اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

راجہ انورؔ کا بن باس

FB IMG 1708768696702 1

راجہ انورؔ کا بن باس

ڈاکٹر محمد حسن ’’شناسا چہرے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شیفتہ کے بارے میں مشہور ہے کہ اُنہوں نے انیسؔ کے ایک مرثیے کو سن کر کہا تھا کہ ناحق اتنا لمبا مرثیہ کہا۔ اس کیفیت کو ادا کرنے کے لئے ایک ہی مصرع کافی ہے کہ
؎ آج شبیر پر کیا عالم تنہائی ہے
شیفتہ کے کہے کو اگر اس پر منطبق کیا جائے تو بہت آسانی سے اس کو محض ایک فقرے میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’وہ بائیں بازو کا ایک کمیٹڈ سیاستدان ہے‘‘… جی ہاں کیونکہ وہ نسب نام کا راجہ ہے، کوئی مہاراجہ نہیں۔ اسی طرح وہ انورؔ ہے کوئی متکبر نہیں، سو اسے ’’اختصار‘‘ سے کہا سوچا جا سکتا ہے، لیکن نہیں… بالکل نہیں، کیونکہ وہ کوئی ’’یک پرت‘‘ نہیں بلکہ ہمہ جہت شخصیت کا مالک ہے۔ اس کی شخصیت میں سیاست کو اگر ایک طرح سے بنیادی لازمہ کی حیثیت حاصل ہے تو دوسری جانب ذہانت و فطانت اور تحریر و تخلیق کو بھی کلیدی عنصر ماننا ہو گا۔
میں جب بھی اس کی شخصیت کی ہئیت و ماہیت پر غور کرتا ہوں تو مجھے وہ دو سکھ یاد آ جاتے ہیں، جن میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تکرار چل رہی تھی کہ ’’میرا پتر بہوں سادا جیا ہے‘‘ تو دوسرا کہہ رہا تھا ’’نہیں میرا پت ودھ سادا اے‘‘۔
تکرار بڑھی تو دونوں نے فیصلہ کیا کہ آزمائش کر لیتے ہیں کہ کس کا پتر زیادہ سادہ اور ’’آلاپہولا‘‘ ہے۔ اب پہلے سردار سورن سنگھ نے اپنے بیٹے بلدیو سنگھ کو بلایا اور اسے کہنے لگا ’’پترجی! ذرا میرے دفتر جاؤ، ویکھو جے میں اتھیں بیٹھا واں تہ مینوں دسو کہ مینوں چھیتی گھر جانا وے، کیاں کہ تہاڈی اماں نوں لدھیانے جانا ہے تے میں اوہنوں گڈی تے بٹھانا اے‘‘۔ بیٹے نے کہا ’’چنگا باپو‘‘۔ او باہر چلا گیا۔ سورن سنگھ اپنے دوست گوندا سنگھ سے کہنے لگا ’’ویکھ ایس تو سادا کوئی ہور ہو سکدا اے؟  میں اس دے ساونے بیٹھا آں تہ مینوں لبھن دفتر چلا گیا‘‘۔ اب گوندا سنگھ کی باری تھی۔ اس نے اپنے بیٹے کو بلایا، اسے دو روپے دیے اور کہا ’’پتر! جا ہیک روپے نال میرے لئی کار لے آ،  تہ دوجے روپے نال اپنے لئی اسکوٹر‘‘۔ وہ بھی جی اچھا کہہ کر باہر نکل گیا۔ باہر دوسرا لڑکا بھی موجود تھا۔ وہ ایک دوسرے سے ملے تو پہلے والا کہنے لگا ’’دیکھ میرا باپو کتنا سادہ ہے۔ او دفتر اپنا پتہ کرن لئی مینوں ٹوردا پیا اے۔ حالانکہ اوہ ایہہ کم فون تہ وی کر سکدا سی‘‘۔ دوسرا بولا ’’میرے باپو نوں دویکھ۔  دو روپے دتے سو کہ گڈی تہ اسکوٹر خرید کے لے آ۔ پر سادا ایہہ نئیں دسدا کہ کیہڑے روپے نال گڈی تہ کیہڑے نال اسکوٹر خریدنا اے‘‘۔
ہاں تو جب بھی میں نے اسے پڑھنے سمجھنے کی کوشش کی تو میں سکھ سرداروں اور ان کے پتروں جیسی کیفیت کا شکار رہا۔ کیونکہ حکماء وقت نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ترقی پسند سیاسی رہنما ہے یا پھر یہ کہ "جھوٹے روپ کے درشن” کرانے والا لکھاری ہے۔ اب جب اس کی تصانیف توجہ سے پڑھنے سمجھنے کی کوشش میں ہوں تو وہ مجھے۔۔ اور کچھ۔۔ نظر آتا ہے۔ سچ پوچھیے تو وہ مجھے انسان نہیں ’’مسان‘‘ سا دکھتا ہے، جو ہر لحظہ اپنا قد حلیہ بدلتا رہتا ہے اور شکل صورت بھی۔ یوں تو ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ ہوں یا ’’چھوٹی جیل سے بڑی جیل تک‘‘، ’’دہشت گرد شہزادہ‘‘ ہویا پھر ’’قبر کی آغوش‘‘، ’’ہمالہ کے اس پار‘‘ ہو یا ’’بازگشت‘‘ اس کی سبھی تخلیقات بے حد بامعنی اور اس کے ہونے کی موثر دلیل ہیں، لیکن اس کا ’’بن باس‘‘ وہ المیہ تھا جو اس کی تربیت کے لئے ’’طربیہ‘‘ بنا تو ساتھ ہی اس کی کتھا اور ایک بہترین تخلیقی دستاویز بھی۔

