عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کابھوک ہڑتالی کیمپ پارلیمنٹ کے باہر جاری ہے، رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ روزانہ 3 بجے سے 7 بجے تک علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی۔
پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، سنبق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینٹ میں پی ٹی آئی کے پالیمانی لیڈر شبلی فراز اور دیگر رہنماؤں نے آج بھوک ہڑتالی کیمپ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔اس موقع پر چیرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہاکہ ہم عمران خان کی رہائی تک روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کریں گے، آج اسپیکر سے مل کر انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے کہ ہمارے ارکان اسمبلی کو اٹھایا جارہا ہے اور ان کے خاندان کو بھی پریشان کیا جاتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہاکہ فارم 47 کی حکومت کے رہنے کا کوئی جواز نہیں، یہ مستعفی ہوں اور ملک میں صاف و شفاف انتخابات کرائے جائیں .انہوں نے کہاکہ ہم نے عمران خان سے درخواست کی ہے کہ آپ جیل میں بھوک ہڑتال نہ کریں .بھوک ہڑتال ہماری سیاسی جدوجہد کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ منصفانہ انتخابات کرانے تک ملک بحران سے نہیں نکلے گا، اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ فارم 47 حکومت کی کشتی میں اتنا پانی آچکا ہے کہ اب ان کا بچنا ممکن نہیں. پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ بھوک ہڑتالی کیمپ ڈویژنز تک لے کر جائیں گے،پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ اس حکومت نے عوام کو مہنگائی کے عذاب میں جھونک دیا ہے، ہم جمعے کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کریں گے۔
سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہاکہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئی تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ حکومت ہوش کے ناخن لے ،کیا یہ ملک طاقت کے زور پر چلایا جائے گا۔ مریم نواز کے عدلیہ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، اس وقت ملک میں انارکی پھیلائی جارہی ہے۔اسد قیصر نے کہاکہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی بدمعاشی سے ڈر جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ بتایا جائے کس قانون کے تحت پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پر حملہ کیا گیا، ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ملک میں 2 سال سے فسطائیت کا راج ہے۔
صاحبزدہ حامد رضا کا سوال
سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر سوال کیاکہ آپ کے بقول ڈیجیٹل دہشتگرد کا کوئی پتا نہیں ہوتا کہ وہاں کہاں ہے، مسلمان بھی ہے یا نہیں، تو پھر یہ کیسے طے کرلیا کہ وہ سب ہم ہیں؟اس موقع پرایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے کہاکہ ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے والوں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ جمعہ کے روز عوام پاکستان کی خاطر احتجاج میں شریک ہوں۔
