اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عمران کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی شیر افضل مروت کی مخالف نکلیں

سائفر کیس میں خان صاحب کو سزائے موت ہو سکتی ہے: علیمہ خان

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی شیر افضل مروت کی مخالف نکلیں،

انہوں نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات کے دوران شیر افضل مروت سے ہاتھ ملایا، انہیں گلے نہیں لگایا۔پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بات وہی کرنی چاہیے جو واقعتاً ہوئی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت سے صرف ہاتھ ملایا، انہیں گلے نہیں لگایا۔اگر شیر افضل نے پارٹی میں آگے مزید چلنا ہے تو انہیں درست بات کرنی چاہیے۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر عوام نکل آئیں گے، انہیں کسی کو لیڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے شیر افضل مروت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جلسے میں شامل ہونا چاہیے لیکن یہ کہنا کہ وہ خودکوئی جلسہ کر رہے ہیں درست نہیں ہے، لوگ کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں کہ وہ آپ کے بلانے پر آ جائیں گے۔

واضح رہے کہ شیر افضل مروت نے گزشتہ روز جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اج تین ماہ بعد ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی، جس پر انہوں نے گلے لگایا اور دونوں طرف سے گلے شکوے کا تبادلہ ہوا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیرسٹر گوہر کے سامنے مجھے 22 اگست کے جلسے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔پارٹی میں اختلافات نہیں ہوں گے، اب ہم باہم شعر و شکر ہو گئے ہیں۔

شیر افضل کو کیوں ہٹایا گیا اور کیوں دوبارہ بلایا گیا؟

عام تاثر پایا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال پر لوگوں نے مثبت رد عمل نہیں دیا جس کے بعد ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی کو شیر افضل مروت کی ضرورت پڑ گئی اور انہوں نے انہیں بلا کر ملاقات کر لی اور جلسے کی ذمہ داری بھی سونپ دی۔
واضح رہے کہ پارٹی کے کئی رہنما شیر افضل مروت کی سرگرمیوں کے حق میں نہیں تھے کیونکہ وہ مختلف طریقوں سے میڈیا کی توجہ حاصل کر کے دیگر کئی رہنماؤں کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ قرار دینے سمیت مختلف الزامات لگا کر قیادت سے ان کے خلاف فیصلہ کرایا گیا تاہم جب ضرورت پڑنے پر احتجاج کے لیے دیگر قائدین کارکنوں کو نہیں نکال سکے تو ایک بار پھر شیر افضل مروت کو پرانی پوزیشن پر بحال کر دیا گیا۔ 

 Aleema Khan also turned out to be against Sher Afzal Marwat,علیمہ خان بھی شیر افضل مروت کی مخالف نکلیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481