’’بن باس‘‘ راجہ انور کی جبری ہجرت کی لہو رنگ داستان ہے۔ ’’جیب کترے کا الوداعی بوسہ‘‘ سے لے کر ’’چل…آگے چل‘‘ سے ہوتا وہ افغانستان سے گذرتا ترکی پہنچتا ہے تو ایک نئی دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ یہ ’’دنیا‘‘… اپنی بسی بسائی دنیا، گھر بار، ماں باپ، بہن بھائی، جیون ساتھی، اولاد اور سنگی یار چھوڑ کر یورپ کی طرف جانے بھاگنے والے جوانوں نوجوانوں کی دنیا ہے، جو ایک نئی دنیا بسانے کے خواب آنکھوں میں لے کر انگنت مصائب کا شکار ہوتے ہیں۔ یورپ، امریکا، کینیڈا اور دوسرے معاشی طور پر بہتر ملکوں کی طرف ہجرت، ہر عہد میں خواب بھی رہا اور عذاب بھی۔ آج بھی نوجوانوں کی ایک تعداد اسی خواب و عذاب کے سراب کا شکار ہے۔ راجہ انورؔ نے پوری باریک بینی اور دردمندی سے اپنے وقتوں میں جاری اس ہجرت کے عفریت کو دیکھا، سمجھا اور خوبصورتی سے لکھا۔ راجہ انورؔ چونکہ چشم بینا رکھتا تھا، اسی لیے اُس نے اس ہجرت سے جڑے تمام معصوم اور ضرر رساں کرداروں کو قریب سے دیکھا اور سمجھا۔ وہ چونکہ اس سفر کا مسافر تھا، لہٰذا وہ سب جھیلتا بھی رہا اور سیکھتا بھی گیا۔ اس نے اس عہد کے مشرقی جرمنی کو بھی کھلی آنکھوں سے دیکھا اور دیوار برلن کو بھی۔ وہ یہاں سے ’پولینڈ‘ بھی گیا اور اسے بھی دیکھا سمجھا،  تو ہندوستان کو بھی کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ اس دوران وہ وقت کی سیاست کے رموز بھی جانتا گیا، وہ ڈنمارک بھی گیا، وہاں کی تہذیب کا بھی ’’چشم کشا‘‘ سے مشاہدہ کیا۔

اب وقت ایک بار پھر اسے ایک نئی ہجرت سے آشنا کرتا ہے۔ وہ افغانستان میں اچھا برا دیکھنے، جاننے اور سمجھنے کے بعد پھر جرمنی جا پہنچتا ہے۔ یہاں وہ چھوٹے بڑے کام کرتا، ٹرک ڈرائیوری سے ہوتا تجارت تک جا پہنچتا ہے۔ اس موقعہ پر اس کی افغان نژاد نصف بہتر بھی اس کا بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب دیوار برلن ٹوٹتی ھے اور جرمنی میں اتحاد ہوتا ہے۔ اب اس کے قدم ’ماسکو‘ کی طرف اٹھتے ہیں، ماسکو جو ترقی پسند فکر کے حاملین کے لیے ’شہر مقدس‘ تھا، وہ اسے اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔ اپنے اگلے سفر میں وہ لندن بھی جاتا ہے اور تھائی لینڈ اور آئرلینڈ بھی۔

وہ ایک بار پھر بھارت جاتا ہے اور پھر طویل مدت بعد واپس اپنے گاؤں گوٹھ کو لوٹتا ہے۔ ’’بن باس‘‘ ہجرت کی کہانی بھی ہے اور اسفار کا بیان بھی۔ اس میں راجہ انور ’’جہاں گیا اک نئی داستان‘‘ تلاش کر لایا۔ راجہ انور نے ہر جگہ کے ظاہری پہلووں کو بھی دیکھا اور پوشیدہ گوشوں کو بھی کھنگالا۔ اُنہوں نے ہر ملک، وہاں کے حکمرانوں، وہاں بستی قوم، ان کی تہذیب و ثقافت اور تاریخ کو ایک محقق کی نظر سے یوں دیکھا کہ آئی ایس آئی اور موساد سے زیادہ گہرا مشاہدہ کیا۔ راجہ انور نے پولینڈ، جرمنی، ، تھائی لینڈ، ڈنمارک، آئرلینڈ، ماسکو، لندن، بھارت، امریکا سبھی ملکوں کو ’’اپنی آنکھ‘‘ سے دیکھا اور سمجھا اور پھر نہایت سلیقے اور ہنروری سے یوں بیان کیا کہ قاری ایک سحر میں کھو جاتا ہے۔

