اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ناڑے والی فوکس ویگن

4ecb97ed 7b7d 4840 8e5d e5b67f2c9d68

یہ تصویر میں نے ابھی کچھ منٹ پہلے چار کور پینسل سے بنائی ہے، حالانکہ 1992کی میری اس گاڑی کی تصویریں بھی موجود ہیں لیکن جو مزہ مجھے اس تصویر کو بنانے کا آج آیا وہ تصویروں میں نہیں ہے.

قصہ مختصر ایک کہانی عرض ہے اس کراچی والی میری تیز رفتار فوکس ویگن پر …ایک رات کوئی نو بجے ہوں گے، میں اس کو بہت تیز بھگاتے ہوئے ایک دوست کے ساتھ سمندر پہ جا رہا تھا کہ یہ کلفٹن برج کے بالکل درمیان میں اس کا ایکسلریٹر وائر ٹوٹ گیا میں نے کسی طرح سے گاڑی کو نیوٹرل میں ڈالا اور چونکہ رفتار تیز تھی، ٹریفک بہت کم تھی اور یہ خود ہی بھاگتی ہوئی جا رہائی تھی. آگے بلڈنگز کے تین تلوار کے الٹے ہاتھ جیسے ہی مڑا مجھے یاد آیا کہ اس گلی میں ہمارے پرانے دوست محمد حنیف کا گھر ہے. عین اس کے گھر کے سامنے جاکر بریک لگائی.

28f0c6ad a5b2 4cbf b6f3 2dda523c6dc3فیکا کی دوڑ  جوانی کی ایک تصویر

اب میں اتر کے سوچنے لگا کہ میں کیا کروں؟ اچانک ایک آئیڈیاآیا اور میں نے محمد حنیف کے گھر کی گھنٹی بجائی .محمد حنیف اس وقت اپنے نائٹ سوٹ میں باہر تشریف لائے اور مجھے دیکھ کر حیران ہو گئے… اوئے فیکے تو کتھے؟ میں نے انہیں کہا بلکہ عرض کیا کہ مجھے دو تین ناڑے چاہیئین.. پہلے تو وہ ہنسنے لگے، لیکن ہمارے محمد حنیف اتنے اچھے ہیں کہ کوئی سوال جواب کیے بغیر واپس اندر گئے اور جب وہ اندر گئے تو شاید کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ وہاں موجود تھے، میں نے جرات نہیں کی کہ میں اندر جاؤں، بہت بڑے بڑے قہقوں کی اواز آرہی تھی، جب محمد حنیف واپس آئے تو انہوں نے دو عدد آزار بند جن کو ناڑا کہتے ہیں وہ مجھے تھما دیے، انہوں نے کچھ نہیں پوچھا،البتہ وہ میرے پیچھے پیچھے آئے اور چیک کرنے لگے کہ اس وقت اس کو ان ناڑوں کی کیا ضرورت پڑ گئی.

چونکہ میری گاڑی کا ایکسلریٹر وائر ٹوٹ گیا تھا اور فوکس ویگن کا انجن پچھلی طرف ہوتا ہے اور ایکسلریٹر وائر ٹوٹنے کی وجہ سے میں نے اس کا ایکسیلریٹر جہاں سے آپریٹ ہوتا ہے، وہاں ناڑا باندھا اور ڈرائیونگ سیٹ تک ناڑے کو لے کر آیا اور اس ناڑے کو جب میں کھینچتا تھا تو ایکسیلریٹر نے کام کرنا شروع کر دیا، تو محمد حنیف میری اس حرکت پر اتنا ہنسا، اتنا ہنسا کہ اس کے پیٹ میں بل پڑ گئے.

خیر یہ کہانی ایک ناول کی طرح ان کے دل میں بس گئی وہ بار بار اپنے دوستوں کو یہ کہانی سنایا کرتے تھے. جناب یہ وہی فوکس ویگن ہے جو 1992 میں جب میں لاہور سے اپنے پورے گھر کو لٹا کے اور اپنی پرانی فوکس ویگن ان لٹیروں کو کاغذات سمیت دے کے بلکہ دان کر کے کراچی آیا تھا، تو ایسے لگتا تھا جیسے 1947 میں ہوا تھا، ادھر سے لٹ کے ادھر گئے تھے اور ادھر سے لٹ کے ادھر چلے گئے تھے.. مجھے بھی ایسے لگا تھا کہ میں لاہور سے لٹ کے کراچی آیا ہوں، میں نے یہ والی گاڑی کراچی آ کے خریدی تھی، میں مکینک تو نہیں مگر کہہ سکتا ہوں کہ فوکس ویگن دنیا کی بہترین کار ہے جو کہ بہت عرصہ تک میرے ساتھ رہی اور اس کے ساتھ میری بہت یادیں وابستہ ہیں ان میں سے ایک یاد یہ ہےجو میں نےآپ کے ساتھ  شیئر کی.


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481