اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سیاحت یا عذاب۔۔۔۔ اہل کوہسار کا المیہ

FaceApp 1707328750973 1

 

کوہسار (کشمیر، مری، گلیات) قدرتی حسن کا شہکار علاقہ ہے۔  یہاں کی تاریخ و ثقافت ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ اس علاقے میں دریا ہیں، جنگل ہیں، آبشاریں ہیں، جھیلیں ہیں، وادیاں ہیں، پہاڑ ہیں۔۔۔۔ الغرض حسن ہی حسن جلوہ گر ہے۔

انگریزی سامراج کے عہد میں گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے انگریزوں نے مری کو پنجاب کا گرمائی دارالحکومت بنا دیا۔ فوج اور انتظامیہ کے لیے یہ گرمائی کیمپ تھا۔ یہاں پر انگریزی دور میں وکٹورین طرز کے گھر تعمیر کیے گئے۔ اسی وجہ سے مری کو "منی انگلینڈ” بھی کہا جاتا تھا۔  1864ء کے بعد پانی کی شدید قلت کے باعث شملہ کو انگریزوں نے گرمائی دارالحکومت بنا دیا۔ اس علاقے میں بدھ مت، ہندو دھرم، سکھ مت، عیسائیت اور اسلام کے پیروکاروں کے لیے تاریخی اہمیت کے کئی نقوش تھے جو مٹتے مٹتے تقریبا ختم ہو گئے ہیں۔ ویسے بھی تاریخی اہمیت کے مقامات کو محفوظ رکھنے میں ہمیں کوئی دل چسپی نہیں ہے کہ ہمارے پاس کرنے کے "اور” بہت کام ہیں۔

انگریزی عہد حکومت میں سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی کیونکہ گرمیوں میں فوج اور انتظامیہ کو مری اور کشمیر کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ لطیف کشمیری اپنی کتاب (خیابان مری) میں لکھتے ہیں۔۔۔۔

"پہلی جنگ عظیم سے پہلے انگریز سپاہی بھی مری پیدل ہی آیا کرتے تھے یا بیل گاڑیاں استعمال کرتے تھے۔ کچھ لوگ تانگوں پر آتے تھے. راولپنڈی سے ایک پارسی سیٹھ دھنجی بائی کی تانگہ سروس چلتی تھی. ڈاک کا ٹھیکہ بھی اسی کے پاس تھا۔”

انگریزی عہد میں مختلف علاقوں میں اپنی ضرورت کے تحت چرچ تعمیر کیے گئے۔  مارکیٹیں اور ریستوران بنائے گئے۔ مری کے مال روڈ پر صرف انگریز خاندانوں کو چہل قدمی کی اجازت تھی۔ یہاں سڑک کے صرف ایک سمت تعمیرات کی اجازت تھی تاکہ قدرتی حسن کا نظارہ میسر رہے۔

انگریزی عہد میں یہاں مختلف سکول بھی قائم کیے گئے۔ ان میں سے گھوڑا گلی میں موجود مشہور و معروف لارنس کالج 1860ء میں قائم ہوا تھا۔ اسی طرح سینٹ ڈینیز سکول مری 1882ء میں اور پریزینٹیشن کانونٹ سکول مری 1917ء میں۔

انگریزی عہد میں یہاں کے قدرتی حسن کو بہ ہر صورت بحال رکھنے بلکہ اس میں اضافہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہاں کے جنگلات کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے کے بجائے ان کے تحفظ اور فروغ کے لیے اقدامات کیے گئے۔  تعمیرات کے لیے بائی لاز بنائے گئے اور ان پر سختی سے عمل کو یقینی بنایا گیا۔

کوہسار میں سیاحت کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ انگریز کے دور میں بھی موسم گرما میں سیاح کوہسار کی سیر کے لیے آتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی کوہسار پاکستان کے اکثر حکمرانوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ ایوب خان نے ایوبیہ، خانسپور کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ بھٹو سے لے کر نواز شریف تک اکثر حکمران مری کے دلدادہ رہے۔

گزشتہ دو تین عشروں کے دوران سیاحت کو بہت فروغ ملا۔ حکومتوں نے سڑکوں کی تعمیر اور کمرشل ایریاز کی ترقی پر خصوصی توجہ دی۔ لیکن بدقسمتی سے منظور نظر لوگوں کو نوازنے کے لیے اور ہوس زر کے زیر اثر کوہسار کے قدرتی حسن کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ اب کوہسار کے اکثر علاقے ، خصوصا کوہ مری ، کنکریٹ کے پہاڑوں پر مشتمل ایک خطرناک علاقہ ہے، جو کسی قدرتی آفت مثلا زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ وغیرہ کی صورت میں ایک بڑی تباہی اور المیے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

