اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آئیے جنت کی زبان اور ثقافت سیکھیں

FB IMG 1727414590376

ہم کسی سے اختلاف کی صورت میں جن رویوں کا اظہار کرتے ہیں یا کسی کے جس برے طرزِ عمل پر داد و تحسین پیش کرتے ہیں دراصل ہم ان رویوں اور اس طرزِ عمل کو جواز کی سند یعنی سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں کہ یہ طرز عمل ٹھیک ہی نہیں بلکہ بہتریں ، مقبول، پسندیدہ اور مطلوب ہے ۔
۔
کسی پر جوتا اچھال دینا ، کسی کو لعنت کرنا ، کسی پر توہین اور گستاخی کا الزام لگا دینا ، کسی کو
ی۔ہ۔و۔دی قرار دینا، کسی کو ابلیس کہہ دینا ، کسی کے قتل کا فتوی دینا، کسی کو قتل کرنے پر جنت میں پلاٹ الاٹ ہونے کا مژدہ سنانا اور ایسا کرنے والوں کو حق پرستی و حق گوئی کی سند دے کر ان پر تعریف ، تحسین، شاباش اور واہ واہ کی برسات کر دینا وغیرہ دراصل اس بات کا اذنِ عام فراہم کرتے ہیں کہ آج میں نے تمہارے لیڈر پر جوتا اچھالا ہے، جوابا تم بھی میرے لیڈر پر جوتا اچھال سکتے ہو۔  میں نے لعنت کے عمل کو فروغ دیا ہے تم بھی موقع ملنے پر بھرپور لعنتیں کر سکتے ہو۔ میں تمہیں توہین اور گستاخی کے الزامات لگا کر ہراساں کرتا ہوں، تمہیں موقع ملے تو تم بھی میرے ساتھ ایسا ہی کرنا۔  میں تمہیں ی۔ہ۔و۔دی یا ابلیس کہتا ہوں، تم بھی یہی عمل و ردعمل اختیار کرنا تاکہ ہم سارے کے سارے ی۔ہ۔و۔د۔ی اور ابلیس ہو جائیں۔  میں تمہاری عبادت گاہ میں جا کر پھٹتا ہوں، کل تم میری عبادت گاہ کے اندر آکر قتل عام کر لینا۔  میں یہ سب کچھ کر کے اپنے قبیلے کا ہیرو بن گیا تھا، تم بھی یہی کچھ کر کے اپنے لوگوں کے ہیرو بن سکتے ہو ۔

باہمی رواداری، برداشت اور عزت و احترام اگر ہم قرآن و سنت سے نہیں سیکھیں گے تو پھر وقت اور تجربہ ہمیں (اپنے انداز میں) سکھا دے گا۔

آپ کے مشاہدے میں بھی آیا ہو گا کہ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انتہا درجے کے بدتمیز ، منہ پھٹ، جنونی اور شدت پسند لوگ بھی اخلاقیات، رواداری اور برداشت کا درس دینے لگتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اب بات اپنے اوپر آئی ہوئی ہوتی ہے ۔
۔
ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور لگتا ہے آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ اس لیے کہ جو لوگ نصیحت سے نہیں سیکھتے انہیں زمانہ سکھاتا ہے بلکہ نہ سیکھنے والوں کو تو بار بار سکھاتا ہے۔

اپنے اپنے قبیلے کی اصلاح خود کی جائے۔  اس سے پہلے کہ دوسرے ہم پر انگلیاں اٹھائیں اور اس سے پہلے کہ دوسروں کو ہمارے طرزِ عمل سے جواز فراہم ہو ۔

یاد رکھیے!  اچھے رویوں سے دنیا میں بھی جنت والا ماحول برپا کیا جا سکتا ہے۔ آج آپ کو جنت کی ایسی نعمتیں نہ بتا دوں جنہیں ہم دنیا میں بھی پا سکتے ہیں۔
ذرا یہ آیت ملاحظہ فرمائیے۔۔

دَعْوَاهُـمْ فِيْـهَا سُبْحَانَكَ اللّـٰهُـمَّ وَتَحِيَّـتُـهُـمْ فِيْـهَا سَلَامٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوَاهُـمْ اَنِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (10) یونس۔
اس "جنت” میں ان کی پکار یہ ہوگی کہ اے اللہ! تیری ذات پاک ہے اور وہاں ان کا باہمی تحفہ سلام ہوگا، اور ان کی دعا کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔

یعنی ان کی زبانوں پر اللہ کے لیے سبحان اللہ اور الحمدللہ کے کلمات ہوں گے اور بندوں کے لیے السلام علیکم اور وعلیکم السلام کی تکرار ہوگی ۔
۔
لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا تَاۡثِیۡمًا0_25
اِلَّا قِیۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا0_26
الواقعہ۔۔
اس "جنت” میں نہ وہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ مگر یہ کہ ان کا کلام سلام سلام ہو گا۔

اگر ہمارا مطمع نظر جنت ہے تو پھر جنت کی زبان اور ثقافت سیکھنی چاہیے یعنی تحمید، تسبیح اور سلام ۔

شاہد ریاض عباسی۔۔۔ لونگال ، ہزارہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481