اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی اسلام آباد میں پر یس کانفر نس

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی اسلام آباد میں پر یس کانفر نس

اسلام آباد ( ) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ 28اگست کو بجلی کے بلوں اور ٹیکسز کے خلاف ملک گیرشٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، ہڑتال کا فیصلہ عوام کا فیصلہ ہے ملک میں مو جو د تمام طبقات نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے، اگر حکو مت ہڑتال کو روکنے کی کوشش کی تو یہ اسے مہنگا پڑے گا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو بلیک میل اور نورا کشتی کر رہی ہیں، عام ادمی اور سفید پوش طبقے کے لیے زندگی گزارنا ممکن ہو گیا ہے،انھوں نے کہا آئی پی پیز ایک اندھا کنواں ہے جس میں ہزاروں ارب روپے پھینک دیے جاتے ہیں اور اس کا تمام تر بوجھ گھریلو صارفین، تجارتی اور صنعتی صارفین کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے اب 25 کروڑ عوام متاثر ہو رہے ہیں لیکن ایک سو کے لگ بھگ ائی پی پیس کے مالکان کو نوازا جا رہا ہے اندھا دھن ان کے لیے ہر طرح کی مراعات فراہم کی جا رہی ہے وہ بجلی بنائیں یا نہ بنائیں کپیسٹی بلنگ میں ڈالرز کے ساتھ ان کی ادائیگی ہو رہی ہیں،ن خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پر یس کانفر نس کر تے ہو ئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصر اللہ رند ھاوا اور دیگر بھی مو جو د تھے۔
لیاقت بلو چ نے کہا جماعت اسلامی نے 14 دن دھرنا دیا اس موقع پرحکو مت کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں طے پایا تھا کہ گھریلو ضروریات پرٹیکسوں کے عائد ہونے سے عام ادمی کے لیے ایک بڑا بوجھ اور ہر گھر کا مسئلہ بن گیا ہے اس میں ریلیف کے اقدامات اور جاگیرداروں اور بڑے لینڈ ہولڈرز پر صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر انکم ٹیکس کے نظام کو لانے کے اقدامات کریں گے، آ ائی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر نظر ثانی اور جانچ پڑتال کے لیے ٹاس فورس قیام کا فیصلہ ہوا تھا،انھوں نے کہاطے پایا تھا کہ حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرے گی تاکہ بجلی اور پٹرول کی وہ قیمتیں صارفین سے وصول کی جائیں جو اس کی اصل لاگت ہے اسی طرح تنخواہ دار طبقے پر جو ٹیکسوں کا بوجھ ہے اسے وہ ری ایڈجسٹ کریں گے اور تنخواہ دار طبقے پر اضافی ٹیکس کے بوجھ کو ہٹا یا جا ئے گا، اسی طر ح تاجر دکاندار اور ایکسپورٹرز پر جو ناروا بندش اور قدغن ہیں انہیں ہٹا کر انہیں ریلیف دیا جائے گا تاکہ ملک کا تجارتی سرکل چل سکے، لیاقت بلو چ نے کچے کے ڈاکوؤں کی جانب سے پولیس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہو ئے کہا کچے کے ڈاکووں کو پکے کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کی سرپرستی اور اشیر باد حا صل ہے، اور اسی طرح ہمیشہ اعلان ہوتا ہے کہ ٓاپریشن کامیاب ہو گیا ہے لیکن ڈاکو بھی کامیاب ہو تے ہیں، لیاقت بلوچ نے کہا پاکستان اور ائی ایم ایف کی شرائط ایک ساتھ نہیں چل سکتی، اگر ائی ایم ایف کی یہ شرائط بھی قائم رہے اور حکومت کی ہٹ دھرمی بھی اسی طریقے سے قائم رہے تو پھر پاکستان ایک ایسی کیفیت کی طرف اگے بڑھے گا،جس میں انار اور فسادات ہوں گے کہ پھر فوج کے بس میں بھی کچھ نہیں ہوگا،جب عوامی رد عمل پیدا ہوتا ہے تو پھر حکمران اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہو تے، اس وقت پورے ملک میں حکومت کی عملا کوئی رٹ نہیں ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں حالات سے زیادہ اپنے اعمال سے خوفزدہ ہیں، انھوں نے کہا پاکستان اس وقت جن گھبیر مسائل سے دوچار ہیں اس کا تقاضہ ہے کہ حکومت عقل، دانشمندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اس دھرنے کے بعد طے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کرے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481