کراچی بار ایسوسی ایشن کے تحت آل پاکستان وکلا کنونشن نے آئینی عدالت اور دیگر ترامیم مسترد کر دیں .وکلا کنونشن میں آئینی ترمیم کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا گیا.
کنونشن میں لاہور ہائی کورٹ بار، بلوچستان ہائی کورٹ بار، اسلام آباد ہائی کورٹ بار سمیت ملک بھر کی بار کونسلز کے وفود نے شرکت کی ۔ سٹی کورٹ کراچی میں منعقدہ کنونشن سے ملک بھر کے ممتاز وکلا رہنماوں حامد خان، عابد زبیری ، وکیل رہنما منیر اے ملک، علی احمد کرد،بیرسٹر صلاح الدین ، وائس چیئرمین سندھ بار کونسل کاشف حنیف سمیت دیگر نے خطاب کیا ۔
آئینی عدالت وکیلوں کی لاشوں کے اوپر سے گزرکر بنانا پڑے گی.حامد خان
اس موقع پر حامد خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے حکومت میں آجاتا ہے کبھی کوئی ۔ جس رات آئینی ترمیم کرانے کی کوشش کی گئی، اس کا مسودہ وزیر اعظم کے پاس بھی نہیں تھا، انہوں نے کہا میں اس قاضی فائز عیسیٰ کو سپورٹ کرتا تھا، جس نے ملٹری کورٹ کے خلاف فیصلہ دیا ، جس نے کہا تھا ججز اور جرنیلوں کو پلاٹ نہیں ملنےچاہیے ،میں سمجھتا تھا ایک مختلف جج آنے والا ہے، افسوس کی بات ہے وہ آج کہاں کھڑے ہیں، ہمارے لیے یہی سپریم کورٹ فیڈرل کورٹ ہے یہی اعلیٰ کورٹ ہے ،آئینی عدالت وکیلوں کی لاشوں کے اوپر سے گزرکر بنانا پڑے گی ،ابھی مجھے پتہ چلا ہے کہ آئینی عدالت کے ججوں کے انٹرویوز چل رہے ہیں، وہ وکیل نہیں ٹاؤٹ ہیں، اگر کھڑے نہیں ہوسکتے تو اس کالے کوٹ کو جلادیں ، وکلا اس قسم کی ترمیم کو نہیں آنے دیں گے، کراچی بار ہمیشہ آئین وقانون کے ساتھ کھڑی رہی ہے ۔
جس موڑ پر ہم کھڑے ہیں یہ 2007 سے زیادہ خطرناک ہے.منیر اے ملک
سینئر وکیل رہنما منیر اے ملک نے اپنے خطاب میں کہاکہ جس موڑ پر ہم کھڑے ہیں یہ 2007 سے زیادہ خطرناک ہے، اس وقت صرف ایک چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس تھا، اس وقت پورے عدالتی نظام کے خلاف ریفرنس ہے، عدلیہ کے نظام میں ریفارم کے ضرورت ہے، سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی کو دیکھنے کی ضرورت ہے، اگر حکومت جج کا تقرر کرے گی، تواس عدلیہ کی کیا ساکھ ہوگی، وکلا کی جدوجہد نے آئینی ترمیم کے خدوخال تبدیل کرائے ہیں،کنونشن کا مطالبہ ہے پارلیمانی کمیٹی مسودہ پیش کرنے سے پہلے تمام بار ایسوسی ایشنزکو بھیجے اور مشاورت کرے ، سب سے بڑے فریق عوام ہیں، انہوں نے تجویز دی کہ 17 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد وکلا برادری عدالت میں پیش ہوتے ہوئے بازوں پر پٹی باندھیں، وکلا نمائندگان کا کنونشن بلا کر جامع تحریک کے خدوخال طے کریں، اب مرنے یا مارنے کا وقت ہے، اگر یہ پیکج منظور ہوا تو وکلا کا پیشہ بے معنی ہوجائے گا، جو لوگ اسکی حمایت کررہے ہیں ،وہ یاد رکھیں یہ کل انکے خلاف ہی استعمال ہوگا،
بیرسٹر عابد زبیری نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ساری تگ و دو چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ترمیم کیلئے ہے، وکلا سندھ ہائی کورٹ گئے کہ مسودہ تو دکھا دیں، وہ پٹیشن خارج کردی گئی، حیدر امام رضوی ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے وہ بہت مضبوط ہیں، جب 2008 میں وکلاء کو جلا یا گیا تھا اس وقت بھی کراچی بارکھڑی تھی
صدر پشاور ہائی کورٹ بار فدا گل نے کہا آئینی ترمیم کے خلاف وکلا نکلیں گے، دو سپریم کورٹ ہونگی تو کیا بار بھی دو ہونگی؟۔ صدر لاہور ہائی کورٹ بار اسد منظور بٹ کا کہنا تھاکہ آج تمام وکلا تنظیمیں ایک پیج پر ہیں، ہماری کوشش آئین کی بالادستی کے لئے ہے۔سابق وفاقی وزیر قانون شاہدہ جمیل نے کہا سب کے پاس آئینی ترمیم کا الگ مسودہ ہے، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے درمیان تنازعہ ہوا تو کیا ہوگا؟کہا جارہا ہے آئینی عدالت کے پہلے سربراہ کی تقرری صدر صاحب کریں گے، کیا ایسا کرنا مداخلت نہیں؟ دنیا بھر میں کہیں خفیہ طریقے سے ترمیم نہیں ہوتی۔صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ریاست علی آزاد کا کہنا تھا جس عدالت کی تعیناتی سیاسی ہوگی وہ عدالت بھی سیاسی ہوگی، آئینی عدالت کا حلف پی سی او حلف جیسا ہے، یہ ترمیم نہیں سپریم کورٹ کو تالہ لگانے جارہے ہیں، کسی سیاسی جماعت پر پابندی کا کیس آئینی کورٹ جائے گا۔
ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات نہ پیدا کئے جائیں.صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار
صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار افضال ہریفال کا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھامیرا تعلق اس صوبے سے جہاں آئین کا کوئی آرٹیکل میری حفاظت نہیں کرتا، ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات نہ پیدا کئے جائیں۔ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کراچی بار کی تاریخ اور روایات کا دفاع کرنا ہے، مجوزہ ترامیم کا مسودہ ہڈی طرح ہے، یہ ناکام نہ بنائی تو آپ سب جج بننے کیلئے کسی اور گیٹ کے باہر کھڑے ہو گے، یہ کنونشن منسوخ کرنے کیلئے بہت کالیں آئی ہیں، سیاست دانوں سمیت سب کو کہا یہ کنونشن ہوگا، اسلام آباد میں ایک بیکری والے نے چیف جسٹس کو گالی دی کیا عزت رہی ہے، آئینی عدالت میں جج بن گئے تو کیا وہ تین سال بھی گزار جائیں گے،ٹاپ 5 ججز کو چیف جسٹس بنانے والی ترمیم قابل قبول نہیں۔ مسلم لیگ لائرز فورم کے جنرل سیکریٹری راجہ خلیق الزماں انصاری نے کہا اگر حکومت نے کوئی غیر قانونی کام کیا تو ہم بھی مزاحمت کریں گے، کیوں سپریم کورٹ میں اجارہ داری قائم ہے، آئینی ترمیم کے ذریعے غریب کا بیٹا بھی جج بن سکے گا، ضرورت ہے آئینی عدالت الگ ہو اور سپریم کورٹ الگ ہو۔
Lawyers warn movement against constitutional amendment ,وکلا کنونشن میں آئینی ترمیم کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان
