اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شکیل اعوان کے پہاڑی شعری مجموعے "چیندک” کی چمک دمک

FB IMG 1708768696702 1

’’چیندک‘‘ کی چمک دمک

سورما سنگھ اپنے علاقے کا حکمران تھا۔ اسے ایک لڑائی پر جانا پڑ گیا۔ اس نے اپنی بیویوں، لونڈیوں اور مال و دولت کو ایک حویلی میں بند کیا اور باہر سے تالا لگا دیا۔ پھر اس نے اپنے سب سے قریبی دوست کو بلایا، چابی اس کے حوالے کرکے بولا  ’’پتہ نئیں بچ کے آون ہوندا اے کہ نئیں… میں اپنی حویلی دی کنجی تیرے حوالے کرکے جا رہیا واں… اگر میں جنگ وچ مر گیا تے فیر تو میری حویلی دا تالا کھولیں… میری بیویاں نال ویاہ کر لئیں… سارا مال وی توں ای رکھ لئیں‘‘۔
دوست بہت جذباتی ہو گیا اور اس نے چابی لینے سے انکار کر دیا۔ مگر سورما کے اصرار پر اس نے چابی رکھ لی۔ اگلے روز سورما سنگھ جنگ کو روانہ ہوا۔ ابھی وہ راجدھانی سے چند میل دور ہی گیا تھا کہ اس کا دوست گھوڑا دوڑتا ہوا اس سے آ ملا۔ گھوڑے سے اتر کر ہانپتے ہوئے بولا ’’ یار تو مینوں غلط کنجی دے کے آ گیا ویں… ایہہ جندرے وچ لگ ہی نئیں رہی‘‘۔

صاحبو! مجھے لگتا ہے کہ اُس سے بھی کچھ غلط ہو گیا ہے کہ وہ اپنی متاعِ فکر میرے ہاتھوں میں تھما کر چلتا بنا۔ اب جب میں نے اسے کھولا تو میری بساط اور تفہیم کی کلید سے وہ ٹھیک سے کھل ہی نہیں رہی کہ وہ اتنی سوکھی ہرگز نہیں جتنی دیکھنے میں لگتی ہے۔ پہاڑی میں جو کہا جاتا ہے کہ ’’بلّے ناں بلّا نا ویہہ متھے تارا ضرور ہونا‘‘۔ اگر ہم اپنے بڑے بڈھیروں کے کہے اسی آخان کو رہبر کر لیں تو یقینا ہمیں تخلیق سے پہلے تخلیق کار کو دیکھنا، کھنگالنا ہو گا اور سچ کہوں تو یہ بھی کوئی سہل عمل ہرگز نہیں۔ آسان اس لیے نہیں کہ وہ کوئی عام انسان نہیں… وہ شکیل ہے تو ساتھ ہی عقیل بھی ہے۔ وہ مدتوں سے فن و شعر کی وادی کی پرخار راہوں پر چلتا دوڑتا جا رہا ہے اور اس "اوخے” کام میں درپیش مشکلات و معاملات کو بہت بہتر جانتا ہے، اس لیے کہتا ہے
اساں تے کیہڑے شاعر اسیاں
دل نیاں گلاں لخنے رئے آں

یار شکیل جی کل حیاتی
دھارے بٹے ٹہونے رئے آں

وہ محض اتنا ہی نہیں جانتا بلکہ اس سے کہیں آگے کا علم بھی رکھتا ہے۔ اس لیے اس کا کہنا ہے کہ
سجناں ہاڑھ سلونی کیتی
اساں نے اپروں بوہنی کیتی

یار شکیل اسہاڑی مشکل
رہبر دونی چونی کیتی

ہاں برسبیل تذکرہ کہہ دوں کہ وہ شکیل، عقیل ہی نہیں اعوان بھی ہے اور اعوان ہی نہیں بلکہ ایوان ہے۔ جہاں فن، شعر، موسیقی اور علم وشعور کے فانوس پوری شدت سے یوں روشن ہیں کہ ہرطرف جگمگاہٹ کا سماں بندھا ہے۔ یہی وہ "لاٹو لاٹ” منظر ہے جس کو دیکھ کر اسے کہنا پڑا
یار شکیل حیاتی لگی
شہرت سستے پہاء نئیں لبھی

شکیل اعوان کا فنی سفر شاید گلوکاری سے شروع ہوا۔ وہ اس میں محنت کرتا، نام بناتا بڑھتا گیا۔ اسی راہ پر چلتے چلتے ایک وقت وہ آیا جب اس نے ’’ٹہاکیاں نے پھل‘‘ تلاشے، خراشے، چنے لیکن وہ وہاں رکا نہیں بلکہ چلتا رہا۔ درمیان میں وہ کالم آرائی پر اتر آیا اور وہاں سے اب ’’چیندک‘‘ کھیلنے آن پہنچا ہے۔

