اپنی یونیورسٹی کو جوائن کروں گا۔ راج کہنے لگا کہ تم نے یہاں ایک سال گزارا‘ تمہیں پاکستان اور یہاں کے تعلیمی نظام میں کیا فرق لگا؟ میں اس سوال کے لیے تیار نہ تھا۔ میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا: پاکستان کے زیادہ تر تعلیمی اداروں میں تعلیم کا مقصد محض امتحان پاس کرنا ہے اور امتحان پاس کرنے کے لیے سوچ سمجھ کے بجائے اچھی یاداشت کا ہونا ضروری ہے۔ اساتذہ کا پورا زور طلبہ کو امتحان میں پاس ہونے کی تیاری کرانے پر ہوتا ہے۔ میری بات سُن کر راج نے ہنستے ہوئے کہا:ہاں جنوبی ایشیا کے اکثر ممالک میں یہی ہو رہا ہے۔

پھر راج کے چہرے پر سنجیدگی آگئی اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا: مجھے خوشی ہے کہ تم تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہو اور مجھے پورا یقین ہے کہ تم اپنے شاگردوں کے دلوں میں نئے جہانوں کی آرزوئیں جگاؤ گے۔ ایک استاد کا بنیادی کام اپنے شاگردوں کو Independent learners بنانا ہے۔ ایک اچھا استاد ہمیشہ اپنے شاگردوں سے محبت کرتا ہے‘ ان کے خیالات کا احترام کرتا ہے‘ انہیں خود پر اعتماد کرنا سکھاتا ہے اور ان پر نئے امکانات کے دروازے کھولتا ہے۔ میں پوری توجہ سے راج کی باتیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا قول اور فعل ایک جیسا ہو۔ لیکن راج جو کہہ رہا تھا‘ ان سب باتوں پر خود بھی عمل کرتا تھا۔ اپنے شاگردوں سے محبت‘ ان کے خیالات کا احترام‘ ان کو خود پر اعتماد کا سبق اور ان کے دل میں نئے آسمانوں میں پرواز کی آرزو جگانا۔ بطور استاد یہ سب خصوصیات راج کی شخصیت کا حصہ تھیں۔
اچانک باہر آسمانی بجلی کی چکا چوند ہوئی اور پھر بادل گرجنے کی آواز آئی۔ راج اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور کمرے کی کھڑکی کا پردہ ہٹا کر باہر دیکھنے لگا۔ باہر اندھیرا تھا اور تیز بارش برسنے کی آواز آ رہی تھی۔ راج کھڑکی کا پردہ برابر کرکے واپس اپنی سیٹ پر آ بیٹھا۔ پھر اچانک جیسے اسے کوئی بھولی ہوئی بات یاد آ گئی ہو۔ وہ کہنے لگا: پاکستان اور ہندوستان میں تو مون سون کی بارشوں میں سیلاب آجاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے کچے گھر بارشوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ پھر جیسے وہ تصور میں سائوتھ انڈیا میں واقع اپنے بچپن کے گھر پہنچ گیا اور خود کلامی کے انداز میں بولنے لگا: ہمارے گاؤں میں جب بارش آتی تھی تو عجیب سماں ہوتا۔ ہم بچے بارش میں خوب کھیلتے اور ننگے پائوں بھاگتے ہوئے اپنے گھروں سے دور چلے جاتے۔ میری ماں مجھے آوازیں دیتی رہتی ”راج اتنی دور تک مت جانا۔ کہیں گم ہو گئے تو واپسی کا راستہ نہیں ملے گا‘‘۔

پھر جیسے وہ تصور کی دنیا سے واپس آگیا اور کہنے لگا: شاید وہ سچ کہتی تھی‘ اب میں گھر سے اتنی دور آگیا ہوں کہ واپسی کا راستہ یاد نہیں رہا۔ ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ راستہ یاد بھی رہتا تو اب کس کے پاس جاؤں؟ کمرے کی فضا میں یک لخت اداسی چھا گئی۔ میں نے موضوع بدلتے ہوئے کہا: ہاں یاد آیا مجھے جمیلہ کا خط آیا تھا۔ راج نے کہا: ہاں مجھے بھی اس کا خط آیا تھا۔ جمیلہ کے خط کے ذکر سے مجھے اس کی آنکھوں سے جھانکتی اداسی کا خیال آ گیا۔ میں نے پوچھا :راج مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ بظاہر جمیلہ کے پاس دنیا کی ساری آسائشیں ہیں لیکن اس کی آنکھوں سے اداسی کیوں جھلکتی ہے؟ راج نے کافی کا ایک گھونٹ لیا‘ کچھ دیر خاموش رہا پھر کہنے لگا: یہ زندگی بھی عجیب ہے۔ کہیں ادھوری‘ کہیں بے ترتیب سی۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس چیزکو جہاں ہونا چاہیے وہاں نہیں ہوتی۔ میں سوچنے لگا کہ اس جملے کا جمیلہ کی اداسی سے کیا تعلق۔ راج نے اپنی بات جاری ر کھتے ہوے کہا: بہت سی زمینیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تہوں میں قیمتی خزانے ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ تمام عمر اِن خزانوںسے بے خبر رہتے ہیں۔ بہت سے خوبصورت منظر ایسے ہوتے ہیں جن کے رنگ کچھ لوگ اپنے دل میں نہیں اُتار سکتے کیونکہ ان کی زندگی کا مقصد صرف مادی فوائد کا حصول ہوتا ہے۔ بہت سی مدھر آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دنیا کے شوروغُل میں گم لوگ اپنی روح تک محسوس نہیں کر سکتے۔ تم ان زمینوں‘ ان منظروں اور ان آوازوں کا دکھ جانتے ہو؟ اچانک جیسے کوئی حقیقت مجھ پر منکشف ہو گئی ہو۔ مجھے جمیلہ کی اداس آنکھوں کا خیال آیا اور مجھے یوں لگا جیسے مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا ہے۔اب باہر برستی بارش کا شور تیز ہو گیا تھا اور کمرے میں گہری خاموشی کا راج تھا۔

میری کتاب "ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر” سے ایک اقتباس۔ 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481