اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بِھٹ شاہ کی ایک رات

03fb8071 bc3c 4e29 be1f 691b9a41b990 1

یہ دسمبر کے مہینے کی رو پہلی سہ پہر ہے۔ کراچی سے حیدر آباد جاتے ہوئے میں چائے پینے کے لیے یہاں رکا ہوں۔ یہ ایک وسیع احاطے پر واقع روایتی ریستوران ہے جہاں ایک بڑا ہال ہے اور عقب میں کشادہ صحن جہاں چارپائیاں بچھی ہیں جن پر گاؤ تکیے رکھے ہیں۔ میں بھی ایک چارپائی پر بیٹھ جاتا ہوں۔ رینٹ اے کار کا ڈرائیور حیدرآباد کا رہنے والا ہے۔ میں اسے کہتا ہوں وہ بھی چائے پی کر تازہ دم ہو جائے۔ حیدر آباد میں اس سے پہلے دو‘ تین بار جا چکا ہوں۔ وہاں جائیں تو حیدر آباد کی مٹھائی‘ چوڑیاں اور بمبئے بیکری کا خیال آتا ہے پھر حیدر آباد کا مکھی پیلس اور یہاں کا پرانا بازار‘ جو ریشم گلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کچھ فاصلے پر رانی کوٹ کا قلعہ ہے جو اپنی طرزِ تعمیر میں سب سے منفرد ہے۔ لیکن آج مجھے حیدر آباد سے آگے بھٹ شاہ جانا ہے۔ وہی بھٹ شاہ جہاں سندھی زبان کا عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی آخری نیند سو رہا ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے تاریخ کے آثار میں نجانے کیسی کشش ہے کہ میرے قدم خود بخود اُٹھنے لگتے ہیں۔ بھٹ شاہ سے میں اپنے سکول کے زمانے میں واقف ہوا تھا۔ تب ہماری کو رس کی ایک کتاب میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی کہانی ہوتی تھی جو میرے دل میں بس گئی تھی۔ تب اور اب میں برسوں کا فاصلہ حائل ہے۔ سکول‘کالج اور یونیورسٹی کا عرصہ تمام ہوا اور میں روزگار کے جھمیلوں میں کھو گیا ہوں۔ کراچی کی آغا خان یونیورسٹی میں تین برس پڑھایا۔ اس دوران حیدر آباد بھی جانے کا اتفاق ہوا لیکن اس سے تقریباً چالیس کلومیٹر پر واقع بھٹ شاہ نہ جا سکا۔ کہتے ہیں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے‘ آج یوں ہی بیٹھے بٹھائے مجھے بھٹ شاہ کی مہک نے بے چین کر دیا۔وہی مہک جو ہرات کے چمنستان سے چلی تھی اور سندھ کی ہواؤں کا حصہ بن گئی۔

شاہ عبد اللطیف کا خاندان علم و ادب کی روایت میں رچا بسا تھا۔

شاہ صاحب کے پردادا شاہ عبد الکریم قادر الکلام شاعر تھے۔ والد شاہ حبیب بھی تصوف کے راستے کے مسافر تھے اور دور و نزدیک کے لوگ ان کے حلقۂ اثر میں تھے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی ہالہ کے قریب ایک جگہ ہالہ حویلی میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصے بعد ان کا خاندان ہالہ حویلی سے قریبی علاقے کوٹری مغل منتقل ہو گیا۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی پرورش شعرو ادب اور تصوف کے اسی ماحول میں ہو رہی تھی۔ اب ان کی عمر تقریباً بیس برس تھی۔ تب ایک دن ایسا ہوا کہ ان کی دنیا بدل گئی۔ ہوا یوں کہ اردگرد کے لوگ ان کے والد شاہ حبیب کے پاس اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل لے کر آتے تھے ایک دن علاقے کے رئیس مرزا مغل کی بیٹی کی طبیعت ناساز تھی۔ اسے شاہ حبیب کے آستانے پر لایا گیا۔ اتفاق سے اس دن شاہ حبیب موجود نہیں تھے اور ان کے جواں سال بیٹے شاہ عبد اللطیف بھٹائی موجود تھے۔ مرزا مغل کی بیٹی سعیدہ بیگم اپنی بیماری کے علاج کے لیے آئی تھی لیکن جاتے وقت شاہ عبد اللطیف کو اپنا بیمار بنا گئی۔