شکیل اعوان اگر ہفت زبان نہیں تو کم بھی نہیں کہ وہ اُردو، ہندکو، پوٹھوہاری، پنجابی کا گائیک ہے تو ساتھ ہی اپنی ماں بولی ’’پہاڑی‘‘ کو بھی سینے سے لگائے چلتا رہتا ہے۔ اس نے اپنی شعری فکر کو اپنی ماں بولی پہاڑی کا پیرہن اس "سجوڑپنے” سے پہنایا ہے کہ اسے دیکھ پڑھ کر اس کی قابلیت کا اعتراف عین حق لگتا ہے۔

’’چیندک‘‘ شکیل اعوان کا تازہ پہاڑی شعری مجموعہ ہے۔
بیہڑے نے وچ مار لکیراں
اچھو کڑیو چیندک کھیہڑاں
اکل، دُکل، تکل، چُکل
شرماں والی ماری بکل
اگیں در وختاں کی ریہڑاں
اچھو کڑیو چیندک کھیہڑاں

’’چیندک‘‘ کا آغاز نعت شریف سے ہوتا ہے۔
دل کرنا میں وی نعت پڑھاں
ورے ساری ساری رات پڑھاں

میں جالی چماں روضے نی
رحمت نی ویہہ برسات پڑھاں

اب شکیل کی غزل کی باری ہے۔ ان کی پہلی غزل کا پہلا شعر ان کے شعری نظریے کا کھلا اظہار ہے۔
گلاں نال تے پیٹ نیئے پہرنے، چھوڑ ننگا تقراں کی
ککھ پہنی نے دو نئیں کرنا، چغناں ایں تقدیراں کی

اسی سفر میں آگے بڑھتے ہوئے شکیل کہتا ہے
اوخا عشق ناں پہاڑہ پڑھیا
دو دونی، ہک دونی کیتی

اوخی سی پر چھکی آندی
یہاتی جدوں تروہنی کیتی

شکیل اعوان زندگی کی تلخ حقیقتوں کو شعر کی زبان یوں دیتا ہے
پیر لنغانے، چیڑے پھٹے، جیب وی سکھی ہونی سی
نکیوں پہکھ پہنگڑے سے فر وی بہوں ہمدردی ہونی سی

نکیاں ہونیاں دادی جان سی ہک کہانی سننے سیاں
ہک ماسی چنے ار بیئی تے چرخہ کتنی ہونی سی

شکیل اعوان کی مختصر بحر کی غزل زیادہ ’’سوادلی‘‘ و ’’رسیلی‘‘ ہے۔
جوبن یار گمائی تے
مڑیا ایں وقت کھڑائی تے

دنیا سجن! تلکن ای
رکھیں پیر جمائی تے

شکیل جب اپنی ذہنی فکر کو وقت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے تو پکار اٹھتا ہے
اشنیاں یاد پرانیاں گلاں
جسرے کالجہ کھانیاں گلاں

ماہتڑ ناں سچ دو رٹیاں یاں
باقی پہکھیاں پہانیاں گلاں

ستر سالاں سی بس لارے
پانی وچ مداہنیاں گلاں

شکیل جانتا ہے کہ
چہوٹھے تختاں تے تاجاں نے مالک
سچے مقتول اے، یا ڈکے گئے

شکیل جہاں زندگی کی تلخ نوائی کو زبان دیتا ہے وہاں وہ دل میں موجود لطیف جذبوں کی تفہیم کا ہنر بھی جانتا ہے۔
مٹھیاں کھنڈ سی، پیاریاں گلاں
تہڑیاں یاد یاں ساریاں گلاں

نالے ناں پرنالہ بنیا
لوکاں انج اڈاریاں گلاں

وہ لوگوں کے ’’سلوک‘‘ سے بھی آشنا ہے، اسی لیے کہتا ہے
جہڑا وی ملیا ستھرا ملیا
کوئی وی ناء، جس صرفا کیتا

شکیل کی پہاڑی غزل میں روائتی مضامین بھی سلیقے سے سموئے ہوئے ملتے ہیں
ہیر آخاں تے ہور پیئے گشنے
پٹے جوغے کور پیئے گشنے

دل وچا نانہہ گچھن دیساں
اکھیں سی لکھ دور پیئے گشنے

شکیل وقت کی سوچ اور المیے کو یوں بیان کرتا ہے
رہن سمندر چپ چپیتے
کسیاں نے شونکار بڑے نیں

مولوی جی ہتھ ہولا رکھو
اگیں تھانیدار بڑے نیں

اج کل نے لوکاں نے سنگیو
دل نکے، تے کہھار بڑے نیں

’’محبوب‘‘ جو غزل کا لازمہ ہے، شکیل کے ہاں پورے روائتی کروفر سے موجود ہے
منت کیتی یار نینھ من دا
دل دی گل دلدار نینھ من دا

اسی طرح وہ لکھتا ہے
عام ای ریہا خاص ناء ہویا
یار وی قدر شناس ناء ہویا

’’ماں‘‘ انسان کے روپ میں دیوتا بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ ایک حساس تخلیق کار، اس رشتے کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے
نکھڑی تے فر مآء نیہی لبھی
سب کج لبھا، وہاء نیہی لبھی

شکیل ایک حقیقت پسند تخلیق کار ہے، اس لیے کہتا ہے
اساں بائی خلوص نی ہٹی
کہنی گے لوک ادھار چنگا وہا

شیش محلاں پرائیاں سی شکیل
اپنا مٹی نا کہھار چنگا وہا

شکیل کی غزل موضوعاتی لحاظ سے منفرد اور اسلوبیاتی انداز میں قابل لحاظ ہے۔ اُنہوں نے عشق، محبت، احساس، دکھ، بھوک اور یوں پوری زندگی کو پوری مہارت سے غزل کا موضوع بنایا ہے۔ شکیل فطری طور پر ترقی پسندانہ سوچ کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل میں ترقی پسند فکر پوری طرح سے موجود اور متحرک نظر آتی ہے۔

شکیل نے غزل کے علاوہ خوبصورت گیت بھی لکھے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر لوک گائیک ہیں، یہی وجہ ہے کہ گیت پر ان کی گرفت کمال ہے۔
چھٹ کہڑی ہور تساں بیہی گچھو آ
اج راتیں اساں کول ریہی گچھو آ

اسی طرح شکیل اعوان نے خوبصورت پہاڑی ماہیے تخلیق کیے ہیں

کپڑا کھڈیاں ناں
ہک تہاڑا دکھ سجناں
گودا کھائی گا ہڈیاں ناں

شکیل اعوان نے پہاڑی میں ’’بولی‘‘ بھی لکھی اور خوب لکھی ہے
میکی پہلی گئے گڈیاں پٹولے
جندڑی جنجال کھائی گے

غزل، گیت، ماہیے اور بولی سے ہوتے جب شکیل اعوان نظم تک آئے تو یہاں ان کا فن ایک بار پھر پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ اس کی نظم ’’منگنا‘‘ ہو یا ’’دل ہٹی ناں کھاتہ‘‘ یا پھر ’’پردہ‘‘، ’’جاکت‘‘ ہر جگہ وہ اپنی بات چابکدستی سے کہتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ان کی نظم ’’سکیاں گلاں‘‘ ان کے فکری ذوق کا خوبصورت اظہاریہ ہے۔

شکیل اعوان کی ’’چیندک‘‘ پڑھتے سوچتے مجھے یاد آیا کہ کہیں ایک افیونی، ایک حجام اور ایک گنجا تینوں اکٹھے سفر کر رہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ رات ہو گئی۔ تینوں نے باری باری جاگنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے حجام کی جاگنے کی باری آئی۔ اس نے سوچا خالی بیٹھے سے نیند آ جائے گی۔ اس لیے اس نے استرا لیا اور افیونی کا سر مونڈھ دیا۔ جب حجام کے جاگنے کا طے شدہ وقت ختم ہوا تو اس نے افیونی کو جگایا۔ افیونی نے اٹھتے ہی انگڑائی لی اور سر کھجانے کے لے ہاتھ سر پر پھیرا۔ لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ سر پر بال نہیں ہیں۔  وہ یہ کہہ کر پھر سو گیا ’’ارے معلوم ہوتا ہے تم نے غلطی سے گنجے کو جگا دیا ہے‘‘۔

شکیل نے اپنی اور میری مادری زبان میں فکر آمیز شاعری کی ہے۔ شکیل کی شاعری مقصدیت بھری، لذیز اور سوادلی بھی ہے اور شعری و فنی حسن و لوازمے کی حامل بھی۔ اس نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیں جگانے کی خوبصورت سعی کی ہے، لیکن ہم بحیثیت مجموعی وہ افیونی ہیں جنہیں لگتا ہے کہ اسے شاید کسی اور کو جگانا تھا لیکن غلطی سے ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے۔

مجموعی طور پر ’’چیندک‘‘ اپنی معنوی و صوری چمک دمک میں کمال ہے اور شکیل کے ذوقی ایوان کا وہ روشن الاؤ ہے جو لواخ کے طور پر دور سے اپنے ہونے کا ثبوت بھی ہے اور استعارہ بھی۔

ہاں چلتے چلتے یہ بھی کہ ’’چیندک‘‘ پہاڑی کھیل ’’چیچاں‘‘ کا پیارا سا دل موہ لینے والا نام ہے۔ یہ سرنامہ پہاڑی ثقافت کا وہ اشاریہ ہے جو دور اور دیر تک ہم پہاڑیوں کو اپنے ہونے کا یقین دلاتا رہے گا۔

ڈاکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481