اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

20 سے 30 برس کےپاکستانی نوجوان کولوریکٹل کینسرکینسر کا شکار ہورہے ہیں

889bd5f7 78fd 402f ab26 13ad12da1b9c

 ماہرین سرطان نے کہا ہے کہ کولو ریکٹل کینسر ، سرطان کی تیسری عام قسم ہے اور دنیا بھرمیں اس جان لیوا مرض سے ہونے والی اموات کی دوسری بڑی وجہ  بھی ہے، پاکستان میں 20 سے 30 برس کے افراداس کینسر کا زیادہ شکار ہورہے ہیں، یہ باتیں  انہوں نے ڈاؤ انٹرنیشنل  میڈیکل کالج  میں "ایمرجنگ تھیراپیوٹک اسٹریٹیجز ان  کولو ریکٹل کارسینوما ” کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ  میں کہیں، اس پروگرام کی صدارت  ڈاؤ یونیورسٹی کی پرو  وائس چانسلر  پروفیسر ڈاکٹر جہاں آرا  نے کی،  پروگرام میں   ضیا الدین  میڈیکل یونیورسٹی کے کنسلٹنٹ پروفیسر عدنان اے جبار،  ایس آئی یو  ٹی کے کنسلٹنٹ میڈیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر نجیب نعمت اللہ ، آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی   کنسلٹنٹ سرجیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر صدف خان اور  آغا خان یونیورسٹی اسپتال کنسلٹنٹ   ریڈی ایشن آنکولوجسٹ  ڈاکٹرناصر علی نے   پینلسٹ کی حیثیت سے شرکت  کی جبکہ  مختلف اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے اس موضوع پر اپنی ماہرانہ رائے کا اظہار کیا اور 4 ڈاکٹروں نے  کینسر کے مریضوں کی کیس اسٹڈیز  بھی پیش کیں اور ان کیسز کے حوالے سے ماہرین کی رائے حاصل کی.

 

ڈاؤ اسپتال کے  کینسر ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کے لیے 50 بستروں کی سہولت موجود

ڈاؤ یونیورسٹی کی پرووائس چانسلر  پروفیسر ڈاکٹر جہاں آرا نے اپنے خطاب میں  کہا کہ  ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے آنکولوجی ڈپارٹمنٹ میں کینسر کے تمام مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، ہم کسی بھی مریض کو انکار نہیں کرتے، یہاں ایران، بھارت سے آئے مریضوں کاعلاج ان کے ویزا اور تمام کاغذات دیکھنے کے بعد کیا جاتا ہے، ان کا مزید کہنا  تھا کہ  سندھ حکومت کی  جانب سے کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے فنڈ فراہم کیا جاتاہے،  ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاؤ اسپتال کے  کینسر ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کے لیے 50 بستروں کی سہولت موجود ہے اور جلد ہی اس ڈپارٹمنٹ میں ریڈیالوجی کی سروسز بھی  فراہم کی جائیں گی، ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کی کنسلٹنٹ آنکولوجی ڈاکٹر بتول میمن نے کہا کہ کولوریکٹل  کینسر  ،  پاکستان سمیت دنیا بھر  میں سرطان کی تیسری عام قسم ہے جبکہ  سرطان  سے ہونے والی  اموات کی دوسر ی بڑی وجہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ  2022  میں دنیا بھر میں کولوریکٹل کینسر کے 19 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے اور 9 لاکھ 30 ہزار سے زائد مریضوں کی موت کی وجہ بنا،انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں  بروقت اسکریننگ پروگرامز  کی وجہ سے اس کینسر سے اموات کی شرح میں کمی آرہی ہے   جبکہ درمیانی  عمر کے افراد میں  یہ کینسر رپورٹ ہورہا ہے، ڈاکٹر بتول میمن نے کولو ریکٹل کینسر کی تشخیص اور علاج کے طریقوں پر روشنی ڈالی،

 

ضیاالدین میڈیکل یونیورسٹی کے کنسلٹنٹ پروفیسر عدنان اے جبار نے”ایڈوا نسز اِن نیو ایڈجوونٹ تھراپی فار لوکلی  ایڈوانسڈ ریکٹل کینسر ” کے موضوع  پر گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ   2004 سے ریکٹل کینسر  کی سرجری میں بہتری آئی ہے جس  سے مقامی سطح پر دوبارہ کینسر ہونے کی شرح میں بھی کمی آئی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ریڈی ایشن پلاننگ، کیمو تھراپی میں بہتری اور ریکٹل ایم آر آئی کے ذریعے اس کینسر کی تشخیص اور علا ج کیا جارہا ہے،ان کا کہنا تھا کہ اب نیو ایڈجوونٹ تھراپی (ٹی این ٹی) کی جارہی ہے، جس سے قبل اس چیز کا تعین کیا جاتا ہے کہ  کس  مریض کو ٹرائی ماڈیلیٹی تھراپی کی ضرورت ہے؟ شارٹ کورس کروایا جائے  یا ریگولر کیموریڈی ایشن اور اس سلسلے میں مالیکیولر مارکرزکو  کیسے شامل کیا جائے؟

 

اعضا کو بچانے سے کینسر پر قابو اور بچاؤ میں بہتری آتی ہے

 

انہوں نے اس تھراپی کے حوالے سے تحقیق اور  اس تھراپی کے نتائج پر بھی روشنی ڈالی، ڈاؤ یونیورسٹی  کے آنکولوجی ڈپارٹمنٹ کے  اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر عاطف منشا نے  ریکٹل کینسر کے علاج اور اس میں  اعضا کو محفوظ رکھنے پر بات چیت کی، انہوں نے کہا کہ اعضا کو بچانے سے کینسر پر قابو اور بچاؤ میں بہتری آتی ہے اور اس سے مرض کے پھیلاؤ اور شرح اموات میں بھی کمی آتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈوز بڑھانے اور  بروقت علاج  سے  اعضا کو محفوط  کیا جاسکتا ہے

   کرن اسپتال کے ڈاکٹراصغر حسین نے ریکٹل کینسرکے شارٹ اور لانگ کورس ریڈیو تھراپی پر بات کی،اس حوالے سے انہوں نے مختلف ٹرائل ماڈلز پر روشنی ڈالی اور  بتایا کہ ریپیڈو ٹرائل کے 5 سالہ فولو اَپ میں لانگ کورس کے مقابلے میں شارٹ کورس  میں  10 فیصد ناکامی کا سامنا ہوا،  انہوں نے مزید کہا کہ  اس حوالے سے تحقیق کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ شارٹ کورس، لانگ کورس سے کمتر نہیں ہے، تاہم شارٹ کورس سے اس کینسر کے دوبارہ ہونے کے امکانا ت میں کمی آتی ہے لیکن بعدازاں  پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں،  شارٹ کورس اس وقت زیادہ بہتر ہے   جب اسپتالوں میں علاج کے منتظر مریضوں کی تعدادزیادہ ہو، بعدازاں ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے ڈاکٹر طیب صدیقی، ایس آئی یو ٹی کے ڈاکٹر رمیز اور سول اسپتال کراچی کے ڈاکٹر راجا راہول اور لیاقت نیشنل اسپتال کی ڈاکٹر حرا آفریدی نے   کولو ریکٹل کینسر  کے مریضوں کی کیس اسٹڈیز پیش کیں جن پر ورکشاپ  میں موجود ماہرین  نے ان کیس اسٹڈیز پر گفتگو کی اور کینسر کی تشخیص اور علاج میں  ان کی کوششوں کو بھی سراہا ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481