اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فکر راشد "بچے، بچپن اور تعلیم و تربیت”

FB IMG 1612706400631

کسی بھی فرد کی شخصیت سازی میں اس کی بچپن کی تربیت، اس کے ساتھ ہونے والا سلوک اور اس کے ذاتی تجربات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عمر ذہنی و ادراکی فروغ کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔ نیز جذباتی اور سماجی ترقی کا دارومدار بھی اس عمر کے تجربات پر ہی ہوتا ہے۔

ترقی یافتہ قومیں بچوں کو تعلیم دینے کے لیے ایسے طریقے اختیار کرتی ہیں کہ کھیل کھیل میں بچے سیکھتے بھی رہتے ہیں اور تربیت یافتہ اساتذہ ان کے فطری رجحانات اور اوصاف کا بھی کھوج لگاتے رہتے ہیں۔ بچے پر کسی قسم کا کوئی ذہنی دباؤ وہاں پر قانونی جرم سمجھا جاتا ہے۔ بچے صرف ایک زبان میں یعنی اپنی مادری زبان میں مختلف چیزیں سیکھتے ہیں۔

اکثر ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کے سکول داخلے کی عمر 5 یا 6 سال ہوتی ہے۔ ابتدائی جماعتوں میں کتابوں کا بوجھ بچوں پر نہیں لادا جاتا اور نہ ہی نمبروں، گریڈز اور پوزیشنوں والے امتحانات ہوتے ہیں۔ جاپان میں پرائمری میں کتابیں پڑھانے کے بجائے بچوں کی اخلاقی اور سماجی تربیت کی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں غلام ذہنوں نے سب سے زیادہ ظلم بچوں کے ساتھ کیا ہے۔ ہم تین سال کے بچے کو ایک بھاری بھرکم سکول بیگ کے ساتھ پلے گروپ میں داخل کروا دیتے ہیں۔ سکول صبح 8 بجے شروع ہوتا ہے۔ معصوم بچے کی نیند ہی پوری نہیں ہوتی۔ پھر اسے اردو، انگریزی، ریاضی، اسلامیات، جنرل نالج، ڈرائنگ، وغیرہ وغیرہ سکھانا شروع کر دیا جاتا ہے۔

ہم اگر غور کریں تو ہم بچپن سے ہی بچے کو الجھن اور مخمصے میں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ ڈر اور خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم متفق ہیں کہ ڈر اور خوف کسی بھی فرد کی ذہنی نشو و نما کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ایسے افراد کی خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

ہمارے یہاں سکولوں میں بچے کو پہلے بتایا جاتا ہے کہ یہ سیب ہے، پھر دوسری میڈم آتی ہیں تو وہ وہی تصویر دکھا کر کہتی ہیں یہ ایپل ہے۔ اردو والی کہتی ہیں یاد کرو ایک سیب، انگریزی والی کہتی ہیں ون ایپل۔ پھر جب بچہ چھٹی کے بعد گھر آتا ہے تو تھوڑی دیر بعد قاری صاحب آ جاتے ہیں۔ بچے نے سکول میں الف، بے ، پے پڑھا تھا لیکن قاری صاحب اسے الف، با، تا، ثا پڑھاتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے ذہن کی شکست و ریخت, تذبذب اور الجھن کے بارے میں کسی نے کبھی سوچنے کی زحمت گوارا کی؟

ہم بچوں کو سنجیدہ و فہمیدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ بچہ ہمارے ذہنی معیار پر آ کر بات کو سمجھے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بچوں کے ذہنی معیار پر جاکر آسان اور سادہ الفاظ میں انھیں پڑھائیں اور اپنی بات سمجھائیں۔ انھیں سمجھانے کے لیے "صرف” ان چیزوں کی مثال پیش کریں جن سے وہ آشنا ہیں۔ انھیں اگر آپ ڈی فار "ڈائنا سار” پڑھا رہے ہیں تو آپ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ بچے ہماری بات سمجھیں۔۔ حال آنکہ بہتر طرز عمل یہ ہے کہ بچوں کو، ان کے جذبات کو، ان کی معصوم خواہشوں کو، ان کے طرز فکر کوسمجھنے کی کوشش کی جائے۔

ہم تین سال کے بچے کو آکسفرڈ پڑھانے کے بجائے اس کی مادری زبان میں بنیادی تعلیم دیں۔ اس کی اخلاقی و سماجی تربیت کریں۔ اسے انسان دوست اور ماحول دوست مسلمان بنائیں۔

اسے قرآن کے ساتھ وابستہ کریں۔  سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور سیرت صحابہ کے آسان، دلچسپ اور کردار سازی کا ذریعہ بننے والے واقعات پڑھائیں۔ تاکہ وہ انھیں اپنا آئیڈیل بنائے۔

بچوں سے چھوٹے چھوٹے علمی مکالمے کیے جائیں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ انھیں ایک نیا کھلونا "بندوق” چاہیے تو ان سے گزارش کریں کہ وہ آپ کو قائل کریں کہ بندوق ہی کیوں؟ اگر وہ آپ سے کہیں کہ بندوق کیوں نہیں تو انھیں سمجھائیں کہ بندوق دہشت کی علامت ہے۔ بندوق والے لوگ اس کے ذریعے دوسروں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ قتل و غارت کرتے ہیں۔ قبضے کرتے ہیں۔ نہتے اور بے بس لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ بندوق والے لوگ ظالم، غاصب اور آمر ہوتے ہیں۔ اسے بندوق کے بجائے کوئی ایسا کھلونا خریدنا چاہیے جو خوب صورت ہو۔ کسی کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ کسی کو اس سے تکلیف نہ پہنچے۔ اور یہ فائدہ مند بھی ہو۔

ان کو اچھی، علمی کتابیں تحفے میں دیں اور گھر میں کتاب کلچر کو فروغ دیں۔ ان کو کسی مسلک کا پیروکار نہ بنائیں۔ انہیں تخلیقی انداز میں سوچنے اور معقول فیصلہ کرنے کا خوگر بنائیں۔۔۔۔

راشد عباسی ۔۔۔۔ ملکوٹ، ہزارہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481