اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم شالم ”بے بے جمہوریت “

Screenshot 20240912 163046 1

کالم شالم

”بے بے جمہوریت “

Screenshot 20240912 163026 1
مدر آف جمہوریت کے لیے ہم ”پھپھڑ “ آف جمہوریت سے روانہ ہوئے تو افسوس ہوا کہ پاکستان ائیرلائن جو کبھی عالم میں انتخاب تھی اب وہ نیو خان کی طرح بُورے والا، کاموکی،  سکھر،  نواب شاہ تک محدود ہو چُکی ہے اور امارات، اتحاد،  سعودیہ اور قطر ائیر لائنز وغیرہ نے سارا بزنس سنبھال لیا ہے۔  معلوم نہیں کون ناہنجار تھے جو ملکی مفاد پر ذاتی اور خاندانی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اور غیروں کی ایماء پر ایک ایک کر کے تمام فائدہ مند اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور اپنی گوگی لگا لی۔ ظاہر ہے یہ دو چار برس کی بات نہیں، یہ نصف صدی کا قصہ ہے!

ساؤتھ ایشئن کلچر اینڈ لٹریچر سوسائٹی آف لندن کی دعوت پر ہم گیارہ ستمبر کو اسلام آباد سے لندن کے لیے محوِ پرواز ہوئے۔  راستے میں پہلا پڑاؤ کنگ عبداللہ جدہ ہوائی اڈہ تھا۔ جہاں سے دو گھنٹے کے بعد ہم نے لندن کے لیے پرواز کی۔ اجنبی عملہ، اور اتفاق سے مہربان جدہ سے چلتے ہوئے ہماری سیٹ ساٹھ نمبر تھی جب کہ اکسٹھ نمبر سیٹ کے مسافر کا انتظار ہو رہا تھا۔ بار بار اعلانات ہو رہے تھے کہ مسافر آئے تو ”گڈی ٹوراں “۔

خیر وہ قتالہِ جہاں جیسے ہی وارد ہوئی، جلدی میں ہماری آغوش میں لینڈ کر گئی۔ ساتھ بیٹھے مسافر ہنسنے لگے۔ ایک دو”نکھترے“ تو ہماری قسمت پر رشک کرتے پائے گئے۔ خیر وہ انگریز چھوری” نیلیاں اکھیاں”. ہم نے اپنی باقی ماندہ انگلش جمع کی اور کہا، اے قتالہ یہ ”مہاڑی چہول“ ہے۔  وہ کچھ نہ سمجھی اور کہا وٹ؟  ہم نے کہا ”مار دتا ای ہٹ پٹ “۔ اتنے میں ایک عربن ہوائی میزبان نے اُسے اُٹھانے میں ہماری مدد کی
ورنہ۔۔۔۔۔۔
”پھس گئی جان شکنجے اندر، جوں بیلن وچ گنا “

خیر۔۔۔۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔  اعلان ہوا کہ اپنے بیلٹ باندھ لیں۔  اب چھ گھنٹے کا سفر اور ہمسفر انگریز۔۔۔ سو ہماری انگریزی کا امتحان شروع۔  وہ تو بھلا ہو ہماری "سولہ سالہ ایکٹرس” میرا جی کا، جن کی وجہ سے ہماری کمزور انگریزی کو چار چاند لگ گئے۔ جہاز اڑنے اور اترنے کے وقت ہمیں چکر شریف آنے کی وجہ سے ہم ساتھ والے کو” کُہٹ“ کے جکڑ لیتے ہیں، سو جیسے ہی جہاز نے زمین چھوڑی ہم نے انگریزن کو جپھا ڈال دیا۔  اب وہ تہاڑا تہاڑا کرے۔ ہم نے فورا کہا ”نیور مائنڈ بھلیے“ اور اپنا ایک گانا تک سنانا شروع کر دیا
بندیے اللہ نیئیں! مہاڑا جگرا نہ ترسا
تھوڑی جہی رہی گئی اے ذرا ہس کے توڑ نبھا

