اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستان کی لاٹری نکل آئی ، دنیا کا چوتھا بڑا خزانہ مل گیا

پاکستان کی لاٹری نکل آئی ، دنیا کا چوتھا بڑا خزانہ مل گیا

پاکستان کی لاٹری نکل آئی ، دنیا کا چوتھا بڑا خزانہ مل گیا

اللہ جب دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کردیتا ہے اور یہی کچھ پاکستان کے ساتھ بھی ہوا ہے بہت ہی موقر ذرائع نے اتنا بڑا انکشاف کیا ہے کہ خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی ۔ وہ جو فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ ؎
کچھ ایسی ہی کیفیت ہے اس وقت میری کہ پاکستان کے سمندروں سے خزانہ ملا ہے اور خزانہ بھی کوئی کم نہیں دنیا کا چوتھا بڑا آئل گیس کاذخیرہ ملا ہے اور یہ خیالی کتابی بات نہیں ہے یہ حقیقت ہے کہ تین سال قبل جس دریافت کا آغاز کیا گیا تھا وہ مل گئی ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیر اعظم بانی تحریک انصاف نے بھی ایک ایسا ہی دعویٰ کیا تھا لیکن پھر پتھر ہٹانے سے اُس دعوے کی ’ہوا ‘خارج ہوگئی تھی لیکن اب کے بار ایسا نہیں ہوا وزارت آئل و گیس نے کنفرم کیا ہے کہ ایک دوست ملک (چین ہوسکتا ہے ) کہ ساتھ مل کر پاکستان کے سمندروں کا سروے مکمل کرلیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے گہرے نیلے سمندروں میں وہ خزانہ دریافت ہوا ہے جو دنیا کا چوتھا بڑا آئل گیس فیلڈ ہے ۔
یہ خزانہ جسے ” بلیو واٹر اکانومی” کہا گیا ہے اتنا بڑا ہے کہ اس سے نا صرف ملکی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ پاکستان آئل اور ایل این جی بیرون ملک بیچ بھی سکے گا ، تحقیقی اور بنیادی کام ہوچکا اب اسے نکالنے کا مرحلہ ہے،ایک اندازے کے مطابق اس خزانے کو حاصل کرنے کے لیے چار سے پانچ ارب ڈالر درکار ہوں گے اور چار سے پانچ سال ہی کا وقت درکار ہوگا جس کے بعد پاکستان سمندر سے تیل نکالنے اور اسے بیرون ملک بیچنے والا چوتھا بڑا ملک ہوگا ، اس وقت دنیا میں آئل گیس کے سب سے بڑے ذخائر امریکا کے پاس ہیں لیکن اُس نے ان سے نہ گیس حاصل کی ہے نہ تیل ظاہر ہے امریکا کاغذ کے نوٹ چھاپ کر یہ دونوں توانائیاں بیرونی دنیا سے خرید رہا ہے اور خود اسے اپنے مستقبل کے لیے بچا رہا ہے ، دنیا میں اس وقت جو بڑے آئل پروڈیوسر ممالک ہیں اُن میں وینزویلا پہلے نمبر پر ہے جس کے پاس اس سیال مادے کے ذخائر سے سالانہ تین چار ارب بیرل تیل نکلتا ہے جبکہ اس کے بعد سعودی عرب ، پھر ایران ، کینڈا اور عراق کا نمبر آتا ہے اب آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ پاکستان کے پاس چوتھے بڑے زکائر ہوں گے تو کون کس نمبر پر جائے گا ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481