80 کی دھائی کے بعد کوہسار کے دیہی علاقوں سے پسماندگی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اہل علاقہ نے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی شروع کر دی۔ کنالوں کے گھروں میں رہنے والے اور کھلی فضا میں سانس لینے والے پانچ پانچ مرلے کے ڈربوں میں قید ہو کر خوش ہو گئے کہ آئندہ نسلیں پڑھ لکھ کر بڑی شخصیات بنیں گی۔  بجائے اس کے کہ حکومتوں کو مجبور کیا جاتا کہ دیہی علاقوں کے مسائل حل کیے جائیں، اہل کوہسار نے اپنے آبائی علاقے ویران اور بنجر کر دیے۔ زمینیں غیر آباد ہو گئیں۔ کمرشل زمینیں لوگوں نے بیچ کر شہروں میں کوٹھیاں خرید لیں۔ اب بہت کم کاروباری سرگرمی اہل کوہسار کے ہاتھوں میں ہے۔

وہ سیاح جو ملک کے کونے کونے سے کوہسار (کشمیر، مری، گلیات) کی سیر کو آتے ہیں وہ صرف "کمرشل ایریاز” کے ماحول، سلوک اور رویے کی بنیاد پر اس پورے علاقے کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے فیصلہ صادر فرما دیتے ہیں۔

نہ جانے کیوں وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ منڈی کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتیں۔ کمرشل ایکٹویٹی کرنے والا شخص علاقہ مکین بھی ہو سکتا ہے اور کسی سیاح کے اپنے شہر کا باسی بھی۔

سیاحتی علاقوں (مری، ایوبیہ، نتھیا گلی، ناران، کاغان، سوات، نیلم، مظفرآباد) میں اکثر کاروباری سرگرمیاں مقامی کے بجائے دوسرے علاقوں کے لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسے مری میں مقامی لوگوں کے کاروبار شاید بیس فی صد بھی نہ ہوں۔

کوہسار کے اکثر لوگ کوہسار کے بجائے راولپنڈی ، اسلام آباد ، لاہور، کھاریاں، کراچی اور بیرون ملک کاروبار اور ملازمتیں کر رہے ہیں۔ مری سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے ساتھ حال ہی میں ملاقات ہوئی۔ ان کی چودہ سالہ بیٹی نے بتایا کہ اس نے آج تک مال روڈ، مری دیکھا ہی نہیں ہے !

سوشل میڈیا پر یہ چلن عام ہو گیا ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی سستی شہرت کا رسیا، عقل و خرد سے بیگانہ شخص پندرہ روپے کا موبائل ہاتھ میں لیے اہل کوہسار کی تحقیر و تذلیل کرتا نظر آتا ہے۔۔ او بھائی ! اہل کوہسار جرگہ لے کر آپ کے پاس آئے تھے کہ آپ ہمارے علاقے کی عزت افزائی کے لیے یہاں ضرور تشریف لائیں؟  آپ سبی تشریف لے جاتے۔

عزیزان من۔ کوہسار میں بسنے والے لوگ روایتوں اور قدروں کے امین لوگ ہیں۔ ان کی خوب صورت زبان اور ثقافت ہے۔ کمرشل ایریاز سے دور دیہات میں بسنے والے اہل کوہسار محبت کرنے والے مہمان نواز لوگ ہیں۔ یقین کیجیے انھیں آپ کی سیاحت سے "ککھ” فائدہ نہیں ہوتا۔ ٹیکسوں کی مد میں جو بھاری رقوم حکومت جمع کرتی ہے اس میں سے علاقے کی ترقی پر پھوٹی کوڑی خرچ نہیں ہوتی۔ ان کو اگر سیاحت سے کچھ ملتا ہے تو وہ کردار کشی، تحقیر و تذلیل اور دشنام و الزام !

آپ سے درخواست ہے کہ آپ کا تعلق کسی بھی علاقے سے ہو، آپ کوہسار کی سیاحت کے لیے عازم سفر ہونے سے پہلے انتظامات مکمل کر کے آئیں۔ آپ مری مال روڈ پر اگر اعلی انسانی قدریں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو آپ حماقت کے مرتکب ہوں گے۔ یقین کیجیے۔۔۔ ہم نے راولپنڈی میں رہتے ہوئے آج تک راولپنڈی کے موتی بازار، کمرشل مارکیٹ یا صدر کی مختلف مارکیٹوں میں اعلی انسانی قدریں تلاش کرنے کی حماقت کبھی نہیں کی۔

 

راشد عباسی ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481