اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قاسم رونجھوکااخترمینگل پرزبردستی پریس کانفرنس کرانےکا الزام

بی این پی سینیٹر قاسم رونجھو وہیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچے

26 ویں آئینی ترمیم کے لیے پارٹی پالیسی کے برخلاف ووٹ دینے والے بی این پی کے سینیٹر قاسم رونجھو نے پریس کانفرنس میں دیے گئے بیان کی چند گھنٹے بعد مکر گئےاور الزام لگایا کہ جو کچھ پریس کانفرنس میں کہا وہ پارٹی سربراہ کی جانب سے زبردستی کہلوایا گیا۔مجھ پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔

 

ویڈیو بیان میں انہوں نے کہ میں گزشتہ 15 روز سے اپنے گھر پر تھا اور میں نے اپنی مرضی سے ووٹ دیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی سربراہ اختر مینگل اور دیگر افراد نے ان سے زبردستی پریس کانفرنس کرائی اور لکھے ہوئے الفاظ پڑھوائے کہ مجھے اٹھا لیا گیا تھا۔یہ ساری باتیں جھوٹ ہیں۔واضح رہے کہ بی این پی مینگل کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو نے اپنے پارٹی سربراہ کی ہدایت پر منگل کے روز سینٹ کی رکنیت سے استعفی دے دیا اور اپنا استعفی سینٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا۔وہ سینٹ میں بی این پی مینگل کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں۔

بی این پی سینیٹر قاسم رونجھو وہیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچے

بی این پی سینیٹر قاسم رونجھو وہیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچے..فائل فوٹو

 

اتوار کو 26 ویں آئینی ترمیم پر سینٹ میں ہونے والی ووٹنگ پر بی این پی مینگل کی سینیٹر نسیمہ احسان اور قاسم رونجهو نے فلور کراسنگ کرتے ہوئے پارٹی پالیسی کی برخلاف ووٹ دیا تھا جس کے بعد سردار اختر مینگل نے دونوں منحرف سینٹرز سے استعفے طلب کیے تھے.واضح رہے قبل ازیں پارٹی سربراہ اختر منگل کے ہمراہ پریس کانفرنس میں قسم رونجھو کا کہنا تھا کہ اُنھیں چھ دن کیلئے ‘مہمان’ بنایا گیا اور ترمیم کیلئے ووٹ دینے کیلئے دباؤ ڈالا گیا.انہوں نے اس حوالے سے کسی کا نام لیے بغیر "زور آوروں” کا حوالہ دیا.

 

جب سب کچھ ہوجاتا ہے تو زبردستی پریس کانفرنس کروائی جاتی ہے حد ہے !

بعدازاں  قاسم رونجھو کے بیٹے جہانزیب رونجھو نے کہا ہے کہ میرے والد کو استعفے کے لیے زبردستی سینیٹ لایا گیا، میرے والد پہلے ہی استعفیٰ دے چکے تھے، طویل عرصے سے پارٹی کے لیے قربانیاں دینے والے کارکن کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی پارٹی قیادت سے توقع نہیں تھی۔منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک ٹویٹ میں میں بی این پی کے مستعفی سینیٹر قاسم رونجھو کے بیٹے جہانزیب رونجھو نے لکھا کہ میرے والد محترم بی این پی کے بنیادی رہنما سابق سینیٹرمحمد قاسم رونجھو کو پہلے ایک پالیسی کے تحت خبروں کی زینت بنایا گیا جب ہماری بات چیت ہوئی تو یہ معاملہ ختم ہوا۔پارٹی کو ہر فورم پر سپورٹ کرنے والا بیماری کی حالت میں بھی ہمہ وقت پارٹی کے ہر حوالے سے سپورٹ کرنے والے کو ایک عام فرد سمجھ کر کبھی استعفیٰ نہ دینے کا کہا جاتا ہے کبھی دینے کے لیے پابند کیا جاتا ہے جب سب کچھ ہوجاتا ہے تو زبردستی پریس کانفرنس کروائی جاتی ہے حد ہے !

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481