اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"راشد عباسی”، "رنتن” اور "سیتا زینب”

FB IMG 1724424150716 1

راشد عباسی، رنتن اور سیتا زینب

سندھی زبان کے بے پناہ مقبول ناول "سیتا زینب” کا یہ پہاڑی ترجمہ انجمن فروغ پہاڑی زبان کے زیر اہتمام ،،آواز پبلی کیشنز نے راولپنڈی سے شائع کیا ہے۔ مترجم ہمارے عزیز دوست اور اپنی مٹی سے جڑی دانش کے رمز شناس راشد عباسی ہیں ۔  اس کا سال اشاعت 2024 ہے۔

راشد عباسی مادری زبانوں، مقامی بولیوں، لہجوں اور محاوروں کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو کسی عمومی ٹرینڈ اور گلیمر کے بغیر ہی کرنا ہوتا ہے۔ بے پناہ اہمیت کے باوجود اس کام میں عمومی سماجی دلچسپی کم ہوتی ہے۔ یہاں شعور کی سلامتی اور دھرتی سے گہری وابستگی ہی محرک ہوتی ہے۔ راشد عباسی اور ان کے دوست یقینا اس گہرے احساس کے ساتھ جڑے اپنا کام کر رہے ہیں۔

IMG 20240820 WA0198
رنتن کا شمارہ نمبر پانچ پہاڑی افسانہ نمبر ہے۔ انتساب علی عدالت کے نام ہے۔ دیباچہ کریم اللہ قریشی نے خوب لکھا ہے۔  انتخاب میں علی عدالت، ڈاکٹر صغیر خان، محبت حسین اعوان، ڈاکٹر مرزا فاروق انوار، خان سعادت اکبر خان، ممتاز غزنی، عبدالواحد منہاس، میر حیدر کریم، زبیر احمد قریشی اور راشد عباسی کے افسانے شامل ہیں۔

افسانوں کے عنوان سے آپ کو کہانیوں کی مقامی اہمیت اور سماجی شعور کا اندازہ ہو جائے گا۔ یوبا چوہدی، چھمیک، دُوآ جنم، ڈاہڈا چلہ، نائیں اُپر بٹی، وغیرہ۔۔۔

پہاڑی افسانوں کے ساتھ ساتھ اس شمارے میں دو پہاڑی افسانوں کا اردو ترجمہ بھی پیش کیا گیا ہے۔  جب کہ خاص سوغات کے عنوان کے تحت راشد عباسی نے تین اردو افسانوں کا پہاڑی ترجمہ بھی شامل اشاعت کیا ہے۔ ان میں معروف کہانی کار محمد الیاس کی "وارے نی عورت” ، "مشرق تے مغرب نیں پگھیاڑ” از زیب سندھی اور اختر رضا سلیمی کی ” کہانی جیہڑی لخی نیہی گچھی سکی” شامل ہیں.

اس افسانوی انتخاب کے افسانوں میں پنڈ وال، پوٹھوہار اور پہاڑ کے ساتھ پیر پنجال کے دامن میں سانس لیتی کہانیوں کے کردار بھی نظر آتے ہیں۔ جن میں کہیں کہیں حملہ آوروں کے تمدن کی باقیات بھی دکھائی دیتی ہیں۔

 

غزل اور مشاعرے کے سماج میں ناول کی طرف رجحان کم ہے۔ لیکن سائبر اور ورچول سماج کے باوجود اب جدید اور حساس موضوعات پر لکھا لٹریچر خصوصی ناول کی طرف لکھاریوں، ناشرین اور قارئین کا دھیان دکھائی دیتا ہے۔ سیتا زینب ہمارے سماج کا وہ معصوم کردار ہے جس کو ہمیشہ سماج کی دستار فضیلت پر قربان کیا گیا۔

ناول کی فضا میں روحوں پہ تانے خنجر اور بے بسی کی آخری حدوں کو چھوتی آنکھوں کے دکھ ہیں۔ حیرت ہے ۔۔۔ انسان مہذب ہے!!

راشد عباسی اور انجمن فروغ پہاڑی زبان کے دوستوں کے لیے محبتیں۔۔۔

خیر زمان راشد ۔۔۔۔۔۔ مظفر آباد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481