اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مسلح افواج مطلوب ملزم کوحراست میں رکھ سکیں گی۔ترمیمی بل پیش

قومی اسمبلی اجلاس،مخصوص نشستوں پر منتخب 4افراد نے حلف اٹھا لیا

وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں مزید ترمیم کا بل پیش کر دیا۔

جمعہ کے روز سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر قانون نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل پیش کیا جسے غور کے لیے کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔مجوزہ ترمیم میں تجویز کیا گیا ہے کہ مسلح افواج اور سول مسلح افواج کو جرائم میں ملوث کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار ہوگا جبکہ ملکی سلامتی، دفاع اور امن عامہ کے حوالے سے جرائم پر سیکیورٹی ادارے تین ماہ تک حراست میں رکھ سکیں گے۔

مجوزہ ترمیم میں مزید کہا گیا ہے کہ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان سے متعلق جرم پر تین ماہ تک زیر حراست رکھا جاسکے گا جبکہ جرائم میں ملوث شخص کو تین ماہ سے زائد حراست یا نظربندی کے دوران شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے گا۔کسی بھی ملزم کی تین ماہ سے زائد نظربندی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ہو سکے گی۔

بل میں کہا گیا ہے کہ جہاں مسلح افواج یہ سول مسلح افواج کسی شخص کو زیر حراست رکھنے کا حکم دیں وہاں جے آئی ٹی تحقیقات کرے گی۔جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم میں پولیس ،انٹیلیجنس ادارے ،سول مسلح افواج اور مسلح افواج قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے لائی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین کے نام ای سی ایل میں ہونے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے ایک طریقہ کار موجود ہے جبکہ عبوری فہرست میں نام شامل کرنے کے لیے رولز بنائے جا چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ای سی ایل قانون کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے فیصلے بھی موجود ہیں ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے اس پر نظر ثانی کی جاتی ہے اور جائزہ لے کر کئی نام نکالے بھی گئے ہیں

The armed forces will be able to keep the wanted accused in custody،مسلح افواج مطلوب ملزم کو حراست میں رکھ سکیں گی۔ترمیمی بل پیش

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481