اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مثبت سوچ سے بڑے کردار اور اعلی نتائج پیدا ہوتے ہیں

FB IMG 1612706400631

 

کائنات کے حوالے سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ دنیا مقناطیسی شعاؤں کا ایک نامختتم سلسلہ ہے۔ جب کوئی شخص مثبت سوچتا ہے تو مثبت شعائیں کائنات میں پھیلتی ہیں۔ اور یوں مثبت فکر و عمل کے لوگ یکجا ہو کر انسانی فلاح و رفاہ کے کاموں میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنتے ہیں۔ اس طرح دنیا میں بڑے بڑے انقلاب آتے ہیں۔

جب کوئی منفی سوچتا ہے تو کائنات میں موجود منفی شعاؤں کی یکجائی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ شر کی قوتیں ایک جگہ جمع ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور اس منفی سوچ کے زیر اثر منفی اور نقصان دہ عمل شروع ہو جاتا ہے، جس سے انسانیت کو اجتماعی طور پر گزند پہنچتی ہے۔

منفی سوچ منفی رویے پیدا کرتی ہے۔ کیونکہ رویوں سے ہی کردار تشکیل پاتا ہے اس لیے ایسے لوگ ہر معاملے کا تاریک پہلو دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کی خوبیوں، اوصاف اور اچھائیوں پر نظر رکھنے کے بجائے ان کی خامیوں اور عیوب کی ٹوہ میں رہتے ہیں۔ اکثر اوقات تو ایسے افراد کو کسی میں کوئی خامی نہ ملے تو اپنے جذبہ تعصب کی تشفی کے لیے وہ دوسروں کی کردار کشی شروع کر دیتے ہیں۔

ترقی یافتہ دینا میں منفی سوچ کے حامل لوگوں کو نفسیاتی طور پر بیمار مانا جاتا ہے اور نفسیاتی معالجین کے ذریعے ان کا باقاعدہ علاج کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ ہر معاملے میں تباہ کن نتیجے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اس لیے عموما انھیں ناکامی اور تباہی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے وہ ڈر، خوف، بے چینی اور تشویش کا شکار رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ درست فیصلہ کر ہی نہیں سکتے۔ اس طرح ان کے جسم کا مدافعتی نظام بھی بہ تدریج کمزور ہوتے ہوتے مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے رشتے اور تعلق بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ غلط فیصلے معاشی طور پر بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

ہمارا دماغ ہمارے معمولات کا عادی ہو جاتا ہے۔ جب کوئی شخص منفی سوچ میں پختہ ہو جاتا ہے تو دماغ مثبت عوامل کو ہی امکانات کی فہرست سے نکال دیتا ہے۔

طبی طور پر دماغ کے اعصابی خلیوں کے تخلیقی احیاء کا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ یوں منفی سوچ ایک انسان کی صحت کی تباہی کا بھی موجب بن جاتی ہے۔

راشد عباسی ۔۔۔۔ ملکوٹ، ہزارہ

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481