اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

انجمن فروغ پہاڑی زبان کے زیر اہتمام محترم محبت حسین اعوان کے اعزاز میں نشست

FB IMG 1724065258148 1

انجمن فروغ پہاڑی زبان کے زیر اہتمام مسلم ٹاؤن راولپنڈی میں ایڈیٹر کوہسار نیوز راشد عباسی کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی نشست میں دوسرے مہمان اعزاز سیرت النبی پر پہاڑی زبان میں پہلی کتاب لکھنے والے محترم محبت حسین اعوان (بیروٹ، حال مقیم کراچی) تھے۔ سیرت النبی پر ان کی کتاب "اساں نیں نبی پاک اؤر” کے علاوہ پہاڑی ضرب الامثال پر کتاب "پہاڑی آخان” اور مختصر افسانوں پر مشتمل کتاب "پھلاں پہری چنگیر” بھی زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔

جناب محبت حسین اعوان نے اپنے بچپن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ ان کے والد گرامی ایک خطیب اور امام مسجد تھے۔ غربت کا زمانہ تھا۔ بچے سرکاری سکولوں میں بھی کم ہی پڑھتے تھے، پرائیویٹ سکولوں کا ابھی فیشن عام نہیں ہوا تھا۔ بہن بھائیوں میں صرف انھوں نے ہی اعلی تعلیم حاصل کی۔

آبائی علاقے سے نکل کر پہلے محبت حسین اعوان لاہور اور پھر کراچی چلے آ گئے۔ انھوں لکھنا تو پڑھائی کے دوران ہی شروع کر دیا تھا۔ پرنٹ میڈیا کا دور تھا عبیداللہ علوی اور دیگر کچھ لوگ چھوٹے چھوٹے ہفتہ وار اخبار نکالتے تھے ان میں کالم کا سلسلہ جاری رہا۔ تین مضامین میں ماسٹر ڈگریاں حاصل کرنے کے علاوہ اور قانون کی بھی اعلی ڈگری حاصل کی۔

پہاڑی زبان میں سیرت النبی کو محبت حسین اعوان سعادت اور توشہ آخرت سمجھتے ہیں۔ انھیں اس سلسلے میں ایوارڈ کی بھی پیشکش ہوئی لیکن انھوں نے انکار کر دیا کہ یہ کام انھوں نے کسی ایوارڈ کے لیے نہیں کیا۔ مسجد نبوی کی لائبریری میں جہاں 36 زبانوں میں سیرت النبی پر کتب موجود تھیں وہاں 37 ویں زبان میں ان کی کتاب بھی شامل کی گئی ہے۔

محبت حسین اعوان نے کہا کہ وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی کتب ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔ ان کو کتب کی اشاعت سے جو نام اور شہرت ملی وہ ان کا اثاثہ ہے۔ وہ سیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف علاقوں کی سیاحت کرتے ہیں جب بیرون ملک بھی ہر سال جاتے ہیں جس پر ڈیڑھ دو ملین روپے لگتے ہیں۔

محبت حسین اعوان کا کہنا تھا کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اس لیے انھیں جو چیز پسند آ جائے اسے وہ حاصل کر لیتے ہیں چاہے اس کے لیے زیادہ رقم دینی پڑے، سفارش کروانی پڑے یا کوئی اور ذریعہ استعمال کرنا پڑے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی اولاد میں چھ ڈاکٹر ہیں۔ ان کے بچے عام سکولوں میں پڑھ کر میڈیکل کالجوں تک پہنچے۔ اور اب کامیاب زندگیاں گزار رہے ہیں۔ بچوں کی کامیابی والدین کے لیے راحت اور طمانیت کا وسیلہ ہوتی ہے۔

انھوں بتایا کہ انھوں نے ادارہ تحقیق الاعوان بنایا جس کے زیر اہتمام ان کی اردو پہاڑی کتب کے دیگر لاتعداد مصنفین کی کتب شائع ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کہیں بھی جائیں پروگراموں میں تقریریں نہیں کرتے۔ علمی اور تحقیقی کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور اس سے انھیں راحت اور طمانیت ملتی ہے۔ IMG 20240819 WA0033


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481