اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ممتاز غزنی کا پہاڑی افسانوی مجموعہ "تہخنے آڑے”

FaceApp 1707328750973 1

پہاڑی افسانے "تہخنے آڑے”

ممتاز غزنی

ممتاز غزنی پہاڑی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے سنجیدہ ترین کوششیں کرنے والے افراد کی فہرست میں سر فہرست چند احباب میں شامل ہیں۔  گزشتہ چند سالوں میں پہاڑی زبان میں سب سے زیادہ نثری کتب ممتاز غزنی نے ہی تخلیق کی ہیں۔

"تہخنے آڑے” ان کا تازہ ترین پہاڑی افسانوی مجموعہ ہے۔ 128 صفحات کے اس افسانوی مجموعے میں 24 افسانے شامل ہیں۔ مری اور گلیات میں غیر ہموار زمین کے کسی ٹکڑے کو "آڑا” کہا جاتا ہے۔  لیکن یہاں "تہخنے آڑے” سے مراد ہے "دھکتے انگارے”.

ممتاز غزنی کے افسانے آپ کو مجبور کر دیتے ہیں کہ آپ ان کو بار بار پڑھیں۔  ہر افسانہ آپ کو تفکر و تدبر پر مجبور کر دیتا ہے۔ ان کے موضوعات سنجیدہ بھی ہیں اور نازک بھی۔  اپنی ماں بولی کی خدمت کا جذبہ اپنی جگہ لیکن ممتاز غزنی کے یہ افسانے اگر اردو یا انگریزی میں بھی لکھے جاتے تو اہل ادب کے ساتھ ساتھ اہل فکر و دانش کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لیتے۔

"پترا ! قید کولا اللہ بچائے، اوہ پہانویں جے جیئی وی ویہہ۔ سوچ نی قید، بڑیاتی نی قید، غرور تکبر نی قید، پیسے ٹکے نی قید۔۔۔ انسانے کی جینیاں جاغنیاں ماری شوڑنی” (بے بجھ.. 18)

"گمراہی ہک ایہہ جیئی عینک دی جیہڑی لائی تہ صرف کوڑ ژے کوڑ نیدری (نظری) اینا۔۔ (عینک ۔۔ 68)

"تہخنے آڑے” میں متنوع موضوعات پر افسانے شامل ہیں۔ اپنی مٹی سے محبت، انسانیت کا درد، احکام الہی کے مطابق زندگی گزارنے کا درس، قلم کی حرمت، محبت اور انسان دوستی جیسے موضوعات کو ممتاز غزنی نے نہایت مؤثر انداز میں افسانے میں ڈھالا ہے۔

ممتاز غزنی نے شعوری کوشش کے ذریعے اپنے دوست پہاڑی شعراء کی غزلوں کو بھی اپنے افسانوں کا حصہ بنایا ہے۔ بلکہ "درد چھوائی جینا پینا” تو علی احمد کیانی کی ایک غزل کا مصرع ہے جسے ممتاز غزنی نے ایک افسانے کا عنوان بنایا ہے۔

ممتاز غزنی کی اس سے پہلے اشاعت پذیر ہونے والی کتب کو بھی خوب پذیرائی ملی بلکہ بعض کتابوں کے پہلے ایڈیشن تو اشاعت کے کچھ عرصے بعد ناپید ہو گئے تھے۔

 

 

پہاڑی زبان کی کتب اب تواتر سے شائع ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر میں تو پہاڑی زبان کی اکیڈمی بھی موجود ہے۔ وہاں سے دوماہی "شیرازہ” 80 کی دھائی سے تواتر کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کا پہاڑی زبان میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ کئی سو کتابوں کا ذخیرہ وہاں موجود ہیں۔۔ آزاد کشمیر سے ڈاکٹر محمد صغیر نے پہاڑی زبان و ادب کے حوالے سے ایک اکیڈمی جتنا کام تن تنہا کر دیا۔ ان کی ایک درجن کے قریب پہاڑی زبان کی کتب زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ علی احمد کیانی اور حمید کامران کی بھی کتب اشاعت پذیر ہو چکی ہیں۔ لیکن کتابوں کی تقاریب پذیرائی کا انعقاد نہیں ہو سکا۔  ممتاز غزنی خوش قسمت ہیں کہ آج ان کے افسانوی مجموعے "تہخنے آڑے” کی تقریب پذیرائی راولاکوٹ میں ہو رہی ہے۔ دیگر شہروں کے احباب بھی تقاریب پذیرائی کا انعقاد کریں تو اس سے جہاں مصنفین کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے وہاں کتب کا تنقیدی جائزہ بھی عام ہوتا ہے۔

 

 

راشد عباسی ۔۔۔۔ راولپنڈی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481