اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

محمد آصف مرزا کی "کھلا ہے بابِ سخن” پر ایک نظر

FB IMG 1708768696702 1

’’کھلا ہے بابِ سخن‘‘… پر ایک نظر

 

’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘ اصل ہو یا جعلی… جس طرح بلوچ سیاسی رہنما اسلم رئیسائی کے یہ الفاظ ’’قبول عام‘‘ کا درجہ حاصل کر چکے ہیں، ایسے ہی یہ امر بھی اظہر من الشمس ہے کہ ’’پہاڑ پہاڑ ہوتے ہیں‘‘۔  یہ پہاڑوں کا کمال ہوتا ہے کہ ان کی بلندی، فراخی، کشادگی اور مضبوطی اپنے دامن میں رہنے بسنے والی ہر چیز، چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان، میں یوں رچ بس جاتی ہے کہ ان کا ’’پہاڑپنا‘‘ ظاہر باہر ہوت ہے۔ زندگی کے دیگر مظاہر کو ایک جانب رکھ کر اگر ہم ادب و لسان کی بات کریں تو ہمیں صاف معلوم ہو گا کہ ’’پہاڑوں‘‘ اور ’’پہاڑیوں‘‘ کے ہاتھوں تخلیق ہونے والا ادب، چاہے وہ صنفی اور نوعیتی اعتبار سے جو بھی ہے، ایک خاص شان اور انفرادیت کا حامل ہوتا ہے۔
جس طرح ’’مری‘‘ پہاڑوں میں اپنی علاحدہ شناخت رکھتا ہے ایسے ہی محمد آصف مرزا پہاڑ پر رہ بیٹھ کر جو کہہ لکھ رہے ہیں وہ اپنے اندر قدرتی حسن اور فطری بانکپن کے وہ سارے خصائص سموئے ہوئے ہے جو مری ایسے شاداب پہاڑ اور اس کے حسین ماحول و منظر کی دین و عطا ہو سکتے ہیں۔

IMG 20240819 181024 26
محمد آصف مرزا، شاعر و ادیب ہیں تو مدیر اور مدون بھی۔ ’’دستک‘‘ ان کی مدیرانہ مہارت کا وہ حسین ثبوت ہے جو ان کے خصائل کا بھرپور اظہار ہے۔ مدون کے طور پر وہ ’’منظر پاکستان‘‘ کے اور ’’مری کے رنگ ہزار‘‘ جیسی تصانیف کو خوبصورت روپ دے چکے ہیں۔ جبکہ ادبی منتظم کی حیثیت سے وہ مری لٹریری سرکل، مری آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک کو سنوار چکے ہیں۔ محمد آصف مرزا کی شخصیت کا سب سے قابل لحاظ پہلو ان کا تخلیقی عمل ہے۔ اس باب میں ’’ستارہ ہے خاک پر‘‘ اور ’’صدا پانی کی‘‘ وہ قابل لحاظ شاعری ہے جو اپنے اندر مری جیسی شادابی، وہاں کے جھرنوں جیسا ترنم اور وہاں کی فضاؤں جیسی پاکیزگی اور وسعت سموئے ہوئے ہے۔ نثری میدان میں ’’کھلا ہے باب سخن‘‘ آصف مرزا کی وہ نثری کاوش ہے جو اپنے اندر معنویت اور ادبیت کے کئی پہلو رکھتی ہے۔ یہ ایک نوع کے تنقیدی یا تاثراتی مضامین ہیں جو مختلف اہل قلم اور ان کی تخلیقات کا خوبصورت محاکمہ ہے۔ اس تصنیف میں 26 مضامین شامل ہیں، جن میں سے اکثر مری لٹریری سوسائٹی و آرٹس کونسل مری کی تقریبات میں پڑھے گئے ہیں۔
شاہد بخاری کی ’’تعلیمات قرآنی‘‘ اور مولانا ظفر الاسلام سیفی کے ’’حرم کا راہی‘‘ سے متعلق تاثراتی تحریروں سے آگے نکلیں تو ہمارے سامنے ’’نعت کہتا رہوں‘‘، جو صدام سالک مدنی کی تخلیق ہے،  سے متعلق معلومات بھرا مضمون آتا ہے۔ مضمون میں ابتداً ’’نعت‘‘ کے حوالہ سے شافی حقائق ہیں تو پھر صدام سالک کی شعری صلاحیت اور نعت گوئی کا تجزیہ خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ’لطیف کاشمیری‘ جو مری کی ادبی دنیا کا ایک اہم ترین حوالہ ہیں، کے بارے میں آصف مرزا کی کہی لکھی باتیں اس قابل لحاظ شخصیت سے متعلق جانکاری کا بہت سا سامان کرتی ہیں۔ لطیف کاشمیری جو معروف ادیب حمید کاشمیری کے لنگوٹیے تھے، ایک صاحب طرز افسانہ نگار ہوئے ہیں۔ آصف مرزا نے ان کی تخلیقی شخصیت کا دلنشیں احاطہ کیا ہے۔ سرفراز شاہد معروف مزاح گو شاعر ہوئے ہیں۔ ان سے متعلق تحریر اپنے اندر بہت کچھ سلیقے سے سموئے ہوئے ہے۔ سلیم شوالوی، مری کی ادبی تاریخ کا روشن ترین ستارہ ہیں۔ آصف مرزا نے سلیم شوالوی کو بہت محبت، احترام اور ہنرمندی سے یوں لکھا ہے کہ ایک چلتا پھرتا مرقع نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔ حلیم قریشی اُردو غزل کا ایک معتبر نام ہے۔ آصف مرزا نے ان کی غزل کو پوری مہارت سے موضوع بنایا ہے اور موضوع سے بھرپور انصاف بھی کیا ہے۔ اسی طرح سعود عثمانی جو اُردو غزل میں اپنی شناخت رکھتے ہیں، سے متعلق آصف مرزا کی تحریر بامعنی اور وزن دار ہے۔ اسی طرح خالد اقبال یاسر کی غزل کا خوبصورت تجزیہ کرتے ہوئے آصف مرزا نے پوری فنی چابکدستی کا مظاہرہ کیا ہے جو بہرحال قابل قدر عمل ہے۔ سید عارف کی باغیانہ غزل کو سرنامہ بناتے ہوئے آصف مرزا نے پھر اپنے اوصاف کو یوں سامنے لایا ہے کہ قاری طمانیت محسوس کیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ’’حالی اور سید ضیاء الدین نعیم‘‘ نامی تحریر بھی اپنی جگہ بے مثال ہے تو ’’یہ عشق‘‘ کے تناظر میں ڈاکٹر فرحت عباس کی غزل کا ’’پوسٹمارٹم‘‘ بھی بہت سوادلا ہے۔ علی عارفؔ کے عکس آواز کی عکسی ریزی ہو، آصف مرزا نے کہیں بھی اپنا ہاتھ ہولا پڑنے دیا ہے نہ سانس پھولنے دی۔ اسی طرح شہزاد بیگؔ کی ’’تہمت‘‘ دکھانی سمجھانی ہو یا پھر محترمہ نعیم فاطمہ علوی کے سفرنامے ’’دیارِگنگ و جمن‘‘ کو انتقاد کی سان پر گزارنا ہو، ہر جگہ ’’انصاف‘‘ اور ’’اعتراف‘‘ کا خوبصورت سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔ احمد زمان لون کو یاد کرنے کا مرحلہ ہو یا احمد بشیر احمد کے ’’بانسرہ گلی سے سائبیریا تک‘‘ جانا ہو، آصف مرزا نے پہاڑی شہزادہ ہونے کے ناطے اپنی ’’پختگی‘‘ کو بہرحال برقرار رکھا ہے۔ ’’تم سے کہنا تھا‘‘ کا جائزہ ہو یا ’’کوہ مری کا ادبی ہیرہ‘‘ دکھانا ہو یا پھر اشفاق کلیم عباسی کی ’’ساعت دید‘‘ کا دیدار مقصود ہو۔ آصف مرزا نے اپنے علم، ذوق اور شعور کی تکون کو جس سلیقے سے سجایا ہے اس سے ایک سماں بندھ گیا ہے۔ اب باری ہے راشد عباسی کی ’’عشق اڈاری‘‘ کی، یہاں بھی آصف مرزا کلانچیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اظہر راجہ کی شاعری اور امجد بٹ کی مہم جوئی کو آصف مرزا نے ’’کاریگرانہ‘‘ انداز میں سامنے لایا ہے۔
آصف مرزا کی تحریروں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ محقق سے زیادہ ایک ’’محب‘‘ ہیں جن کی گھٹی میں ادب فہمی اور ادب پروی بھری پڑی ہے۔ وہ اصل ادب کو جانتے ہیں اور دوسروں تک پہنچانے کا حوصلہ اور ہنر بھی رکھتے ہیں۔
آصف مرزا چونکہ خود تخلیق کار ہیں۔ اسی لیے ایک نقاد کے طور پر ان کا رویہ حاکمانہ و جابرانہ نہیں بلکہ شفیقانہ سا رہتا ہے۔ وہ ایک صاحب مطالعہ شخص ہیں اور غالباً ’’دبستان لاہور‘‘ سے ان کی قربت ’’اختیاری یا بے اختیاری‘‘ طور پر کچھ زیادہ ہے، ان کے اس رخ نے ان کی ادبی شخصیت کو مزید اعتبار عطا کیا ہے۔
’’کھلا ہے بابِ سخن‘‘ میں مری سے متعلق اہل ادب کو عددی فوق حاصل ہے۔  یوں یہ اس شاداب علاقے و پہاڑ سے متعلق جانکاری کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو لطیف انداز میں تاریخ فہمی کی راہ پر لے جاتا ہے۔ آصف مرزا کی زبان ادبیت کی چاشنی کا بھرپور مزہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کی تحریر رواں اور دل پسند ہے اور اس میں کہیں بھی ’سکہ بند نقادوں‘ ایسا بوجھل پن دیکھنے کو نہیں ملتا۔
’’کھلا ہے بابِ سخن‘‘ میری دانست میں ’’مری شناسی‘‘ کی ایک کلید ہے اور ادبی تعویذ بھی، جو ’’اختیار‘‘ کرنے والے کے لیے یقینا شافی ہو سکتا ہے۔ آصف مرزا، مری کے وسنیک ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ مرزا ہے جو مری کی گلیوں، کھائیوں پہاڑیوں میں مدتوں پھرا گرا ہے اور پھر یہاں سے رس ’کشید‘ کر کے اس نے باب سخن یوں کھولا ہے کہ ایک چمن کھل گیا ہے… اللہ اسے سدا ہرا بھرا رکھے…

 

ڈاکٹر محمد صغیر خاں ۔۔۔ راولاکوٹ 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481