اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"کسے دا یار نانہہ وچھڑے” کالم دیدہ و دل

FB IMG 1726476483853

IMG 20240916 WA0119
بہت دنوں سے کچھ لکھنے سے قاصر تھا حالانکہ موضوعات بے شمار تھے۔  ماحول نہیں بن رہا تھا اور وقت نہیں مل رہا تھا نیز کچھ صحت کی مجبوریاں بھی آڑے آ رہی تھیں۔  کل صبح جب میں سو کر اٹھا اور موبائل دیکھا تو ایک خبر نے میرے اوسان خطا کر دیے۔ میرے مربی، میرے دوست، میرے غم گسار، میرے ساتھی، خطہ کوہسار، مری، گلیات کے سینیئر صحافی اے ڈی عباسی کی رحلت کی جاں لیوا خبر۔  وہ دوست جو اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے دن رات کوشاں رہتا۔ وہ جو خطہ کوہسار، مری، گلیات کی آواز بنا رہا۔ وہ جو ہر واقعے اور معاملے کو خبروں میں جگہ دیتا تھا، آج خود ایک بہت بڑی خبر بن گیا تھا۔

 

اے ڈی عباس نے صحافت کو ذاتی اغراض کے لیے کبھی داغدار نہیں کیا۔ اس نے اپنے کردار اور عمل سے ثابت کیا کہ صحافت عبادت کا نام ہے، یہ بیوپار نہیں ہے۔  اس نے مالی منفعت کے لیے کبھی صحافت کا سہارا نہیں لیا۔ کیونکہ میرا اور اے ڈی عباسی کا ساتھ ایک طویل عرصے پر محیط ہے اس لیے ہماری اس رفاقت کی بہت سی خوبصورت یادیں میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔

 

15 ستمبر بروز اتوار جب  اے ڈی عباسی کے گھر پہنچا تو ان کے بڑے بیٹے شہر یار سے مل کر دل کٹ کر رہ گیا۔ عابد حسین عباسی آف پھگواڑی ملے۔ اسلام اباد پریس کلب سے چوہدری محمد اصغر، روزنامہ سپریم کے انوار عباسی، ایبٹ اباد ہزارہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری افتخار عباسی، ہل نیوز کے افضل قادری، خطیب عباسی آف مانگا ، صدام عباسی، رانا کوثر، عابد عباسی، شمس الرحمن، ضیا عباسی سب مل کر ایک دوسرے کو پرسہ دیتے رہے کہ سب کا یار سفر ابدی پر روانہ ہو گیا تھا۔ نماز عصر تک لوگوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی لیکن عصر کی اذان ہوتے ہی جوق در جوق لوگ مسجد کے میں داخل ہونا شروع ہوئے اور تھوڑی دیر میں مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔

نماز جنازہ قریبی میدان میں ادا کرنا تھی۔ وہ میدان جہاں پر اے ڈی عباسی بچپن میں کھیلا کرتے تھے، آج ان کی نماز جنازہ وہیں پر ادا ہو رہی تھی۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد، ایک جم غفیر موجود تھا۔ ہر انکھ اشکبار تھی۔  مختلف علاقوں کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر عمر کے لوگ دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ اے ڈی عباسی اپنے علاقے کے لوگوں میں کتنے مقبول تھے۔

میرا شعبہ صحافت کا سفر ہل نیوز میں لکھنے سے شروع ہوا۔ اے ڈی عباسی میرے کالم تواتر سے شائع کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ہل نیوز کے حوالے سے جتنی تقریبات منعقد ہوتیں ان کی نظامت کا فریضہ راقم کے سپرد ہوتا۔  میں برملا اعتراف کرتا ہوں کہ میری تحریر و تقریر کی صلاحیت کو موجودہ صورت تک لانے میں اے ڈی عباسی کا بنیادی کردار تھا۔

اے ڈی عباسی کا معمول تھا کہ ہفتے میں ایک بار راول ڈیم کی مچھلیوں کو خوراک فراہم کرتے تھے۔ جانوروں اور قدرتی ماحول سے ان کی محبت بے پایاں تھی۔ وہ ایک خدا ترس اور مخلوق خدا سے پیار کرنے والے انسان تھے۔

عابد حسین نے ان کی والدہ کے حوالے سے بتایا کہ یہ مسجد جو اب بہت وسعت اختیار کر چکی ہے، جب بن رہی تھی تو یہاں پر سوئی گیس کا کنکشن نہیں تھا۔ اماں جی کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنے گھر سے پائپ لگا کر مدرسے تک پہنچایا تاکہ طلبہ سردی سے بچ سکیں۔کمبل لا کے بچوں کو دیتیں کہ انہیں ٹھنڈ نہ لگے۔ انھیں گھر سے چائے اور کھانا فراہم کرتیں۔  اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے ڈی عباسی کے والدین بڑے کردار کے لوگ تھے۔ وہ مہمان نواز تھے۔  بڑے لوگوں کے اولاد بھی بڑی ہوتی ہے۔ اے ڈی عباسی خود بھی اور ان کی اولاد بھی بلا کی مہمان نواز ہے۔

 

اے ڈی عباسی اپنی مرحومہ والدہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ ان  کے حوالے سے بہت زیادہ حساس تھے اور ان کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند رہتے تھے۔ ایک بات میں نے خود دیکھی کہ انھوں نے اونچی اواز میں کبھی والدہ سے بات نہیں کی۔  ہمیشہ انتہائی دھیمے لہجے میں، درخواست کے انداز میں ان سے بات کرتے تھے کہ کہیں انہیں برا نہ لگ جائے۔ والدہ بھی ان سے بے تحاشہ پیار کرتی تھیں۔

اے ڈی عباسی کی رحلت کے ساتھ جہاں صحافتی دنیا کا ایک بہت بڑا باب بند ہوگیا، وہیں سماجی فلاح و رفاہ کا ایک بہت بڑا نام اور ایک بڑی شخصیت ہمارے درمیان سے چلی گئی۔

 

اپنے ان اشعار پربات ختم کرتا ہوں۔
موت! ہم نے دیکھ لی ہیں تیری چیرہ دستیاں
تو جہاں آئی وہاں باقی رہیں نہ بستیاں
زندگی فانی ہے لیکن موت ہے دائم شکیل
چھین کر یہ لے گئی ہے کیسی کیسی ہستیاں

 

ڈاکٹر شکیل کاسیروی
16 ستمبر 2024


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481