اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نئی ترمیم نہیں کرنے دیں گے.فضل الرحمان اعلان

27 ویں ترمیم نہیں آئے گی بھرپور مزاحمت کریں گے: فضل الرحمان

حکومت نے ایک اور آئینی ترمیم لانے کی تیاری کرلی، پریکٹس پروسیجر ایکٹ میں ترمیم منگل تک کرائی جائے گی۔ دوسری جانب جس پر مولانا فضل الرحمان نے بھر پور مزاحت کا اعلان کیا ہے اور کا ہے کہ مزید ترامیم قبول نہیں کریں گے.

تفصیلات کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم لانے کا فیصلہ کرلیا۔ ترمیمی بل کے ذریعے سپریم کورٹ ججز کی تعداد میں اضافہ کرنے کی تجویز دی جائے گی، اس سلسلے میں حکومت نے ترمیمی ایکٹ منگل تک ترمیمی بل منظور کرانے کی تیاری کرلی ہے۔ ن لیگ رکن پرائیوٹ ممبر ڈے پر ترمیمی بل ایوان میں پیش کریں گے، ذرائع نے بتایا کہ ایوان میں پی پی ، ن لیگ اور ایم کیو ایم اراکین کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

 

 

ن لیگ ، پی پی پی اور ایم کیو ایم قیادت نے اراکین کو ہدایت جاری کردیں

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ ، پی پی پی اور ایم کیو ایم قیادت نے اراکین کو ہدایت جاری کردیں۔ یاد رہے رواں سال ستمبر میں صدر مملکت آصف زرداری پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد اب یہ قانون بن گیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے آرڈیننس کی منظوری دی تھی۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر 27 ویں آئینی ترمیم لائی گئی تو بھرپور مزاحمت کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن میں ہوں، حکومت میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ قومی حکومت کی کسی تجویز کا ہمیں کوئی علم نہیں۔ 27 ویں ترمیم نہیں آنے دینگے، اگر لائی گئی تو بھرپور مزاحمت کرینگے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کا جو مسودہ فائنل ہوا، اس سے کیا کامیابی ملی خود اندازہ لگالیں۔ آئینی ترمیم کی 56 کلاز تھیں۔ اصل ڈرافٹ کچھ جب کہ جو فائنل ہوا، اس میں فرق تھا۔ اب آئینی بحران کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اصولی طور پر کسی بھی سیاستدان کے خلاف مقدمات اور جلسے جلوسوں پر تشدد، سیاسی ورکرز کی گرفتاریوں کے قائل نہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اچھا وقت گزارا۔ نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خوش آمدید کہتا اور ان کے لیے دعا گو ہوں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481