فیصلے کرنے والوں سے بات ہوگی، عمران خان
اڈٰیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ 9 مئی ان کی انشورنس پالیسی ہے۔ 9 مئی ختم ہوا تو ان کی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہوجائیں گی۔ تحقیقات کرنا ہے تو 9 مئی کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے یہ 9 مئی کا شور مچاتے ہیں۔ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں ۔ فیصلے کرنے والوں سے بات ہوگی۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میرا آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہوگی۔ اگر چانسلر نہ بن سکا تو بھی کوئی بات نہیں۔ پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ میں اس مقام تک کوئی نہیں پہنچا جہاں میں پہنچا ہوں۔ میں پاکستان کا سب سے بڑا philanthropist ہوں۔ ہم نے 2 اسپتال بنائےاور2 یونیورسٹیاں بنائی ایک اور یونیورسٹی بن رہی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی حکومت سے بات چل رہی ہے۔ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ بات ان کے ساتھ ہوگی جو فیصلے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ ان سے بات کرنا الیکشن میں ان کے ڈاکے کو تسلیم کرنا ہے۔ ہمارے 8 ستمبر کے جلسے کے تین مقاصد ہیں۔ ایک مقصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے۔ دوسرا مقصد قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلانی ہے۔ تیسرا مقصد ملک میں آزاد عدلیہ ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کیلئے عدلیہ پر حملہ کیا جارہا ہے۔
