اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فیض حمید عارف علوی کے بہت قریب تھے۔خفیہ ملاقاتیں ہوتی رہیں

جشن آزادی کے موقع پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودری نے دعوی کیا ہے کہ کورٹ مارشل کیلئے فوجی تحویل میں لئے جانے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید آخر وقت تک سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی سے بہت قربت رکھتے تھے۔

جاوید چوہدری کے مطابق جب فیض حمید کور کمانڈر پشاور تھے تو وہ صدر عارف علوی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد آیا کرتے تھے، جہاں ڈاکٹر علوی کے ایک قریبی دوست کے گھر میں یہ ملاقاتیں ہوتی تھیں۔
مذکورہ دوست کا تعلق کراچی سے تھا اور وہ ڈاکٹر عارف علوی کے اتنے قریب تھے کہ ایوان صدر میں روزانہ کی بنیاد پر آنے والی فروٹ کی پیٹیوں میں سے بڑی تعداد ان کے گھر پہنچ جایا کرتی تھی۔

سینئر صحافی کے بقول سابق آرمی چیف جنرل کمل جاوید باجوہ فیض حمید پر اندھا اعتماد کرتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جنرل فیض کو جو بھی ٹاسک دیا جاتا ہے وہ اسے پورا کر دیتے ہیں۔وہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدلیہ کو "بہت اچھے” انداز سے ہینڈل کر رہے تھے، اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی "مینیج "کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاپ سٹی جیسے بڑے اسکینڈل میں ملوث ہونے کے باوجود جنرل باجوہ نے یہ معاملہ نظر انداز کیا کیونکہ ان کے نزدیک فیض حمید دیگر بڑے کام کر رہے تھے۔سیاسی معاملات پر جنرل فیض حمید کی گرفت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے جنرل باجوہ کے بدترین مخالف میاں نواز شریف کو بھی باجوہ کی ایکسٹینشن کے لیے ووٹ دینے پر آمادہ کر لیا ،حالانکہ نواز شریف ببانگ دہل یہ کہہ چکے تھے کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں جنرل باجوہ کا اہم کردار تھا۔

 

تاہم جاوید چوہدری کے مطابق معاملہ اس وقت بگڑا جب فوجی قیادت کو یہ سمجھ آیا کہ جنرل فیض 10 سالہ پلان رکھتے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اگلی حکومت عمران خان کی رہتی ہے یا نون لیگ آتی ہے وہ آخر میں مارشل لاء لگانے کے بعد خود صدر بننا چاہتے تھے۔

بشری بی بی فیض حمید پر اندھا اعتماد کرتی تھیں

دوسری طرف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جنرل فیض حمید پر اندھا اعتماد کرتی تھیں کیونکہ انہیں یہ باور کرایا گیا تھا کہ جس دن فیض حمید چلے گئے عمران خان کی حکومت ایک دن بھی نہیں رہے گی۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان فیض حمید کے کور کمانڈر پشاور کے طور پر تبادلے کی مخالفت کرتے رہے اور ان کا اصرار تھا کہ انہیں ڈی جی آئی ایس ائی برقرار رکھا جائے۔اس مقصد کے لیے فیض حمید نے یہ بھی کوشش کی کہ آئی ایس آئی کو کور کا درجہ دے دیا جائے، کیونکہ بنیادی طور پر تو انہیں آرمی چیف بن کر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا تھا مگر آرمی چیف کے لیے کم از کم ایک سال کور کی کمانڈ ضروری ہوتی ہے۔ ارمی چیف جنرل باجوا نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا اور انہیں کور کمانڈر پشاور کے طور پر تبدیل کر دیا۔

Faiz Hameed was very close to Arif Alvi,فیض حمید عارف علوی کے بہت قریب تھے۔خفیہ ملاقاتیں ہوتی رہیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481