اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"انقلاب حلوہ نیست”

FB IMG 1618206927786 2

کالم شالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔    شکیل اعوان

"انقلاب حلوہ نیست”

یادش بخیر! مرشدی فرمایا کرتے تھے "پتر! جے انقلاب حلوہ ہوتا تو ہم کب کا چٹ کر چکے ہوتے مگر یہ ایک مسلسل اور صبر آزما عمل ہے۔” اگر غور کریں تو جس طرح فصل کے لیے زمین کا ہموار ہونا، اس میں ہل کا چلانا، موسمی تغیر کا خیال رکھنا، کھیت سے غیر ضروری جڑی بوٹیوں کا خاتمہ کرنا اور فصل کی تیاری تک صبر آزما انتظار برداشت کرنا ضروری ہے اسی طرح انقلاب کی فصل کے پک کر تیار ہونے تک بھی کئی سخت مقام آتے ہیں۔

ہم پچیس کروڑ حشرات الارض اپنے گھروں میں بیٹھے اطراف کے ممالک میں رونما ہوتے تغیرات پر بغلیں بجاتے اور ہر چیز میں اپنی کامیابی ڈھونڈتے جگاڑیے سوچتے ہیں۔۔۔۔
ہے حق کے لیے مرنا اچھا، کوئی اور مرے تو اور اچھا

ابھی ابھی بنگالی ٹائیگرز کو صوفے، کرسیاں، فوٹو فریم، قالین، برتن وغیرہ وغیرہ لوٹ مار کرتے دیکھا تو سوچا کہ مسٹر جناح کی طرح عالم بالا میں شیخ مجیب بھی "ٹاٹرا” ہو کر جنت یا دوزخ کی کند سے "ٹکروٹکری” ہو رہا ہوگا کہ جن مظلوموں کو ظالم سے آزادی دلائی تھی ان کو زباں ملی تو ہمی پر برس پڑے۔ خیر یہ تو ہر اس قائد کے ساتھ ہوا جس نے غلاموں کو آزادی دلوانے کا جرم کیا ہے۔ اپنے "باواجی” کا حال سامنے ہے۔ ماڑی پور ٹرک اڈہ پر خراب ایمبیولینس ہو یا اس ملک کو ایٹمی قوت بنانے والے ڈاکٹر خان کی کسمپرسی یا کوئی بھی جس نے وطن عزیز کی حقیقی خدمت کی ہو اس کو ہمارے بادشاہ گروں نے نشان عبرت بنا کر چھوڑا کہ حکم آقا یہی تھا۔ ہمارا تاریخی المیہ ہے کہ آقا کا حکم ملتے ہی ہم ہر بلا اور ہر طوفان کو اپنے گھر بلا لیتے ہیں۔ پہاڑی ضرب المثل ہے۔۔۔

"خصم کرے نانی تے چٹی دوہترے کی ”

Collage of the War in Afghanistan 2001 2021
یوں تو ہمارا دعوی ہے کہ ہم ہر آزادی کی تحریک کے بانی ہیں، بس اپنے ملک میں پتہ نہیں کیوں ہمارا تجربہ کام نہیں آتا۔ ہمارا مینٹل لیول یعنی سیاسی بلوغت اتنی ہے کہ چار مارشل لاء "ہنڈا ” کے بھی ٹرکوں کے پیچھے اب بھی لکھتے ہیں۔۔۔۔
"تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد”

images 46
اور کمال یہ ہے کہ ایوب کو ڈیڈی، ضیاء کو ابو اور مشرف کو پیر پہائی کہنے والے ہر حکومت میں سرخی پوڈر لگا کر جمہوریت کے "مامے” کہلاتے ہیں۔ سو انقلاب کو حلوہ سمجھنے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ انقلاب اپنی ذات کی قربانی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی کے گھر سے گملہ، صوفہ، کرسی، وغیرہ لوٹ کر انقلاب زندہ باد سمجھتے ہیں تو "شاواش آئی نیں”۔

ہمارے گاؤں کے چاچا چڑیا مرحوم کو ایک بار ہم نے مسجد کے مولوی صاحب کی تنخواہ کے لیے کہا تو انھوں نے کیا خوب جواب دیا تھا۔۔۔۔
"شکیل پترا ! مولوی ہور مغزے نی لسی چھیلنے نی وی تنخواہ کہننے”؟

images 47
حالت یہ ہے کہ بجلی کے بلوں پر پچیس کروڑ ڈھلتے سائے المعروف "زندہ قوم” گھر بیٹھ کر جماعت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں کہ وہی کچھ کرے تو کرے، جیسے ہم سب نے ان کو ووٹ دے کر اس کام کے لیے منتخب کیا ہو؟ جیسے یہ ان کا فرض منصبی ہو۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کا ساتھ دینے کے بجائے ان کی اس قربانی پر ہم تحقیر اور طنز کے تیر برسا کر اپنے شعور اور اشرف المخلوقات ہونے کی توہین کر رہے ہیں۔

ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ سیاسی ہو، مذہبی ہو یا علاقائی۔۔۔۔۔ پولارائزیشن جیسی لعنت سے جان چھڑائیں۔ "پرائے گاہ” میں "داند واڑنے” سے کہیں بہتر ہے کہ سوروں سے اپنی "ڈوغی” کی حفاطت کا بندوبست کرنے پر ساری توجہ مرکوز کی جائے۔

ہم تو دست بستہ درخواست کریں گے کہ ہر شہری کو ایک خط بنام چیف جسٹس لکھنا چاہیے کہ آئی پی پیز نامی سوروں کے معاہدوں کا آڈٹ کیا جائے اور جو جو شخص ان غیر انسانی، ملک اور عوام دشمن معاہدوں کے سلسلے میں حصہ بقدر جثہ لینے میں شامل ہے اس کو کیفر کرادر تک پہنچایا جائے۔

شاید یہی ایک صورت کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کر سکتا ہے۔۔۔ کہ ہم گو قریب المرگ ہیں مگر ابھی موت سے ہمکنار تو نہیں ہوئے۔۔۔
میں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں !

آخر میں گل اتھے مکدی اے جے قبرستان وچ بانگ دینے نا فیدہ ککھ نئیں،  پر بانگی دا کم بانگاں دینا اے کوئی آوے یا نانہہ آوے !

وما علینا الاالبلاغ ۔۔۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481