Screenshot 20240912 163121 1
حالات نارمل ہونے پر ہم نے اُس کا ہاتھ چھوڑ کر "ویری سوری” کہا، جسے شرف قبولیت حاصل ہوا۔  اب چونکہ ہمارے بیگ شریف میں سپیشل ایبٹ آباد کی سوغات تھی، جو ہم نے اسے آفر کی لیکن اُس نکھتری نے” اُکا “ انکار نہیں کیا۔ بس پھر ساڈے چھ کہھنٹے ہم نے ایک دوسرے سے عالمی ایشوز سے لے کر تاریخ، جغرافیہ، شاعری، موسیقی اور معیشت پر کوئی بات نہیں کی۔ فقط "ہوں ہاں” کرتے کرتے سفر گزار دیا. کبھی کبھی عربی میزبان آتی تو ہم اپنی عربی کی پٹاری کھول لیتے اور عربن فضائی میزبان ہم سے عربی میں اور ہم پہاڑی میں گفتگو کرنا شروع کر دیتے، جس پر ساتھ کے مسافر سوچتے کہ کاش اتنی زبانیں انھیں بھی آتیں۔

خیر جب ہم نے عربن کو بتایا کے تمہارا تایا اسامہ بن لادن بھی ہمارا ” گوانڈی“ رہ چُکا ہے تو وہ ” ٹاٹری“ ہوکر ہمارا منہ دیکھنے لگی۔ اس پر گوری نے ہمیں عجیب نظروں سے دیکھا، جیسے کہہ رہی ہو۔۔ "تم تو بڑی چیز نکلے”. اُس نے انگریزی میں بہت کچھ پوچھا جو آف دی ریکارڈ رکھ دیتے ہیں۔ آخر راز ونیاز بھی کوئی چیز ہوتے ہیں۔ مگر عربن ہماری زیادہ خدمت کرنے لگی آتے جاتے پوچھتی۔۔۔ تبغی شیئی لل اکل؟ اور ہم کہتے
”کہن آن پچھدی کیوں ایں “.  ناشتے میں پراٹھے دیکھ کر ہمیں گھر کی یاد آ گئی۔ دو پراٹھے فی مسافر دیے جاتے ہیں مگر ہماری چونکہ دوستی ہوگئی تھی سو ہم نے فائدہ اُٹھایا اور چھ پراٹھے لیے، جو بوقت ضرورت ہم ”رگڑتے“ آئے۔ اچار پہلے ہی پوٹلی میں تھا۔ اچار دیکھ کر گوری نے پوچھا، "وٹ از دس ڈش؟” ہم نے کہا۔۔۔
"دس از مکس وجٹیبلز …. تھوم، گاجر، امب، گندلاں،۔۔۔ مینز اچار”  ہم نے اُس کو رتی مرچ نکال کر دی۔ پھر نہ پوچھیں۔۔۔ ”تہوئیں کناں داروں“ نکلے اُس کے۔  ہمارا برصغیری سوادش کھانا ہر کوئی ہضم کر لے۔۔۔ یہ کوئی خالہ جی کا گھر ہے !

لندن کے مقامی وقت کے مطابق ہم دو بجے ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترے تو محبی سید انجم رضا شاہ جی اور اکرم بھائی ہمارے سواگت کے لیے موجود تھے۔ دھکم پیل میں ہم اور شاہ جی ساتھ رہ گئے۔ اکرم بھائی بزرگ شاعر جناب افتخار عارف کے انتظار میں تھے اور افتخار صاحب کہیں اپنی بیٹی کے ساتھ نکل گئے۔  میں اور شاہ جی اکرم بھائی کے گھر پہنچ گئے۔  تھوڑی دیر بعد دوست آتے گئے اور بھابھی کے ہاتھ کے پکے چیکڑ چھولے، دال، چکن کی” لم کڈھ“ کر میں تو آ کر سوگیا کہ لماں جگراتا تھا۔ صبح پانچ بجے آنکھ کُھلی اور یاد خدا کے بعد صبوحی گشت یعنی بر زبان انگلش مارننگ واک پر نکل گئے۔

(جاری ہے)

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481