اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم شالم ”سانوں نہر والے پل تے بلا کے“

IMG 20240904 WA0199

کالم شالم

”سانوں نہر والے پل تے بلا کے“

ہم سیر و سیاحت کے ”ٹھڑکی“ نہیں ہیں مگر یا روزی یا نصیب کے ہاتھوں دشت و صحرا نوردی کرنا پڑتی ہے۔ دنیا نے اپنے اوطان کی ترتیب کو منظم طریق سے سنوارا ہے، جہاں اُن کی کمائی کا ایک بڑا حصہ سیر و سیاحت پر مبنی ہے۔ لندن شہر کی تاریخ دو سو سال سے پرانی ہے اور دو سو سال پرانی عمارات، پُل، سڑکیں، زیرِ زمین ریلوے نظام وغیرہ آج بھی موجود ہیں۔  یہ لوگ دو سو سال پہلے بھی مستقبل کا وژن رکھتے تھے حال آنکہ یہ سمندر میں گھِرا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ یہاں کا نظام انسانی آزادی پر مبنی ہے، مگر حدود و قیود بھی موجود ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ یہاں اٹھارہ سال سے کم عمر بچیوں یا بچوں کی طرف گُھور کر دیکھنا یا میسج کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ گناہ سے کوئی انسانی معاشرہ خالی نہیں ہوتا، مگر ”جاہ کجا “ دیکھی جاتی ہے۔

انصاف کا نظام یہاں کی خاصیت ہے۔ آپ اگر یہاں شادی کر لیتے ہیں تو پیدا ہونے والے بچے کی پرائمری سے اعلی تعلیم اور صحت کی تمام سہولیات مفت ہیں۔  نیز بچوں کو "فری انکم” بھی ملتی ہے. جب کہ ہمارے ہاں چھوٹے بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔  پچھلے دنوں ایک مولوی صاحب نے ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی۔  جس پر پولیس نے ایکشن لیا تو ایک ”الامہ صاب“ درمیان میں کُود پڑے اور قانون کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہوگئے اور بچے کے والد کو سمجھایا کے مقدمہ واپس لیں کیونکہ اِس سے ”الونما کرائم“ بدنام ہوں گے۔

جہاں یہ حالات ہوں وہاں قانون یا اسلام کا نام لینا
اسلام کے ساتھ ظلم عظیم ہے۔  ابھی کچھ دن پہلے ایک مفتی صاب نے قرآن اور صاحب قرآن کے بارے میں جو جہالت بکی ہے، اگر کوئی عام مسلمان ہوتا تو اس کا سر تن سے جدا والے پہنچ چُکے ہوتے۔  مگر مفتی صاب کے فرقے کے لوگ وضاحت دیتے پھر رہے ہیں۔  یہی طزرِ عمل یورپ اور مغرب کے ہاں ہوا کرتا تھا۔ پوپ پادری خدا کے نمائندے کے طور پر راج کرتے تھے۔ عام انسان پر زندگی اجیرن تھی۔ پھر چند دماغوں نے سوچا کہ یوں تو سماج آگے نہیں بڑھ سکے گا۔  تب جا کر پوپ پادری کے ”انہے واء“ اختیار کو محدود کیا گیا۔ ریاست کے امور کو مذہب سے الگ کیا گیا۔ انسانی سوچ اور فکر کو آزاد کیا گیا۔  تب جا کر سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو جدت سے نوازا۔  ورنہ ہمارے ہاں جب لاؤڈ سپیکر آیا تو ہمارے نمونوں نے اس کی آواز سننے والے کی” رن طلاق “ کا فتوی ٹھوک دیا تھا۔  آج وہی لوگ لاؤڈ سپیکر سب کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے۔

تو بات اتنی ہے کے علم کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ مومن کے لیے کہا گیا ہے کے وہ علوم عصر سے مکمل آشنا ہوتا ہے۔ ہمارے آقاﷺ نے فرمایا تھا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے۔ آقاﷺ خوب جانتے تھے کے چین میں فقہ کا علم نہیں تھا بلکہ دنیاوی علوم کی بات ہو رہی تھی۔ علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے۔  یہ بھی فرمان نبوی ہے۔ مسلم معاشرے علم جدید سے محروم کیوں ہیں؟  یہ سوچنے کی بات ہے۔  ہمارے ہاں اعلی دماغ کیوں پیدا نہیں ہوتے، جو بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے کوئی ایجاد کریں۔  آخر یہ سب ایجادات غیر مسلم ہی کیوں کرتے ہیں؟ آخر کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے. ہم کہاں سے ڈی ٹریک ہوئے یہ کون سوچے گا؟ کافروں کے بنائے ہوئے پُل، سڑکیں، عمارات دو سو سال بعد بھی قائم و دائم ہیں اور ہمارے الحاج ٹھیکداروں کی بنائی ہوئی سڑک، پُل ، عمارت "سال کڈھ جاوے تے بڑی گل اے “ ! آخر ہم مسلمان کب ہوش کے ناخن لیں گے یا یوں ہی نقالی کرتے کرتے رانگ نمبروں کی پیروی کرتے کرتے عزرائیل کے کلاوے میں آجاویں گے۔
”ماسی سڑدی اے تے بولدی اے “
ہمیں فرقہ فرقہ کرنے والے ہماری جان کب چھوڑیں گے؟ ہماری ریاست کب جاگے گی؟ ہمارا قانون کب تک
طاقتور کی رکھیل بنا رہے گا؟ ہماری عدالتیں کب تک
انصاف سے ساری رہیں گی؟ ہماری درس گاہیں کب بڑے دماغ پیدا کریں گی؟ ہم کب تعصبات و تقسیم سے نکلیں گے؟ ہمارا نوجوان کب تک ہجرت کرتا رہے گا؟
یہ چند سوالات ہیں جن کا جواب کاش کوئی تو دے۔۔ کاش !

شکیل اعوان ۔۔۔۔ لندن


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481