اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

گُلزار نوّے (۹۰) برس کے ہو گئے

4108b886 6d07 49d7 85e1 79b879eb2c7d

وِکی پیڈیا سے مختصر تعارف

گلزار ایک نامور شاعر اور ہدایت کار ہیں۔ وہ پاکستان کے شہر جہلم کے قریب دینہ میں 1934ء میں پیدا ہوئے۔ اصل نام سمپورن سنگھ تھا۔ تقسیم برصغیر کے وقت وہ بھارت چلے گئے۔ ابتدائی زندگی میں موٹر مکینک تھے۔ شاعری اور فلمی دنیا کی طرف رحجان انھیں فلمی صنعت کی طرف لے گیا۔ گلزار نے فلمی اداکارہ راکھی سے شادی کی۔

بطور ہدایت کار
گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت، انگور، دل سے، معصوم، آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں۔ ان کا ٹیلی ڈراما مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

گلزار بطور شاعر

گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں کے لیے گیت لکھے۔ ان کی فلمی شاعری میں بھی ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ ان کے انوکھے اور نادر تشہبات کا استعمال ان کے گیتوں میں نئے رنگ بھر دیتا ہے۔ ان کے گیت نہ صرف ماضی میں پسند کیے جاتے رہے ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی ان کے گانوں کو نوجوان شوق سے سنتے ہیں۔ سینما بین چار سال قبل ریلیز ہوئی مشہور فلم بنٹی اور ببلی کے سپر ہٹ گانے ’کجرا رے’ کو نہیں بھولے یا پھر فلم اوم کارا کا انتہائی مقبول گانا ’بیڑی جلائی لے‘ یا پھر حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کمینے کا ہٹ نغمہ ’رات کے بارہ بجے’ ہو جو آج بھی ٹاپ دس گانوں کی فہرست میں شامل رہتا ہے، گلزار کی قلم سے نکلا ہر نغمہ عوام کے دل و دماغ پر مخصوص چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لیے لکھے گئے گیتوں پر ان کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ذاتی زندگی
گلزار کی شادی راکھی سے ہوئی۔ دونوں کی ایک بیٹی ہے جن کا نام میگھنا گلزار ہے۔ میگھنا گلزار خوش قسمت رہیں کہ انہیں اچھے اور قابل والدین ملے جنہوں نے ادبی اور تعلیمی ماحول میں ان کی پرورش کی۔ انہوں نے نیو یارک یونیورسٹی سے فلم سازی میں گریجویشن کیا اور کئی فلموں میں ہدایت کاری کے فرائض انجام گئے جیسے فی الحال، جسٹ میریڈ، دس کہانیاں، تلوار، راضی اور چھپاک۔ چھپاک کے سارے نغمے گلزار نے ہی لکھے ہیں۔ میگھنا نے اپنے والد گلزار کی سوانح عمری بھی لکھی ہے جو 2004ء میں شائع ہوئی۔

اعزازات

گلزار نے اُردو میں شاعری کی اور گیت لکھے جو ہمیشہ کانوں میں رس گھولتے رہتے ہیں۔ انھیں 2004ء میں بھارتی حکومت کی طرف سے پدما بھوشن کا خطاب ملا۔ اُن کی بے لوث خدمات کے لیے 11ویں اوسِیانز سِنے فین فلم فیسٹیول کی جانب سے 2009ء کا لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ ان کے گیتوں کے تراجم کی انگریزی میں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ گلزار صاحب کو مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی،حیدرآباد ننے 3 مارچ 2012ء کو اپنے چوتھے کانوکیشن میں ڈی۔ لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا جبکہ 2013ء انہیں ہندوستانی سینما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481