اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آئینی ترامیم میں عدلیہ سے متعلق اہم نکات کیا ہیں؟

منی بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد آئینی ترامیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے ،اس پیکیج میں عدلیہ سے متعلق کیا ترامیم کی گئی ہیں اس حوالے سے اہم نکات سامنے آگئے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی کا رہی ہے.

1.. جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا، آئینی بینچز میں تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کیے جائیں گے اور آرٹیکل 184 کے تحت ازخود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کے پاس ہوگا۔

2.. آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچزکے دائرہ اختیارمیں آئیں گے، چیف جسٹس کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پرکیا جائے گا اور پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس کا تقرر کرے گی۔

3.. کمیٹی کی سفارش پرچیف جسٹس کیلئےنام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے، کسی جج کے انکارکی صورت میں اگلے سینیئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا

4…چیف جسٹس کے تقرر کے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنے گی جس میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کو متناسب نمائندگی ملےگی، اس کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی اور 4 ارکان سینیٹ سے ہوں گے،

5..چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت 3 سال ہوگی۔چیف جسٹس کے لیے عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی۔

6… آرٹیکل184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طورپرکوئی ہدایت یا ڈیکلیئریشن نہیں دے سکتی، آرٹیکل186 اےکےتحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے کسی بھی کیس کوکسی دوسری ہائیکورٹ یا اپنے پاس منتقل کرسکتی ہے، ججز تقرری کمیشن ہائیکورٹ کے ججزکی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

7..آئینی پیکج کےمسودے میں آئینی بینچ تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مسودے کے مطابق جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اورججزکی تعداد کا تعین کرے گا، آئینی بینچز میں جہاں تک ممکن ہوتمام صوبوں سے مساوی ججزتعینات کیے جائیں گے، آرٹیکل 184 کے تحت ازخود نوٹس کا اختیار آئینی بینچزکے پاس ہوگا۔

8.. آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچزکے دائرہ اختیارمیں آئیں گے، آئینی بینچ کم سے کم پانچ ججز پر مشتمل ہوگا، آئینی بینچز کے ججز کا تقرر تین سینئر ترین ججز کی کمیٹی کرے گی، چیف جسٹس کا تقررخصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا اور سپریم کورٹ کے ججز کا تقرر کمیشن کرے گا۔

9.. چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن میں 4 سینئرترین ججز شامل ہوں گے، وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل بھی کمیشن کے ارکان ہوں گے، کم سے کم 15 سال تجربے کا حامل پاکستان بارکونسل کا نامزد کردہ وکیل 2 سال کیلئے کمیشن کا رکن ہوگا، دو ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان سینیٹ کمیشن کا حصہ ہوں گے اور سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ کی اہلیت کی حامل خاتون یا غیرمسلم کو بھی 2 سال کے لیے کمیشن کا رکن بنایا جائےگا۔

10..آئینی مسودہ میں آرٹیکل 48 میں ترمیم تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق وزیراعظم یا کابینہ کی جانب سے صدرکو بھجوائی گئی ایڈوائس پرکوئی عدالت،ٹریبونل یا اتھارٹی سوال نہیں اٹھاسکتی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481