اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہم سب ارشد ندیم ہیں،،،،ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ہم سب ارشد ندیم ہیں،،،،ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

بہت مبارک ارشد ندیم، اس شاندار کامیابی پر۔ اور ڈھیروں تشکر ارشد ندیم، ایک ہی لحظے میں پاکستانی ہجوم کو قوم میں بدلنے کے لیے۔ ایسے ہی ہیں ہم، بچوں کی طرح۔ چھوٹی بڑی باتوں پر آپس میں لڑتے جھگڑتے، لیکن جیسے ہی زندگی مٹھاس کا کوئی سبب بنا دے تو سب بھول کر یک جان و یک قالب۔

سب دیکھ لیں ۔۔۔ یہاں کوئی پاکستان کا مخالف نہیں، سب اس سے محبت کرتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کی بہتری اور ترقی کے لیے اپنا اپنا نظریہ رکھتے ہیں، اس کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرہ اس کے علاؤہ اور کیا ہوتا ہے ؟ بلکہ یوں کہیے کہ ایک انسانی معاشرہ بھی کبھی یک رخی سوچ کا حامل ہو سکتا ہے ؟ جبر کے بغیر یہ ممکن نہیں اور جبر کی زنجیر بالآخر ٹوٹ کر رہتی یے۔ اس لیے سوچ کا تنوع ایک نعمت ہوتا ہے زحمت نہیں۔

ارشد ندیم کی بے مثل کامیابی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ پاکستان کی سربلندی ہر پاکستانی کو سرشار کرتی یے۔ یہ جو ناراضی کا ماحول ہر جانب نظر آتا ہے اس کی وجہ محض اس بات کی پژمردگی ہے کہ شاید کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا۔ اس پر ایک دوسرے کو دھتکارنے کے بجائے باہم مکالمہ ہونا چاہیے، اس حسنِ ظن کے ساتھ کہ پاکستان کا برا کوئی بھی نہیں چاہتا۔

یاد رہے ۔۔۔ پاکستان اور کسی بھی اور ملک کے حالات اور اس حوالے سے پیدا ہونے والے عوامی ردعمل کا تقابل نہیں کیا جا سکتا ۔ مثلاً بھارت ہی کی مثال لے لیجیے۔ بھارت اور پاکستان ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے لیکن یہ دونوں بالکل مختلف اساس کے حامل ہیں۔ ہندوستان ایک تاریخی حقیقت کا نام ہے جو سامراج کے قبضے کے بعد اس سے آزاد ہؤا۔ جبکہ پاکستان ایک "وعدے” کا نام ہے۔ کچھ مختلف اور بہت اچھا کر دینے کے عزم کا نام۔ سنہری مستقبل کے یقین کا نام۔ اسے ہمیشہ اسی پیمانے پر پرکھا جاتا رہے گا اور عوام کی امید اور ناامیدی اسی پیمانے سے جڑی رہے گی۔ اسی لیے یہاں مایوسی پھیلانا بھی بہت آسان ہے اور امید کا ابلاغ بھی۔ پاکستانی عوام اس امید پر بھروسہ کرنا چاہتے ہیں لیکن بار بار کی مایوسیاں انہیں قنوطی بنائے دے رہی ہیں۔

ایک جانب مسلمانوں نے دائرہ اسلام کو تنگ کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور دوسری طرف ہم پاکستانیوں نے حب الوطنی کے ساتھ یہی کچھ کیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بقا اور نمو ان دونوں دائروں کو وسعت دینے میں ہے اور یہ وسعت دلوں کی کشائش سے جڑی ہے۔ اگر ہم سب پاکستان کی ایک کامیابی پر اس قدر خوش ہیں تو اسے مستقل کامیاب رکھنے کے لیے ایک دوسرے کی بات سمجھ کر مشترکہ جدوجہد کیوں نہیں کر سکتے ؟ بیٹھ کر نتیجہ خیز بات چیت کیوں نہیں ہو سکتی ؟؟؟

بہرحال ۔۔۔

آج ارشد ندیم کا دن ہے۔ انہیں ایک مرتبہ پھر بہت مبارکباد ۔

کل رات سے ان پر انعامات کی برسات دیکھ کر بار بار دل میں آتاہے کہ یہ نعرہ مستانہ بلند کیا جائے، شاید ہماری بھی کوئی سن لے ۔۔۔۔

ہم سب ارشد ندیم ہیں !!!!!


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481