سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ میں پاگل نہیں ہوں۔۔جمعہ کے روز عدالت نے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اس ملک میں لوگ انصاف کے لیے رل رہے ہیں ،مجھے نو مئی کے کیس میں 94 میں سے کسی ایک گواہ نے بھی شناخت نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں نہ جمہوریت ہے نہ قانون اور نہ انصاف۔ہم دوسرے ملکوں کے الیکشن پر تو تبصرے کرتے ہیں لیکن اپنے ملک کی بات کوئی نہیں کرتا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز سمیت لیگی قیادت پورے ملک کو سموگ میں چھوڑ کر خود پاکستان سے چلے گئے ہیں۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں کئی بار درخواست کر چکا ہوں کہ غریب لوگوں پر مقدمات ختم کر کے انہیں عام معافی دے دی جائے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حکومت کو چیف جسٹس یحیی آفریدی ہی لے ڈوبیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اکانومی سنبھلی نہیں ہے ،ابھی تک حکومت کو ایک ملین ڈالر بھی نہیں ملا۔اسی لیے یہ کبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ چکر لگا رہے ہیں۔ابھی آئی ایم ایف کی ٹیم بھی پاکستان آرہی ہے اور سنا ہے کہ منی بجٹ بھی آنے والا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکولوں سے اٹھا رہے ہیں۔ اس سال داخلے کتنے کم ہوئے ہیں اس حوالے سے میں الگ سے پریس کانفرنس کروں گا۔داخلہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے صرف 18 سے 20 فلس فیصد بچیوں نے کالج میں داخلہ لیا ہے۔
شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ وہ تو پہلے سے کہہ رہے تھے کہ ٹرمپ جیتے گا ۔پاکستان میں بھی عمران خان کو غیر مقبول کرنے کی جتنی کوششیں کی جا رہی ہیں سب ناکام ہوں گی۔ یہ حکومت لگتا نہیں کہ سال پورا کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی عوام میں اپنی جگہ نہیں بنا سکیں ،البتہ مولانا فضل الرحمن نے خود کو اپ گریڈ کیا اور اپنی جگہ بنائی ہے۔