نجانے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کوئی ایک لمحہ کوئی ایک چہرہ‘ کوئی ایک منظر ہمارے دل میں سما کر امر ہو جاتا ہے۔ شاہ عبد اللطیف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ سعیدہ بیگم کی آنکھوں کی نقاہت اور چہرے کی زردی میں جانے کیا کشش تھی کہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی نقدِ دل ہار بیٹھے۔ کہتے ہیں عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ جب اس کی خبر مرزا مغل تک پہنچی تو جیسے قیامت آگئی۔ ایسے میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے خاندان کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ حویلی کوٹری مغل کو چھوڑ کر ہالہ حویلی واپس چلے جائیں۔ ان کا خاندان توہالہ حویلی منتقل ہو گیا لیکن شاہ عبداللطیف بھٹائی کی دنیا ویران ہو چکی تھی۔ سعیدہ بیگم کا سراپا ان کے قلب و روح میں سرایت کر چکا تھا۔ کوئی بے چینی سی بے چینی تھی جو اُن کو بے قرار کیے ہوئے تھی۔ تب انہوں نے گھر اور گاؤں کو خیر باد کہا اور آبادی سے دور”نجو ٹکر‘‘ چلے گئے۔”ٹکر‘‘ سندھی میں پہاڑی کو کہتے ہیں۔ شہر کے ہنگاموں سے دورجا کر وہ سب کچھ بھلا دینا چاہتے تھے لیکن اس گمبھیر تنہائی میں بھی سعیدہ بیگم کی آنکھوں کی نقاہت اور بیمار چہرے کا حسن ان کا پیچھا کر رہا تھا۔ تب شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے ا پنا ساز و سامان اُٹھایا اور ایک طویل سفر پر روانہ ہو گئے۔ اب کے ان کی کوئی مخصوص منزل نہیں تھی۔یہ ایک مسلسل سفر تھا۔ اس میں کتنے ہی قصبے اور کتنے ہی شہر آئے۔ ٹھٹھہ‘ بھنبور‘ کراچی‘ حیدر آباد‘ لسبیلہ‘جوناگڑھ اور جیسلمیر۔ اس سفر میں ان کی ملاقات کتنے ہی جوگیوں سے ہوئی جو اپنے گھروں سے دور گرد ہوتی ہوئی مسافتوں کا حصہ بن گئے تھے۔ اس سفر میں ان کی کتنے ہی لوگوں سے ملاقات ہوئی‘ کتنے ہی نئے مقامات دیکھے۔ شاہ صاحب کا یہ سفر تین سال پر محیط تھا۔اس سفر نے ان کے اندر کی دنیا بدل دی۔ دنیا کا عارضی پن اور بے معنویت ان پر آشکار ہو چکی تھی۔اس سفر نے انہیں احساس اور دانائی کی دولت سے مالا مال کر دیا۔ ان کے دل میں شاعری کی کو نپل پھوٹ رہی تھی۔ شہر شہر کی خاک چھان کر تین سال بعد جب وہ واپس اپنے گھر پہنچے تو ان کے اندر اور باہر کی دنیا بدل چکی تھی۔ اب شاہ عبد اللطیف کی شخصیت میں تصوف‘ شاعری اور موسیقی کے رنگ گھل مل گئے تھے۔

اچانک میری گاڑی کے ڈرائیور نے کہا: صاحب آپ چائے پی چکے ہوں تو چلیں؟ تب مجھے احساس ہوا کہ میں کراچی اور حیدرآباد کے درمیان واقع ایک ریستوران میں بیٹھا ہوں۔ میں نے کہا: بالکل‘ چلتے ہیں۔جب ہم بھٹ شاہ پہنچے سہ پہر کے سائے شام کے سرمئی رنگوں میں ڈھل رہے تھے۔ مزار سے کچھ فاصلے پر ڈرائیور نے گاڑی پارک کی اور مجھے کہا: وہ سامنے مزار ہے‘ آپ آرام سے جائیں‘ جتنی دیر چاہیں بیٹھیں۔ واپسی پرمیں یہیں پارکنگ میں آپ کو ملوں گا۔ میں گاڑی سے اُتر گیا اور مزار جانے والے راستے پر چلنے لگا جس کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں جن میں پھول‘ چوڑیاں‘ کھلونے اور کھانے پینے کی چیزیں دستیاب تھیں۔ ہر دکان پر گاہکوں کی بھیڑ تھی۔ مزار ذرا بلندی پر واقع ہے اور وہاں تک پہنچنے کیلئے خوبصورت سیڑھیاں ہیں۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں نے پیچھے مڑ کر مزار کی طرف آنے والے راستے کو دیکھا جو عقیدت مندوں کے ہجوم سے چھلک رہا تھا۔ اب میں مزار کے وسیع صحن میں تھا‘ اس سے آگے برآمدہ تھا اور پھر وہ دروازہ جس میں داخل ہو کر شاہ صاحب کا مزار آتا ہے۔ میں دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ پتا چلا کہ یہ حلقہ ہے جو شاہ صاحب کے زمانے میں بھی ہوتا تھا۔ ذکر کے بعد حلقے کے لوگ شاہ صاحب کے مزار کے دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔ میں برآمدے کے ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ مجھے بشارت کا انتظار تھا۔ جو مقامی یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اور جس کا تعلق فقیروں کے خاندان سے ہے۔ اس نے مجھے یہیں ملنے کو کہا تھا۔ اچانک شور اٹھا اور سب لوگ ایک جگہ اکٹھے ہونے لگے۔ کسی نے کہا زائرین میں چُوری تقسیم کی جا رہی ہے۔ چُوری یہاں کا تبرک ہے۔میں سر جھکائے ستون کے ساتھ لگ کر بیٹھا رہا۔پتا نہیں بشارت نے اتنی دیر کیوں کر دی تھی۔ اچانک مجھے یوں لگا کوئی میرے سامنے کھڑا مجھے بلا رہا ہے۔ میں نے آنکھیں اُٹھا کر دیکھا۔وہ ایک لڑکی تھی۔اسی نے سر پر رومال باندھا ہوا تھا اور رومال کو گلے کے گرد گرہ دے کر چھوڑ دیاتھا۔ اس کے چہرے میں اس کی آنکھیں نمایاں تھیں۔ اجلی‘ روشن اور بے قرار آنکھیں۔ اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر تبرک کی چُوری رکھی تھی۔ اس نے مجھے ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے دیکھا تو ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہنے لگی‘ آپ دربار کی چُوری نہیں لیں گے‘ کہتے ہیں اس کے کھانے سے جو منت مانگیں پوری ہو جاتی ہے۔ میرے چہرے پر حیرت دیکھ کر وہ خود بھی ہنسنے لگی۔ اس کی ہنسی سن کر مجھے یوں لگا جیسے کسی قدیم مندرمیں گھنٹیاں بج رہی ہیں۔

بھٹ شاہ میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار کے دربار میں ستون سے ٹیک لگائے میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر دربار کے زائرین میں تقسیم کی جانے والی چُوری رکھی تھی۔مجھے حیرت کے عالم میں دیکھ کر وہ ہنستے ہوئے بولی :لگتا ہے آپ کی کوئی مراد نہیں۔ اسی لیے تو آپ نے دربا ر کی تبرک والی چُوری نہیں لی۔ میں نے کہا: میں دراصل یہاں اپنے دوست کا انتظار کر رہا ہوں‘ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ پانچ بجے تک آجائے گا۔ اس کا فقیروں کے خاندان سے تعلق ہے۔ وہ یہاں شاہ صاحب کا کلام سناتا ہے۔ بس کلام سننا ہے اور پھر کراچی کے لیے روانہ ہو جانا ہے۔اس نے کہا: میرا نام وِیرا ہے اور میرا تعلق جرمنی سے ہے۔ مجھے بھٹ شاہ کی کشش یہاں لے آئی ہے۔یہ کہہ کر وہ پھر ہنس پڑی اور ہر طرف گھنٹیاں سی بجنے لگیں۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ بشارت لوگوں کے ہجوم میں میری طرف بڑھ رہا ہے۔ آتے ہی وہ کہنے لگا: معاف کریں مجھے ذرا دیر ہو گئی۔ سماع کی محفل تو رات نو بجے شروع ہو گی لیکن آپ نے چونکہ جلدی واپس جانا ہے اس لیے میں نے آ پ کے لیے خاص اہتمام کیا ہے۔ یہیں دربار کے احاطے میں ایک کمرہ ہے وہاں میں اور میرے دوست آپ کو شاہ صاحب کا کلام سنائیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا‘ ویرا نے آگے بڑھ کر بشارت سے کہا‘کیا میں بھی کلام سن سکتی ہوں؟ بشارت بولا: کیوں نہیں‘ ضرور! ہم سب ایک چھوٹے سے کمرے میں چلے گئے جہاں فرش پر قالین بچھا تھا۔ وہاں بشارت کے دو اور ساتھی بھی تھے۔ ہم سب بوسیدہ قالین پر بیٹھ گئے۔ بشارت نے کبیر اور میراجی کے کلام سے آغاز کیا اور پھر شاہ صاحب کا کلام سنانے لگا۔ یہ شاہ صاحب کا کلام تھا ، تنبورے کی دھن تھی یا دلوں میں اترتی ہوئی بشارت کی آواز‘ ہم اپنے ارد گرد سے بے نیاز ہو گئے تھے۔ ایک گھنٹہ گزر گیا اور ہمیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔محفل کے اختتام پر ویرا نے کہا: میری خواہش تھی کہ سماع کی محفل میں شرکت کروں لیکن یہ جان کر مایوس ہو گئی تھی کہ سماع کی محفل رات کے نو بجے ہو گی۔ یوں میری خواہش کاپورا ہونا معجزے سے کم نہیں۔ پھر وہ خود ہی ہنستے ہوئے بولیــ:میں نے کہا تھا نا کہ تبرک کی چُوری کھانے سے دل کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔اس کی بات سن کر ہم سب ہنس پڑے۔

جب ہم نے بشارت سے رخصت لی تو اس وقت شام کے ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ ویرا نے بتایا کہ اسے اپنے دو ساتھیوں کا انتظار کرنا ہو گا جو رانی کوٹ کا قلعہ دیکھنے گئے ہیں اور آٹھ بجے اسے لینے آئیں گے۔ وہ کہنے لگی: کیا آپ آٹھ بجے تک مجھے کمپنی دے سکتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے کوئی جلدی نہیں۔ ہم دونوں دربار کی بیرونی طویل سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ اس نے اپنے سر پر باندھا ہوا رومال اتار کر اپنے بیگ میں رکھ لیا اور بالوں کو دائیں بائیں جھٹکا دیا۔ اس وقت بھٹ شاہ کے گلی کوچوں میں اندھیرا اتر رہا تھا اور دکانوں کے قمقمے روشن ہو چکے تھے۔
یہ دسمبر کا مہینہ تھا‘ سورج غروب ہونے کے بعد ہوا میں ہلکی سی خوشگوار خنکی تھی۔ وہ کہنے لگی :اس وقت جرمنی میں تو ہر طرف برفباری ہو رہی ہو گی۔ گلیاں، سڑکیں، درخت اور مکانوں کی چھتیں سب سفید ہوں گی۔ اچانک خیال کی ایک لہر آئی اور میں نے اس سے پوچھا: آپ نے اپنے ہم وطن ہرمن ہیس(Hermann Hesse) کا ناول سدارتھا (Siddhartha) تو پڑھا ہو گا؟ میری بات سن کر وہ ہنسی اور کہنے لگی: اوہ کیا یاد کرایا آپ نے‘ یہ ناول مجھے میرے پسندیدہ استاد پروفیسر ریمی (Remy)نے تحفے میں دیا تھا۔ دراصل میں نے اس کے ابتدائی صفحات پڑھنے کے بعد اختتام پڑھ لیا تھا۔ پھر وہ خود ہی ہنس پڑی ”پتا نہیں کیوں لیکن میں ہر وقت ذرا جلدی میں ہوتی ہوں‘‘۔ میں نے کہا: تمہیں اپنے ملک سے نکلے کتنا عرصہ ہوا ہے؟ اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں موند لیں جیسے چشمِ تصور میں اپنا گھر دیکھ رہی ہو ”شاید ایک برس ہو گیا ہے‘‘۔ میں نے کہا: تم اپنے گھر کو مِس نہیں کرتی؟۔ ”میں اپنے وطن کو یاد کرتی ہوں۔ اپنے وطن اپنے گھر اور اپنے بوڑھے ماں باپ کو۔ وہ کچھ دیر کے لیے رُک گئی اپنی آنکھیں بند کر لیں اور بولی: لیکن میں سب سے زیادہ جس شخص کو مِس کرتی ہوں وہ کالج میں میرے فرانسیسی ادب کے استاد تھے‘ان کا نام ریمی (Remy)تھا۔ میں کلاس کی بہت شرمیلی سی لڑکی تھی، چپ چپ، خاموش، اندر کی دنیا میں گم۔ پروفیسرریمی نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ مجھ میں تخلیق کار دریافت کیا۔بھٹ شاہ کی رات کے پھیلتے اندھیرے میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے مزار کی سیڑھیوں پر بیٹھامیں ویرا کی کہانی سن رہا تھا۔ پروفیسر ریمی کا یہ رویہ صرف میرے ساتھ نہیں تھا۔ وہ سب کے لیے ایک اِنسپریشن تھے۔ایک روز پروفیسر ریمی کی کلاس میں خوابوں پر بحث ہو رہی تھی۔میں نے پروفیسر ریمی کو بتایا کہ میں بہت کم خواب دیکھتی ہوں مگر اکثر ان خوابوں کی تعبیر سچی ہوتی ہے۔ پروفیسر ریمی نے کہا :کچھ لوگ روحانیت کے بلند درجے پر ہوتے ہیں۔ یہ سن کر مجھے اپنا آپ بہت اہم نظر آنے لگا‘ یہی پرفیسر ریمی کا کمال تھا۔ دوسروں کو ان کی اہمیت کا احساس دلانا۔ پھر ایک دن اچانک خبر ملی کہ پروفیسر ریمی اگلے ہفتے کالج چھوڑ کر جا رہے ہیں۔یہ خبر سن کرمجھے ایک دھچکا سا لگا۔ میری زندگی میں تو ان کا بہت دخل تھا‘ مجھے لکھنے پر انہوں نے مائل کیا میرا حوصلہ بڑھایا۔ ہماری کلاس نے فیصلہ کیا کہ پروفیسر ریمی کو الوداعی دعوت دیں گے۔ مجھے خیال آیا کہ انہوں نے ہی مجھے سدارتھا ناول تحفے میں دیا تھا‘لیکن انہوں نے اس پر کچھ نہیں لکھا تھا۔میں نے سوچا تھا کہ یہ کتاب بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گی اور اس پرا ن کے دستخط کراؤں گی۔ میں نے ناول اپنے بیگ میں رکھ لیا اور گھر کا دروازہ بند کر کے یونیورسٹی جانے لگی لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ میرے قدم رکنے لگے اور میں الٹے قدموں اپنے گھر واپس آگئی۔آج بھی سوچتی ہوں تو مجھے سمجھ نہیں آتی میں نے ایسا کیوں کیا۔ پھر مجھے خیال آیا وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ زندگی بہت Unpredictableہے۔ کل کا بھروسا نہیں۔ اس دن کے بعد میں نے پروفیسر ریمی کی کو کبھی نہیں دیکھا، کبھی نہیں ملی۔ اب اس بات کو ایک مدت گزر گئی ہے لیکن مجھے یوں لگتا ہے وہ تصور میں اب بھی میری زندگی کا حصہ ہیں۔یہاں پہنچ کر اچانک اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا اور بولی: اوہو‘ آٹھ بج رہے ہیں۔ پارکنگ میں میرے دوست آگئے ہوں گے۔ اس نے اپنی کمر پر بیگ رکھا، جوتوں کے تسمے باندھے اور اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ہم پھولوں کی دکانوں والے راستے پر چلتے ہوئے چوک تک آگئے۔اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا جہاں سیاہ بادلوں نے چھاؤنی ڈال رکھی تھی اور تیز ہوائیں چلنا شروع ہو گئی تھیں۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی ”اب میں چلتی ہوں۔ مجھے یقین ہے ہم ایک بار پھر ضرور ملیں گے۔ شاید کسی مزار پر، کسی درگاہ پر یا کسی ویران راستے پر۔ اس لیے کہ ہم دونوں تلاش کے نہ ختم ہونے والے راستے کے مسافر ہیں‘‘۔میں نے بلا سوچے سمجھے اقرار میں سر ہلایا اور اسے اپنی گاڑی کی جانب جاتے دیکھتا رہا۔ اب آسمان سے ہلکی پھوار برسنا شروع ہو گئی تھی اور ہوا میں تیزی آگئی تھی۔ بھِٹ شاہ کی رات میں ادھر ادھر چراغ جل رہے تھے اور میں تھکے تھکے قدموں سے پارکنگ کی طرف جا رہا تھا۔
Sor feedback: Please email on


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481