images 76 1’’بن باس‘‘ کا مطالعہ قاری کو ہجرت، چاہے وہ خود اختیاری ہو چاہے جبری… ویسے سچ یہ ہے ہر ہجرت جبری ہی ہوتی ہے کہ حالات کے جبر کے تحت مجبور ہو کر انسان اپنی جنم بھومی، اپنا وطن، اپنی سر زمین علاقہ اور اپنے لوگوں کو چھوڑتا ہے، ورنہ کون ہے جو ’’یاراں نال بہاراں‘‘ کی کیفیت کو تیاگ کر دساور کا رخ کرے۔ راجہ انور نے تمام ملکوں کی معاشرت ‘ تاریخ، سیاست و معشیت، حکومت اور تمدن کی وہ خوبصورت اختصار بھری کہکشاں دکھائی سجائی ہے کہ قاری ان سب رنگوں یا ان سات رنگوں میں کھو سا جاتا ہے۔

’’بن باس‘‘ میں جہاں راجہ انور، ایک ذہین سیاستدان، ایک مفکر، ایک مورّخ اور تجزیہ نگار کے طور پر منعکس ہوتے ہیں، وہاں وہ اعلیٰ پائے کے انشاء پرداز کی حیثیت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ ’’بن باس‘‘ کی ترتیب و تہذیب بے مثال ہے تو اس کا بیان لسان اور اس کا لہجہ، ذہانت و ظرافت کے ایک عمدہ نمونہ کے طور پر اپنا تاثر مرتسم کر رہا ہے۔

’’بن باس‘‘ کے بالتفصیل مطالعہ کے بعد راجہ انور کے گہرے معاشرتی شعور، سیاسی فہم اور ادبی ادراک کے اس تال میل کی ایسی خوبصورت تصویر سامنے آتی ہے جو اصل میں راجہ انور کی شخصیت کا سب سے بھرپور اور خوبصورت نقش اور حصہ ہے۔

یوں تو راجہ انور معروف طالبعلم رہنما ہوئے، وہ بلاشبہ انقلابی اور ترقی پسندانہ فکر کے حامل سیاستدان بھی ہیں اور اُنہوں نے یقینا ’’دنیا دیکھی‘‘ ہے اور اپنی زندگی میں ’’سرد گرم‘‘ سے بھی بارہا گزرے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’پل چرخی‘‘ کی سختیوں نے انہیں فکری اور ذہنی طور پر بہت صیقل کیا ہے، لیکن ان کی تصانیف کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی ’’جون‘‘ اور ’’خون‘‘ میں یعنی بنیادی طور پر ایک تخلیق کار ہیں۔ راجہ انور ایک ایسا تخلیق کار ہے جو زندگی، اس کی تمام جہات اور پرتوں، اس کے سبھی دکھوں اور انسان کے کرب کے دنیاوی اسباب اور ان سے جڑے سبھی کرداروں کو جانتا بھی ہے اور سمجھتا بھی اور ’انسانی زندگی‘ کو پورے احترام، اعتماد اور اہتمام سے کہنے لکھنے کا ہنر بھی اسے ازبر ہے۔
’’بن باس‘‘ کہنے کو ہجرت کی لہورنگ داستان ہے۔ لیکن یہ ایک ’’عالمی سفرنامہ‘‘ بھی ہے۔ یہ ایک ایسا سفرنامہ ہے جو اپنے اندر عمدہ ترین سفرنامے کے سارے لوازمے پوری ترتیب سے سموئے ہوئے ہے۔ یہ افراد سے لے کر اقوام تک، حکومتوں سے لے کر تہذیبوں تک، روایات سے لے کر معاشروں تک کے اندرونی خصائص اور خصائل کو کھوجتا ڈھونڈتا ہے اور ظاہری کامرانی و ناکامی کی صورتوں کو اُجالتا جاتا ہے۔ ’’بن باس‘‘ مجموعی طور پر راجہ انور کی بہترین نثری تصنیف ہے جو اپنے مواد کے ساتھ ساتھ اپنے اسلوب کے لیے بھی ایک حوالہ ہے۔

زیر بحث تصنیف کا آخری باب ’’گھر جاندی نے ڈرنا۔۔۔۔۔‘‘ ہجرت کے دوران کھو جانے والے انتہائی پیارے کرداروں کا نوحہ ہے جو انسانی جذبات اور نفسیات کا بہترین نمونہ ہے۔
بس مسئلہ یہ ہے کہ کوئی راجہ انورؔ کو اس رخ اور اس روپ میں دیکھے سمجھے کہ یہی روپ راجہ انور کی شخصیت کو پائندگی و تابندگی عطا کرنے کا دیرپا اور موثر ذریعہ ہے۔

 

ڈاکٹر محمد صغیر خان ۔۔۔۔ (راولاکوٹ)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481