اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عمران خان نے 24 نومبر کو مارچ کی حتمی کال دے دی

عمران خان پی ٹی آئی رہنماؤں پر برس پڑے

 

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی حتمی کال دے دی ہے۔ اس بات کا اعلان عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ مطالبات کی منظوری تک واپسی نہیں ہوگی۔
اس حوالے سے وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ہماری تیاریاں پہلے سے ہی مکمل تھیں ،اب ہمارے لیڈر نے احتجاج کی تاریخ دے دی ہے تو بھرپور احتجاج ہوگا۔

اڈیالہ جیل کے باہر صافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد مارچ کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے، تاہم انہوں نے کمیٹی کے ارکان کے نام ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔ان کے بقول عمران خان کا کہنا تھا کہ نام اس لیے ظاہر نہیں کیے جا سکتے کہ پھر ان لوگوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔فیصل چوہدری کے مطابق عمران خان نے واضح کیا ہے کہ 24 نومبر کو احتجاج کا مرکز اسلام آباد ہوگا۔ احتجاج پاکستان بھر اور پوری دنیا میں ہوگا اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔

فیصل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ یہ احتجاج کی حتمی کال ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ 26 ویں ترمیم واپس لی جائے اور ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ بغیر ٹرائل گرفتار کیے گئے تمام لوگوں کو رہا کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں پی ٹی آئی کی پوری قیادت نکلے گی اور ساری پارٹی کو معلوم ہے کہ کس نے کیا کرنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتجاج ختم کرنے کا اختیار بھی کمیٹی کو ہوگا۔

 

گنڈاپور بھی کے پی کے قافلے کی قیادت کریں گے۔احتجاج پوری دنیا میں ہو گا

انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور حسب معمول قافلہ لے کر کے پی سے نکلیں گے۔
اس حوالے سے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ احتجاج کے لیے ہماری تیاریاں مکمل ہیں۔ اب واپسی نہیں ہوگی مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

عمران خان سے جیل میں ملاقات کے بعد علیمہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی جماعت کے تمام ارکان پارلیمنٹ، ذمہ داروں اور کارکنوں کے علاوہ قوم سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج کے لیے باہر نکلیں کیونکہ آٹھ فروری کو آپ انقلاب لائے تھے، آپ کو ووٹ سے روکنے کی کوشش کی گئی مگر آپ نے اپنا آئینی حق استعمال کیا اور ایلیٹ کلچر سے طاقت چھینی مگر اس کے بعد نو فروری کو سارا مینڈیٹ چوری کر لیا گیا اور من پسند لوگوں کو قومی اسمبلی میں بٹھایا گیا۔ پھر 26 ویں ترمیم اس کے نتیجے میں سامنے آئی ۔اس ترمیم کے ذریعے رول اف لا اور سپریم کورٹ کی آزادی چھین لی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وکلا کسانوں اور عوام سب کو مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کےملکودہ حالات پر آپ سب کو نکلنا ہوگا ۔وکیلوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں۔ اسی طرح سے سول سوسائٹی کو بھی باہر نکلنا چاہیے پی ٹی آئی کے ووٹرز، ایم این ایز، ایم پی ایز کارکنوں اور قیادت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ مارشل لا میں رہنا ہے یا ازاد ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج پاکستان سمیت پورے دنیا میں ہوگا اور مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا.

 

Imran Khan gave the final call for March on 24th November،عمران خان نے 24 نومبر کو مارچ کی حتمی کال دے دی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481