راولپنڈی کے نجی کالج میں توڑ پھوڑ کرنے والے 150 طلبہ گرفتار کر لیے گئے.
جمعرات کے روز راولپنڈی میں مشتعل طلبا نے نجی کالج میں توڑ پھوڑ کر کے تباہی مچا دی.واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی وضاحت اور تردید کے باوجود پنجاب کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کو بنیاد بنا کر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
راولپنڈی میں سکستھ روڈ کے قریب مشتعل طلبہ نے نجی کالج پردھاوا بول دیا، طلبہ کی بڑی تعداد نے نجی کالج میں گھس کر بسوں کے شیشے توڑ دیئے، عمارت ، دفاتر اور کینٹین میں توڑ پھوڑ کی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ طلبا نے کالج کا قیمتی سامان سڑک کے بیچ میں رکھ کر جلایا، مرکزی گیٹ توڑا اور پتھراؤ بھی کیا۔
ڈھوک گنگال میں کالج کے باہر طلبا نے آگ لگاکر سڑک بلاک کردی، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیل برسادیے، شدیدشیلنگ کی وجہ سے شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات پیش آئیں۔ احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث سکستھ روڈ سے صدیقی چوک جانے والی سڑک بند ہوگئی تاہم راولپنڈی اور اسلام اباد پولیس نے نجی کالج میں پھنسے 80 سے زائد کالج کے اسٹاف کو بحفاظت نکال لیا۔
بعدازاں پولیس نے احتجاج اور توڑ پھوڑ میں ملوث ایک سو پچاس سے زائد طلبا کو حراست میں لے لیا، جن کی شناخت کاعمل شروع کردیا گیا ہے۔ ترجمان راولپنڈی پولیس نے بتایا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے اور ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق عدالت سے قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ یا کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی قابل برداشت نہیں، ساتھی طلبا، اساتذہ اور شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
