اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عمران خان نےٹرمپ سے امیدیں وابستہ کرنےکا تاثر مسترد کر دیا

عمران خان نےٹرمپ سے امیدیں وابستہ کرنےکا تاثر مسترد کر دیا

اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی  کے بانی چیئرمین عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کے دیا کہ وہ نئے امریکی صدر سے اپنی رہائی کی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں.

 

 

جمعرات کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نےکہا کہ مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ کم از کم نیوٹرل ہوں گے اور جو بائیڈن کی طرح نہیں ہوں گے جنہوں نے باجوہ کی طرف  میرے خلاف حسین حقانی کے ذریعے  کی گئی لابنگ پر یقین کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ میری رہائی کا معاملہ امریکہ سے نہیں بلکہ پاکستان میں ہی مکمل ہوگا۔

 

اس موقع پر عمران خان کہ کہنا تھا کہ میں اپنی دو غلطیاں تسلیم کرتا ہوں ،ایک تو جنرل باجوہ کو ملازمت میں توسیع دینا میری سب سے بڑی غلطی تھی جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ کمزور اتحادی حکومت لینے کی بجائے مجھے دوبارہ انتخابات کرانے چاہیئے تھے۔

ایک سوال پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت برائے نام رہ گئی ہے ۔ عدلیہ ایک جمہوری ملک میں آزادی کی ضمانت ہوتی ہے جو اب نہیں ہے۔حقیقی جمہوریت کے لیے صاف شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، قانون کی بالادستی اور احتساب کا ہونا ضروری ہوتا ہے ورنہ انتخابات کا ڈھونگ تو ڈکٹیٹر بھی رچاتے ہیں۔اس کے علاوہ ملک کے میڈیا پر اس وقت مکمل سنسر شپ ہے۔ میں نے اخبار دیکھے ہیں ان میں میرا کوئی بیان نہیں چھپتا۔

 

بنی پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت نے آئین میں ترمیم کرکے سپریم کورٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے- اب جو مرضی ناانصافیاں کریں ، کوئی نہیں پوچھے گا۔ یہ ساری قانون سازی غیر آئینی پارلیمنٹ ، غیر آئینی صدر، غیر آئینی وزیراعظم اور اس فارم 47 کی پیداوار نظام کو استعمال کر کے کروائی ہےجس کا مقصد صرف پاکستان کی عوام کے حقوق کو سلب کرنا ہے۔

انہوں نےالزام لگایا کہ موجودہ آرمی چیف اس ناجائز حکومت کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ حکومت نے مینڈیٹ پر مارے گئے ڈاکے کو تحفظ دینے کے لیے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی ہے۔ یہ انتہائی اہم معاملہ تھا اور اس پر کوئی قانونی بحث کیے بغیر قانونی سازی کر دی گئی۔

 

قیادت کو  احتجاجی تحریک کی تیاری کا پیغام

 

اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ میں اپنی ساری پارٹی بالخصوص قیادت کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ احتجاجی تحریک کی تیاری کریں جس کی قیادت جوائنٹ لیڈرشپ کرے گی ۔ جو ٹکٹ ہولڈر یا عہدیدار احتجاج میں شرکت نہیں کرے گا اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہم اس کو اگلے الیکشن میں ٹکٹ دیں گے۔

قوم کو یہ پیغام ہے کہ اپنے حقوق اور آزادی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے،حقیقی آزادی اور آزاد عدلیہ کے لئے سب کو کھڑا ہونا پڑے گا ۔ ڈنڈے کے زور پر یہ حکومت نہیں چلائی جا سکتی ۔ میں پچھلے سولہ ماہ سے جیل میں ناحق قید ہوں۔ اگر ہم آج ان کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے تو پاکستان میں جمہوریت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481