اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

❤️ مری میرا دوسرا گھر ہے ❤️

66cd5243 f9cb 44dc 9c95 e563d19d8a34

میں پچھلے کئی سالوں سے مری آجا رہا ہوں۔۔۔مجھے جیسے ہی موقع ملتا ہے میں لاہور سے نکلتا ہوں اور مری پہنچ آتا ہوں۔ اس بات کا اندازہ یوں لگا لیں کہ میں 3 اگست کو مری آیا۔۔ آدھی رات اسلام آباد اور بقیہ آدھی رات مری میں گزاری اور پھر ضروری کام سے واپس لاہور نکل گیا۔ دو دن لاہور اور دو دن گائوں گزارنے کے بعد کل دوبارہ 550 کلومیٹر کی ڈرائیو۔۔۔ بریک لگائے بغیر طے کی اور رات 9 بجے پھر مری پہنچ آیا ہوں۔

میں نے مری کو ہر موسم اور ہر ادا میں محسوس کیا ہے۔ میں نے رات 3 بجے دسمبر کی پہلی برف باری دیکھی، کلڈنہ چوک سے گاڑیوں کا پھسلنا دیکھا۔۔ اور مارچ سے اگست تک مری کے بھیگتے بدن کو بھی دیکھا۔ میں نے راتیں چھت پر بیٹھ کر ستاروں کو تکتے ہوئے گزاری ہیں اور صبح کے وقت "فبای الا ربکما تکذبن” کی صدا بلند ہوتےسنی ہے۔ میں نے پہاڑوں پر موجود ۔۔۔۔ گھروں سے پھوٹنے والی روشنیوں کو بھی۔۔۔ آنکھوں میں سمویا ہے اور بارش کے بعد۔۔۔ جب سورج کی کرنیں سرسبز پہاڑوں سے ٹکراکر قوس قزح کے رنگ بکھیرتی ہیں، میں نے ان لمحوں کا بھی دیدار کیا ہے۔

رات کے وقت پہاڑوں پر گاڑی چلانا، سیدھا سیدھا موت ہوتا ہے لیکن مجھ بنجارے نے نہ جانے کتنی ہی راتیں، پہاڑوں پر گاڑی دوڑاتے ہوئے گزاری ہیں۔ دسمبر کی ایک رات جب ٹھنڈ، آسمان سے پہاڑوں پر اتر رہی تھی، میں نے کار کے دروازے کھول دئیے، موسیقی کی سروں کو اونچا کیا اوہ وہ رات ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر گزار دی تھی۔ وہ سکون ایسا سکون تھا، جہاں خیالی دنیا حقیت کا روپ دھار چکی تھی۔ میں ہزاروں راتیں بھول سکتا ہوں، لیکن زندگی بھر۔۔ اس ایک رات کا تاوان ادا نہیں کرسکتا۔

میں کس کس چاشنی کو بیان کروں؟

یہ ساری باتیں بتانے کا مقصد یہ کہ میں نے مری کو ہر موسم اور ہر حال میں دیکھا ہے۔ لیکن، اس بار مری کے موسم میں جو ٹھنڈ اور سکون ہے، وہ پہلے کبھی محسوس نہیں کرسکا۔ آپ کسی اونچے مقام پر بیٹھے ہیں، بادل ٹھہر ٹھہر کر آپ کے قدموں کا بوسہ لیتے ہیں۔ ادھر سے ٹھنڈی ہوا کی ایک لہر چلتی ہے جو آپ کے دل میں سرایت کرجاتی ہے۔ سکون سے آپ کی آنکھیں بند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ دل سے ایک ہی صدا اٹھ رہی ہوتی ہے "اے وقت رک جا، تھم جا، ٹھہر جا”۔ لیکن ظالم وقت کب رک پایا ہے۔ وقت دبے پائوں چلا جاتا ہے لیکن ایک بنجارہ، ان لمحوں کی چاشنی سے "خیال پارے” کشید کرکے ان لوگوں تک پہنچاتا رہتا ہے، جو ان لمحوں کو محسوس کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔66cd5243 f9cb 44dc 9c95 e563d19d8a34
تصویر : میکڈونلڈ، مری ایکسپریس وے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481