اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عوام ایکسپریس ، عوامی انداز ۔۔۔۔ ساہنوں کیہہ ۔۔

23194933 369a 4008 bbc7 2c63524b5b03

عشروں کے بعد عوام یکسپریس پر سفر کا موقع ملا ، تسلیم کرنا پڑا کہ عوامی سفر کیا

عوام ایکسپریس عوامی ایکسپریس ہی ہے جس میں تمام حالات و سلوک عوامی ہے ۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ریل گاڑیوں کی رفتار ان کے نام سے ہے ، اگر یہی بات مانی جائے تو پھر سفر صرف غوری اور تیز گام پر ہی کرنا چاہیے یا پھر لاثانی ایکسپریس ، علامہ اقبال پر سفر کرنے کے بجائے عقیدت اور احترام کا تقاضا ہے کہ اس ٹرین کو ہتھیلوں پر سفر کرانا چاہئے ، شالیمار ایکسپریس میں تو صرف گھومنا پھرنا چاہئے ۔بدر ایکسپریس کو صرف دیکھنا اور راحت محسوس کرنا چاہئے، پاکستان ایکسپریس کو چومنا چایئے ،راول ایکسپریس میں نہانا چاہئے ، خوشحال موسیٰ پاک ، زکریا، شاہ لطیف اور فرید ایکسپریس میں قوالیاں کرنا چاہئیں ، فیض پسنجر پر نعرے لگانا چاہئیں ، تھل ایکسپریس پر ساتھ سمی کو لیکر اونٹ بھی سوار کرلینا چاہئے۔ یہاں ماضی کی غزالہ ریل کار کا ذکر غیر مناسب ہے، ویسے بھی اس کا نام لوگ بھول چکے ہوں گے ۔ ایسا سب کچھ ممکن نہیں اور خلاف حقیقت و فطرت ہے۔ قصہ مختصر ٹرین کے نام سے فرق نہیں پڑتا ، کام دیکھنا چاہئے اور سفر کے دورانیے کے ساتھ ساتھ سہولتیں بلکہ موجودہ ریل کے ابتر حالات میں کم مسائل دیکھنا چاہئیں ۔

عوام ایکسپریس کا یہ سفر بہت طویل نہیں تھا، ملتان سے لاہور تک تھا ، تیرہ اپ عوام ایکسپریس کراچی سے لیکر لودھراں تک دو گھنٹے تئیس منٹ لیٹ تھی اور ساہیوال تک اس کی تاخیر دو گھنٹے سا ت منٹ رہ گئی تھی ۔ یعنی بہتر ٹریک اور معینہ رفتار کے اندر رہتے ہوئے تاخیری دورانیہ کم ہوا تھا مگر پتوکی سے لاہور تک نارووال پسنجر محسوس ہونے لگی، ماضی میں یہی حالت سمہ سٹہ پسنجر کی ہوئی تھی. اس ٹریک پر صرف فرید ایکسپریس ہی رہ گئی ہے ۔

f6f7cf1c 0261 4ff9 ac2c 3c1b5d17c48b
ملتان کینٹ کے بکنگ کلرک کے مطابق کراچی و کوئٹہ سے آنے والی ٹرینوں میں ایئر کنڈیشند کلاسز کا ٹکٹ جاری ہی نہیں ہوتا ،بظاہر تو یہ خلاف فہم ہے لیکن ممکن ہے کہ ریل کے حکام نے کوئی نئی پالیسی جاری کی ہو حالانکہ میں چیچہ وطنی اور میاں چنوں سے بھی ایئر کنڈیشنڈ کلاسز کا ٹکٹ لیکر سوار ہوتا رہا ہوں ۔ اگر ریل کی ملتان کے بکنگ کلرک کی بیان کردہ پالیسی ہی ہے تو وہاں سے راولپنڈی ، پشاور یا دیگر شہروں کو جانے والے مسافر تو صرف خوار ہی ہونگے ، مسافروں کی’ خوارانہ سہولت‘ خلاف عقل اور سمجھ سے باہر و ناقابلِ یقین ہے لیکن توجہ طلب ہے۔

