اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب…. یہ شعر اقبال کا نہیں

7ab59ffa bb12 46cb be3b 2e961256b60d

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

یہ شعر علامہ اقبال کا نہیں ، سید صادق حسین شاہ ایڈووکیٹ کا ہے، جن کی چار مئی 2024 کو
35 ویں برسی گزری ہے.

سید صادق حسین کاظمی یکم اکتوبر 1898 کو کشمیر کے موضع کھادر پاڑا میں پیدا ہوئے اور 4 مئی 1989ء کو وفات پائی۔ 1910 میں ان کا خاندان ہجرت کرکے ظفر وال ضلع سیالکوٹ میں آباد ہوگیا۔ "تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب” والی غزل 1918 میں روزنامہ "آفتاب” لاہور میں شائع ہوئی ۔سید صادق حسین کاظمی سیالکوٹ اور شکرگڑھ میں وکالت کرتے رہے.ان کا مجموعہ کلام "برگِ سبز” کے نام سے شائع ہوا.
ان کے دو بیٹے سید صفدر حسین کاظمی اور سید شوکت حسین کاظمی پاکستان کی بیورو کریسی میں اعلی’ عہدوں پر فائز رہے ۔

پیش ہے وہ پوری غزل
تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے
یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

کامیابی کی ہُوا کرتی ہے ناکامی دلیل
رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کے لیے

نیم جاں ہے کس لیے حالِ خلافت دیکھ کر
ڈھونڈ لے کوئی دوا اس کے بچانے کے لیے

چین سے رہنے نہ دے ان کو نہ خود آرام کر
مستعد ہیں جو خلافت کو مٹانے کے لیے

استقامت سے اٹھا وہ نالۂ آہ و فغاں
جو کہ کافی ہو درِ لندن ہلانے کے لیے

آتشِ نمرود گر بھٹکی ہے کچھ پروا نہیں
وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کے لیے

مانگنا کیسا؟ کہ تو خود مالک و مختار ہے
ہاتھ پھیلاتا ہے کیوں اپنے خزانے کے لیے

دست و پا رکھتے ہیں تو بیکار کیوں بیٹھے رہیں
ہم اٹھیں گے اپنی قسمت خود بنانے کے لیے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481