اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سیاسیاتِ حاضرہ (دورِ حاضر کی سیاست)

c645ec1c 6cdd 4608 a281 036148748020

 

گرچہ دانا حالِ دل با کس نگفت
از تو دردِ خویش نتوانم نہفت

اگرچہ سمجھدار آدمی اپنے دل کی بات کسی کو نہیں بتاتا
مگر میں تجھ سے اپنا درد چھپا نہیں سکتا۔

تا غلامم در غلامی زادہ ام
ز آستانِ کعبہ دور افتادہ ام

چونکہ میں غلام ہوں اور غلامی کے اندر پیدا ہوا ہوں
اس لیے آستانِ کعبہ (اسلام) سے دور جا پڑا ہوں۔

چوں بنامِ مصطفیٰ خوانم درود
از خجالت آب می گردَد وجود

جب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجتا ہوں
تو میرا وجود شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔

عشق میگوید کہ اے محکومِ غیر
سینۂ تو از بتاں مانندِ دیر

عشق مجھ سے کہتا ہے کہ اے غیر کے غلام
بتوں کی وجہ سے تیرا سینہ بتخانہ بنا ہوا ہے۔

تا نداری از محمد رنگ و بو
از درودِ خود میالا نامِ او

جب تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے (اخلاق عالیہ ) کا رنگ و بو اختیار نہیں کر تا
اپنے درود شریف سے ان کے نام کو آلودہ نہ کر۔

از قیامِ بے حضورِ من مپرس
از سجودِ بے سرورِ من مپرس

میری نماز کے قیام بے حضور کی بات نہ پوچھ اور میری سجود بےسرور کی بات نہ پوچھ۔

جلوۂ حق گرچہ باشد یک نفس
قسمتِ مردانِ آزاد است و بس

اللہ تعالیٰ کا جلوہ خواہ ایک لمحہ کے لیے ہو صرف مرد آزاد کو نصیب ہوتا ہے۔

مردے آزادے چو آید در سجود
در طوافش گرم رو چرخِ کبود

آزاد مرد جب سجدے میں گرتا ہے
تو یہ نیلا آسمان اس کے طواف میں سرگرم ہو جاتا ہے۔

ما غلاماں از جلالش بے خبر
از جمالِ لازوالش بے خبر

ہم غلام (ایسے آزاد مرد کے) جلال سے بے خبر ہیں اور (ایسے آزاد مرد کے) لازوال جمال سے نا آشنا ہیں۔

از غلامے لذّتِ ایماں مجو
گرچہ باشد حافظِ قرآں، مجو

ایسے غلام میں خواہ وہ حافظ ‍ قرآن ہو، ایمان کی لذّت تلاش نہ کر۔

مومن است و پیشۂ او آزریست
دین و عرفانش سراپا کافریست

غلام اگرچہ ایمان کا دعویدار ہے مگر اس کا پیشہ بت گری ہے
اس کا دین اور عرفان سراپا کافری ہے

در بدن داری اگر سوزِ حیات
ہست معراجِ مسلماں در صلوۃ

اگر تو اپنے اندر زندگی کا سوز رکھتا ہے
تَو تُو محسوس کرے گا کہ نماز میں مسلمان کی معراج ہے
( اسے نماز میں معراج کی سی کیقیت حاصل ہوتی ہے)۔

ور نداری خوں گرم اندر بدن
سجدۂ تو نیست جز رسمِ کہن

لیکن اگر تو اپنے بدن میں خون گرم (آتشِ یقین) نہيں رکھتا
تو تیرا سجدہ سواۓ ایک پرانی رسم کے اور کچھ نہیں۔

عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دین
عیدِ محکوماں ھجومِ مومنین

آزادوں کی عید سلطنت و دین کے شان و شوکت کا اظہار ہے
جب کہ محکوموں (غلاموں) کی عید صرف مومنوں کا ہجوم ہے

پس چہ باید کر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481