اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جلسہ منسوخ کر کے پی ٹی ائی قیادت مشکل میں پھنس گئی

9 مئی کے 12 مقمات میں عمران خان کا 10 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

حکومت کی جانب سے اجازت نامے کی منسوخی کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے ترنول پر جلسہ نہ کرنے کے اعلان نے پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی صفوں میں مایوسی کی شدید لہر دوڑا دی ہے۔
مختلف قائدین کی جانب سے اگرچہ مختلف قسم کی توجیہات پیش کی جا رہی ہیں تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جلسے کی منسوخی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور آنے والے دنوں میں کارکنوں کو احتجاج کے لیے نکالنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کی اجازت سے آٹھ ستمبر کو ایک بار پھر اسلام آباد میں جلسے کا اعلان کیا ہے۔
اب تک پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے براہ راست یا بعض حامی اینکرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے ذریعے بالواسطہ طور پر جلسے کی منسوخی کے حوالے سےجو توجیہات پیش کی جا رہی ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ حکومت نے عمران خان کو پیغام بھیجا تھا کہ چونکہ جمعرات کو اسلام آباد میں دینی جماعتوں کی جانب سے بھی احتجاج کی تیاری کی جا رہی ہے لہذا کوئی بڑا اور ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے جس سے اتفاق کرتے ہوئے عمران خان نے ہنگامی طور پر اعظم سواتی اور دیگر کو جیل بلایا اور جلسہ منسوخ کرنے کی ہدایات جاری کیں

آئی ایم ایف فیکٹر کہ کتنا عمل دخل ہے؟ کیا عمران خان ڈیل کے مرحلے میں ہیں؟

ایک اور توجیح یہ پیش کی جا رہی ہے کہ چونکہ آئندہ ماہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو اگلے قرضوں کے پروگرام کی منظوری دی جانی ہے لہٰذا حکومت کو خدشہ تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے جلسے کے نتیجے میں کوئی بڑا احتجاج ہوتا ہے اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو عالمی سطح پر یہ پیغام جائے گا کہ ملک ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے لہذا قرضے کی منظوری کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ ہوگا۔
ان ذرائع کا دعوی ہے کہ عمران خان نے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے اس پیغام پر جلسے کی منسوخی پر آمادگی ظاہر کی تاہم اس کے لیے کچھ شرائط عائد کی ہیں مگر اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا شرائط ہیں۔یہاں مبصرین کی جانب سے ایک اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ماضی میں تحریک انصاف آئی ایم ایف سمیت عالمی اداروں کو پاکستان کےقرضے روکنے کے لیے باقاعدہ خط لکھ چکی ہے اور اب ایک ایسے مرحلے پر جب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ براہ راست تصادم میں ہے،حکومتی درخواست پر وہ ایسا کرنے کے لیے کیوں کر آمادہ ہو گئی۔اور اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ پس پردہ مذاکرات یا ڈیل کا ڈول ڈالا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں انہیں ریلیف مل سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت عمران خان اس حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو وعدہ معاف گواہ بنا کر ان کا فوجی ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔

 

 

پی ٹی آئی کی قیادت کے درمیان تقسیم مزید گہری ،اعظم سواتی اچانک اہم کیوں ہو گئے؟

دوسری جانب جلسے کی منسوخی کے مشکوک اعلان کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی قیادت کے درمیان تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے۔ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جانب سے اعظم سواتی کی اڈیالہ جیل میں صبح سویرے ملاقات پر سوال اٹھانے کے بعد ہر طرف سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اعظم سواتی اچانک اتنے معتبر کیونکر ہو گئے کہ ان کے لیے خاص طور پر جیل کھلوا کر پارٹی کے بانی سے ملاقات کا اہتمام کرایا گیا۔واضح رہے کہ اعظم سواتی گرفتاری سمیت بعض ناخوشگوار تجربات سے گزرنے کے بعد عملاً پارٹی معاملات سے دور ہو گئے تھے تاہم ان کا اچانک منظر عام پر آنا پارٹی کے اندرونی حلقوں کے لیے بھی حیرانی کا باعث ہے۔

 

کارکنوں میں اشتعال، اپوزیشن اتحاد ناراض

اس صورتحال میں سب سے زیادہ اشتعال عام پارٹی کارکنوں کے اندر پایا جاتا ہے جو ملک کے طول و عرض سے جلسے میں شرکت کے لیے یا تو روانہ ہو چکے تھے یا روانگی کی تیاری میں تھے کہ اس دوران جلسہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔
دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان جس کی سربراہی محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں وہ بھی اس بات پر سخت نالاں ہیں کہ ان سے کسی قسم کی مشاورت کے بغیر جلسہ منسوخ کیوں کیا گیا جبکہ چند گھنٹے پہلے تک وزیراعلی کے پی کے علی امین گنڈاپور سمیت تمام پارٹی رہنما بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ حکومت اجازت دے یا نہ دے جلسہ ہر صورت میں ہوگا۔اس طرح پی ٹی آئی کو دو محازوں پر اپنی صفائی پیش کرنے کی مشکل درپیش ہے، ایک تو پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مطمئن کرنا ہے اور دوسری جانب حال ہی میں تشکیل پانے والے سیاسی اتحاد کو مطمئن کرنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔

 

By canceling the rally, the PTI leadership got into trouble،پی ٹی ائی قیادت مشکل میں پھنس گئی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481