اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا آبپارہ سے ڈی چوک تک احتجاجی مارچ

ڈر

مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آبپارہ چوک سے ڈی چوک تک احتجاجی مارچ کیا۔مختلف مذہبی جماعتوں کے سینکڑوں کارکنان ریلی کی صورت میں ایکسپریس چوک پہنچ گئے۔

اس موقع پر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جس نے ڈی چوک کی جانب جانے والے راستے بند کردیے۔

مارچ کے شرکا نعرے بازی کرتے ہوئے آگے برہ رہے تھے.انتظامیہ نے تحفظ ختم نبوت مارچ کے شرکا کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تاہم  چند درجن مظاہرین رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ریڈزون میں داخل ہوگئے اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پہنچ گئے۔تاہم  ریڈ زون پہنچنے پرپہلے سے الرٹ  پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی گئی۔بعد ازاں جلوس کے قائدین نے مظاہرین کو ڈی چوک پر روک لیا.

مظاہرین نے سپریم کورٹ جانے کی کوشش تو ڈی چوک میں پولیس کی طرف سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، چند درجن مظاہرین ڈی چوک میں موجود تھے کہ شیلنگ اور اعلانات کے بعد واپس آگئے۔اور مارچ ریڈ زون گیٹ پر روک لیا گیا، سپریم کورٹ کی طرف سے بڑھنے سے رکنے پر پولیس نے شیلنگ روک دی۔

 

 

سات ستمبر تک فیصلہ واپس لینے کی ڈیڈ لائن

 

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ کو کوئی حق نہیں کہ آئین و قانون کے خلاف فیصلہ دے،انہوں نے دھمکی دی کہ  اگر اس طرح کے فیصلے ہوں گے تو تمہارا گھیراؤ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سات ستمبر مینار پاکستان پر یوم فتح کانفرنس سے پہلے اپنا فیصلہ واپس لے لو، ورنہ اسلام آباد کے گلی کوچوں میں گھوم نہیں سکو گے،

انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو چار دیواری میں تبلیغ کی اجازت دے کر آئین و اسلام کی خلاف ورزی کی گئی، قادیانی آئین کے برخلاف خود کو اقلیت نہیں مانتے، انہیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے غیر مسلم قرار دیا ہے، قادیانی اور چیف جسٹس دونوں پارلیمان کے متفقہ آئین کو نہیں مانتے۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481