بیس اگست کو کراچی سے روانہ ہونے والی عوام ایکسپریس میں ملتان کینٹ سے بکنگ کلرک کی ہدایت کے مطابق اکانومی کا ٹکٹ( دوٹکٹ مبلغ تئیس سو روپے میں ) لئے اور ٹرین آنے پر کنڈکٹر گارڈ شاہد کی معاونت سے اے سی اسٹینڈرڈ کی کوچ میں پینسٹھ اور چھیاسٹھ نمبرکی دو نشستیں( بعوض اٹھارہ سو دس روپے) حاصل کرلیں، جبکہ اس کلاس کا ریل کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق کرایہ دو ہزار روپے ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ٹکٹ بھی ونڈو سے جاری کیا جائے ۔ اس کوچ میں پچانوے فیصد رائیونڈ کا قافلہ تھا اور ترین کے اندر کا ٹمپریچربتیس ، تینتیس تھا، جہاں حبس ہی حبس تھا ،پنکھوں کی ہوا بھی صرف پنکھوں کی جالی تک لگ رہی تھی ، سائیڈ والی نشستیں ہونے کی وجہ سے پنکھے وہاں سے تو دکھائی بھی نہیں دے رہے تھے ۔ اس قافلے میں شامل علما حضرات سے استفسار کیا تو معلوم ہوا ( بقول ان کے )آغاز سے ہی یہی حالت ہے ، وہ تومع زوجگان اللہ کی راہ میں تبلیغ کیلئے نکلے تھے، انہیں موسم کی شدت محسوس نہیں کرنا تھی لیکن میرا حشر ہورہاتھا اور ہارٹ پیشنٹ ہمشیرہ کی حالت انتہائی تکلیف دہ تھی۔

خانیوال پہنچنے پر الیکٹرک اسٹاف کی تلاش کی تو ایک نوجوان ٹارچ سمیت ٹرین کے ساتھ لپٹا دکھائی دیا ، پانی ڈالا گیا جو بیت الخلاءکے راستے اسی رفتار سے گذر گیا اور بیت الخلاءمیں اس وقت موجود ایک باریش کو بلا ارادہ کپڑوں سمیت نہانا پڑ گیا۔ ایئر کنڈیشنڈ پلانٹ کی جالی صاف کی گئی یا کچھ اور کیا گیا ، خانیوال سے نکلتے ہی حبس میں کمی واقع ہوئی ، یہ حالت لاہور تک رہی ، یہ حالت عوام ایکسپریس کی عوامی سہولت کی دیکھی گئی ہے ، خیر یہ مسئلہ صرف عوام ایکسپریس ہی کا نہیں ، دیگر گاڑیوں کے ایئر کنڈیشنر پلانٹ بھی بوسیدہ ہوچکے ہیں اور ریلوے کے پاس وسائل کی کمی کے باعث اس طرف دھیان نہیں دیا جارہا ،جنہیں دھیان دینے کیلئے اس حبس کا تجربہ ہونا چاہئے ، انہیں سیلون کی سہولت حاصل ہے ، سفر کے دوران مسافروں ، ریل ، سہولتوں بلکہ مشکلوں کا جائزہ لینے کیلئے افسروں کے معائنے کا رواج ہی نہیں رہا ۔

چیچہ وطنی سے لیکر اور خاص طور پر پتوکی سے لاہور تک عوام ایکسپریس میں کوٹ رادھا کشن ، رائیونڈ اور کوٹ لکھپت سے سوار ہونے والے مسافروں کی اکثریت’ حملہ آور‘ ہوئی تو حبس مزید بڑھ گیا ، ایسا تجربہ جعفر ایکسپریس میں بھی ہوچکا ہے”بلکہ وہ تو ایک درجہ بلند قدردانوں کیلئے ‘ اس سے بڑھ کر تھا کہ سلیپر میں زبردستی کچھ لوگ گھس گئے ، ان اسٹیشنوں سے سوار ہونے والوں کو روکنے والا چیک کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ، خانیوال سے لاہور تک ریل کے ساتھ چلنے والے پولیس اہلکار ٹکٹ چیکر ، کنڈکٹر گارڈ کے فرائض بھی سنبھالتے ہیں اور کوچوں و مسافروں کی تعداد اور پیسوں پر باہمی جھگڑا بھی کرتے ہیں ، اس کی ایک مثال کچھ روز پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک کنڈیکٹر گارڈ کی دہائی ہے جو اس پرپولیس اہلکار کے تشدد سے متعلق ہے۔ مجھے ان ٹرینوں اور نارووال پسنجرٹرین میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ۔ رہی بات عام ایکسپریس میں سفر کی تو یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ رفتار اس کی بھی باقی ٹرینوں جیسی ہے ، عوامی ہونے پر اسٹاپ زیادہ ہیں اور یہی سفر کا دورانیہ زیادہ ہونے کی وجہ ہے ، باقی مسائل ریل چلانے والوں کے پیدا کردہ ہیں اور ان مسائل کی بنیادی وجہ اور ماں کا نام عدم توجہی ، غفلت اور’ مینوں کیہہ ‘ ہے ۔ اس کے باوجود ٹرین کا سفر بہر حال بس سے بہتر ہے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481