اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آہ۔۔۔۔ زادی  جمیل الرحمن عباسی ۱۴ اگست  ۲۰۲۴ ء

آہ۔۔۔۔ زادی  جمیل الرحمن عباسی ۱۴ اگست  ۲۰۲۴ ء

  اقبال نے اگرچہ کسی خاص معنی میں سہی لیکن وطن کو بت قرار دیا تھا ۔ان کی  نظم وطنیت ’’ یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے ‘‘ سے آگے بڑھ کر  ’’ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے‘‘ سے ہوتی ہوئی ’’اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے ‘‘ پر تمام ہوتی ہے ۔  اگر ہم بہ حیثیت قوم    مصطفوی بن گئے ہوتے تو  ہماری شان نرالی ہوتی  لیکن   ہم  اتنے گئے گزرے ثابت ہوئے کہ ’’وطنی وثنی ‘‘ یعنی  ’’بت  وطن ‘‘ کے پرستار بھی نہ بن سکے ۔ اگر ہم نے ’’ لیلائے وطن ‘‘ کو  اس رنگ میں چاہا ہوتا کہ جیسے  کسی بھی شے کو  چاہا جاتا ہے تو  ہمارا وطن  لہلہا رہا  ہوتا  اور ہم ان برے حالوں میں نہ ہوتے جن میں مبتلا ہیں لیکن یہ    ارادہ و عمل سے محروم ایک  آرزو ئے محض ہے  جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔

آج پھر یوم آزادی ہے ۔ اگرچہ باجوں کی ’’پاں پاں ‘‘ نے کچھ سماں تو باندھا لیکن  حال وہی ابن انشا کے میلے والا ہے ۔’’آج میلا لگا ہے اسی شان سے  ۔۔۔ پر وہ ننھا سے الھڑ سا لڑکا کہاں ‘‘

تو لڑکے کیا بڑے بھی  لاتعلق سے نظر آتے ہیں ۔ کتنوں کو جشن آزادی یاد ہی نہیں ۔اب وطن کے لیےچوں کہ بت کا لفظ اقبال استعمال  کر گئے تو ہم جون سے قدرے معذرت کے ساتھ صورت حال کی تعبیر یوں کرتے ہیں:

  کیا ستم ہے کہ تیری ’مورت‘

غور         کرنے پہ                    یاد آتی ہے

عزیز ہم وطنوں کی ایک بڑی تعداد کا حال فیض والا  ہے کہ:

                              دنیا  نے تیری یاد سے بے گانہ  کر دیا

 تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے

کل ایک صاحب کو سنا مسجد میں وضو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے ’’چودہ اگست تو ان کی ہے جن کی ’’بجلی فری‘‘ ہے۔گویا حال غالب والا ہے :

نیند اس کی ہے                        دماغ اس       کا ہے راتیں اس کی ہیں

تیری زلفیں جس کے ’’دیواروں ‘‘ پر پریشاں ہو گئیں

 یہ تو بڑوں کا حال ہے بچوں کی سناؤں تو کل میری ایک عزیز طالبہ ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں  ہم ایک ہیں ‘‘ سن کر کہنے لگی ’’یہ نغمہ جس کسی نے جب لکھا تو اس وقت شاید پاکستانی قوم ایک رہی ہو گی لیکن آج تو بالکل بھی ایک  نہیں ہے ‘‘ ۔ میں ہاں ہوں کر کے چپ ہو گیا ۔اب اس بچی کو کیا معلوم کہ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے جس شےکو توڑا گیا تھا وہ ایکا ہی تو تھا ۔ اور رہا پرچم کا سایہ تو اس غریب پرچم  کے سائے میں قومی تہواروں پر  پرچم کشائی کرنے والے بھی کبھی ایک نہیں رہے یہاں تک کہ جو ایک صفحہ پر ہونے پہ اتراتے تھے وہ بھی نہیں ۔

جش آزادی پر ہم فیض صاحب  کی نظم ’’صبح آزادی ‘‘ پڑھا کرتے ہیں ۔ یہ نظم ۱۹۴۷ میں لکھی گئی ۔  ابھی تک پاکستانیت زندہ تھی  لیکن فیض اپنے مخصوص اشتراکی نظریات کے  زیر اثر چوں کہ حساسیت کا شکار تھے تو انھوں نے  تلخ لہجے میں یہ نظم لکھ دی۔ لیکن کسے معلوم تھا کہ قوم کے لیڈران ’’پوری محنت ‘‘ سے فیض کے اندیشوں کو سچ ثابت کریں گے  تاکہ قوم کو فیض صدی منانے کا موقع مل سکے۔   بہرحال اس نظم کے ایک شعر نے  یوں کہیں کہ ہمارے قومی المیے کو بیان کر دیا ہے :

بہت بدل چکا ہے اہل درد کا دستور

نشاط وصل حلال  و عذاب ہجر حرام

تو پاکستان بننے کے بعد ہم  احساسِ فراغت و تفاخر کا شکار ہوگئے ۔ ہم نے ’’طاؤوس و رباب اول ‘‘ ٹھیرائے اور وصل و وصال کے مزے لوٹنے میں لگ گئے اور اب یہ لوٹ کھسوٹ آگے بڑھ کر غریب کے لنگوٹ تک  جا پہنچی ہے اور  سوٹ بوٹ میں ملبوس  انسان نما ’’روبوٹ ‘‘ نت نئےطریقوں سے غریب کو نوچ رہے ہیں۔  یہ روبوٹ اگرچہ مانتے تو فیض حمید کی ہیں لیکن چوں کہ مانتے  فیض احمد فیض کو بھی  ہیں تو ’’چلے چلو وہ منزل ابھی نہیں آئی ‘‘ گنگناتے ہوئے اس ’’لُٹ ‘‘ میں بگٹٹ آگے بڑھ رہے ہیں ۔اگرچہ فیض حمید کو پکڑ لیا گیا ہے لیکن  ’’ ڈرٹی اولز ‘‘ بہت سی شاخوں پہ بیٹھے ہیں ،  لگتا ہے  لٹیا ڈبو کر ہی دم یا  ’’دما دم دم ‘‘ لیں گے  ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481