اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ساس کے ہاتھوں قتل ہونے والی زارا سات ماہ کی حاملہ تھی

5a519d90 a364 11ef bdf5 b7cb2fa86e10.jpg

سیالکوٹ کے قریبی شہر ڈسکہ میں ساس اور سگی خالہ کےہاتھوں بہو کےقتل کیس کی تحقیقات میں اہم موڑ آیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کی ساس ملزمہ صغراں کے ہمسایوں کا سی سی ٹی وی کیمرہ اور ڈی وی آر تحویل میں لیا گیا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج سےتصدیق ہوئی کہ مقتولہ زارا گھر سے باہر نہیں گئی تھی۔پولیس نے بتایا کہ بازار سے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی ہیں، فوٹیج سے تصدیق ہوتی ہے کہ نوید اور ملزمہ نے ٹوکہ اور چھری خریدی، تمام ویڈیوز فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کیلئے فرانزک لیب بھجوائی جائیں گی۔

 

دوسری طرف مقتولہ کے زیراستعمال 4 موبائل فون کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمہ صغراں ، بیٹی یاسمین اور نواسا عبداللہ مقدمہ میں گرفتار ہیں اور شناخت کیلئے خاتون کی لاش کے نمونے فرانزک لیب میں بھجوا دیےگئے ہیں ، ڈی این اے سے لاش کی حتمی شناخت کی جائے گی۔

 

قدیر سارے پیسے بیوی کے اکاؤنٹ میں بھجوانے لگا تو ساس اور بہو میں جھگڑے شروع ہوگئے۔

واضح رہے کہ ڈسکہ کے گاؤں کوٹلی مرلاں میں 2 روز قبل گھریلو ناچاقی پر سسرالیوں نے بہو کو قتل کیا اور لاش کے ٹکڑے کرکے بوری میں ڈال کر نالے میں پھینک دیا تھا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق گوجرانوالہ کے رہائشی پولیس اے ایس آئی شبیر احمد کی بیٹی زارا کی شادی 4 سال قبل خالہ زاد قدیر سے ہوئی تھی، سعودی عرب میں مقیم قدیر زارا کو بھی ساتھ لے گیا تھا تاہم زارا پاکستان آتی جاتی رہتی تھی اور اڑھائی سال قبل زارا کے بیٹے شافع کی پیدائش ہوئی۔شادی کے بعد قدیر سارے پیسے بیوی کے اکاؤنٹ میں بھجوانے لگا تو ساس اور بہو میں جھگڑے شروع ہوگئے۔

۔ڈیڑھ ماہ پہلے زارا پاکستان آئی تو ماں بیٹی نے لاہور کے رشتے دار نوجوان نوید کو اٹلی بھجوانے کا کہہ کر ساتھ ملا لیا، پولیس کے مطابق ملزمان نے زارا کو پہلے چہرے پر تکیہ رکھ کر قتل کیا اور پھر لاش کے ٹکڑے کیے جب کہ ملزمان نے شناخت چھپانے کے لیے چہرے کو آگ سے جلا دیا۔لاش 5 بوریوں میں ڈال کرملزم نوید واپس لاہور چلا گیا جب کہ ملزمہ صغراں نے بیٹی اور نواسے کی مدد سے بوریاں نالے میں پھینکیں۔زارا کے والد نے پولیس کو بیٹی کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی جس پر پولیس نے ملزمہ کے نواسے کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو اس نے سارا سچ اگل دیا۔

 

 

خاندان کو زارا کے قتل کی بھنک کیسے ملی ؟زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔

 

 

باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا مگر نمبر بند تھا ، وہ بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔

باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کے خالہ زاد قدیر سے کی شادی کی تھی اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، ہر ایک کے بیان میں تضاد تھا ، چناچہ زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا جس پر انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی۔ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔

جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔

زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ رکھتا ہے جبکہ اسے سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ، وہ خود زارا کو دیں ۔ انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے اٹلی بھی لے گیا اور کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے ۔۔ اور قصہ تمام کرکے الزام لگا دیں گے کہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ۔ لاہور سے کسی رشتے دار کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481