اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم۔۔۔۔ صحافت کا نابغہ

FB IMG 1618206927786 2

کالم شالم

صحافت کا نابغہ 

 

ہم نے اپنے صحافتی گرو عبداللہ کامریڈ سے پوچھا، "مرشد صحافت کا مطلب کیا ہے؟”

بولے آسان لفظوں میں تو "صفحے کالے کرنا” یا پھر "منہ کالا کرنا”.  ہم کچھ نہ سمجھے تو ہمیں ”ٹاٹرہ باٹرہ “ دیکھ کر گویا ہوئے۔۔

images 56
"دیکھو! اگر تو صحافت کا مقصد حق و صداقت کا پرچار ہے تو بہت نیک کام ہے۔ اور اگر صحافت مقتدر حلقوں سے مراسم یا مال پانی بنانے کے لیے کی جائے تو منہ کالا کرنے کے مترادف ہے۔”

تب ہم نے” گل کو کلاوہ مارا “ اور "روزی روزگار کے جگاڑ“ کے لیے موسیقی پر فُل وقت فوکس کیا کہ ایسی صحافت جو کامریڈ نے بتائی ”پُہکھ کے پہنگڑوں“ کے سوا کچھ بھی نہیں۔  سو ہم نے جسم و روح کے رشتے کو بحال رکھنے کے لیے سوچا۔۔۔ اگر سچ نہ لکھ سکیں تو منہ کالا کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ چوتھے کالے سے پہاڑی راگ الاپیں۔  سو ہم اپنی ذاتی ”دوجنگی گڈی “ لے کر شاہراہ موسیقی پر رواں ہو لیے اور ہمارے اخبار کے اڈیٹر شاجی ”لوڑتے“ ہی رہ گئے۔

جب اُسی اخبار کی سالانہ تقریب منعقد ہوئی تو لیاقت باغ ہمارے دفتر میں ہماری بکنگ ہوئی۔ جب ہم سٹیج پر "پدھارے” تو سامنے شاجی موٹی عینک لگائے اپنے گھمبیر صحافتی رعب اور دبدبے کے ساتھ براجمان تھے۔ ہمیں دیکھ کر "زور کاجھٹکا ہائے زوروں سے لگا” اور سٹیج پر آ گئے۔  ہم سے مائیک لے کر حاضرین سے گویا ہوئے،  ” یہ جو گلوکار ہیں، یہ کبھی ہمارے اخبار کے بے تنخواہ رپورٹر ہوا کرتے تھے۔ خدا خبر یہ گلوکار کیسے بن گئے”

ہم نے شاجی کے گوڈے پکڑ کر کہا کہ حضور

غالب شناس شاجی جھوم اُٹھے اور ہم نے مرزا کی غزل چھیڑ دی ۔۔۔۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اَور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

تقریب کے بعد شاجی نے اپنے دفتر میں بُلا کر ہماری چنگی طرح کلاس لی۔  فرمانے لگے،

"پُتر ! تم نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ یاد رکھنا، مراثی سے صحافی بڑا ہوتا ہے”

ہم نے دست بستہ عرض کی،

"سرکار! اگر سچ کہا تو آپ خفا ہو جاویں گے”

بولے، ”بے فکر ہو کر بکو “

ہم نے عرض کیا،  "ایسے صحافی سے مراثی لاکھ درجے بہتر ہے جو سچ نہ لکھے یا لکھ سکے۔ حق بات کو مصلحت یا منفعت کے لیے چُھپائے اور  کھوتے کو شیر ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کرے۔ شاہوں کے قصیدے لکھے اور مناصب پائے”

شاجی بولے،  "تم بھلے گلوکار ہوجاؤ، تمھارے اندر سے صحافی نہیں نکلے گا”

ہم نے فرشی سلام عرض کر کے عرض کیا، ” مرشد! یہ آپ اور کامریڈ کا فیض ہے”

images 57
وہ دن اور آج کا دن، وہ مرشد ہائے گرامی تو زندگی کی سرحد عبور کر گئے اور ہم بچوں کی روزی کے چکر میں دیس پردیس پھرتے رہے۔  یہ بات اب اس لیے یاد آئی کہ ہمارے لنک روڈ، سینا لیبارٹری کی سکونت کے وقت ایک بچہ اسکول سے چُھپ کر ہمارے پاس آجاتا اور چھٹی تک بیٹھا رہتا۔ ہم اکثر پوچھتے کہ کیوں وقت ضائع کر رہے ہو؟ وہ مختلف بہانے بناتا۔  آٹھویں کا امتحان ہم نے اپنے دوست سے کہہ کر پاس کروا دیا۔ پھر وہ نظر نہ آیا۔ مدت بعد ایک دن فون آیا اور کہا گیا کہ فلاں سینئر اینکر پرسن آپ کا انٹرویو لیں گے۔ جب وہ سامنے آیا تو ہم بے ہوش ہونے لگے تھے کہ صحافت پر ایسا برا وقت بھی آنا تھا۔ پھر سوچا آج کل صحافت نام ہے فقط ٹچ موبائل کا۔  بس پھر آپ سینئر اینکر بھی ہیں، صحافی بھی ہیں اور نمائندے بھی۔  آپ روزانہ انتظامیہ کے دفتروں میں گھومیں پھریں۔ کمشنر، ڈی سی، اے سی، ایس پی، تھانے دار کے ساتھ سلفیاں لیں اور ناخواندہ سماج کو بتائیں کہ میں وہ بلا ہوں جو انٹرٹینمنٹ فنڈ تک کھا جاؤں تو ڈکار نہ ماروں۔  سو جہاں ہر شعبہ زوال کا شکار ہے وہاں اگر صحافت میں بھی جگاڑیے در آئے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں۔ جہاں صحافت کے کاندھے پر سوار ہو کر بڑے بڑے کالمیے وزارتوں تک نقب لگا چُکے تو اپنے پیٹ کے دوزخ کی آگ بجھانے کی خاطر اگر کوئی کچھ چھوٹا موٹا ہیر پھیر کر رہا ہے تو کیا بُرا ہے۔ آخر اسلام کا چھٹا رکن روٹی بھی تو ہے بقول بابا فرید رح

اور راحت اندوری تو یہاں تک کہتا ہے

دربدر جو تھے وہ درباروں کے مالک ہوگئے
کل کے ہاکر آج اخباروں کے مالک ہوگئے

ہم نے ایک بار ایک صحافی دوست کو مضمون لکھ بھیجا کہ اخبار میں چھاپ دو۔ اُس نے پڑھ کر فون کیا کہ سارا مضمون پڑھا ہے مگر یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے اس کی سمجھ نہیں آئی۔

"کہاں دریائے راوی اور کہا چین کا سی پیک منصوبہ۔ یہ بات کچھ ”پلے نی پڑی“

ہم نے عرض کیا کہ بڈیو پہلی فرصت میں مضمون واپس کریں اور ہماری غلطی پر ہم کو معاف فرمائیں کہ ہم کوئی دانش مند شخص نہیں۔  سو جب صحافت کا معیار یہاں تک پہنچ جائے تو سیانے کہتے ہیں۔۔۔
چپ کر دڑ وٹ جا، نہ عشق دا کھول خلاصہ
بلکہ بقول ہمارے اپنے

جوڑی کنگاں دی
اگے اگے ماہیا اے،  پِچھے فوج ملنگاں دی

شکیل اعوان

ایبٹ آباد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481