اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کڑیاں….محمد نعیم

b4978e14 4ed3 486a 8e1c b5872f9e53f9

نوٹ.کڑی کے کاف پر زبر پڑھنی ہے۔ پیش نہیں۔

 

آپ نے پرانے گھر دیکھے ہیں؟ ان کی چھتیں دیکھی ہیں؟ بالخصوص پہاڑی علاقوں اور شمالی علاقہ جات کے کچے گھر۔ ان گھروں کی چھتیں درختوں کے مختلف اجزاء سے بنا کر ان پر مٹی ڈال کر پکا کر دیا جاتا ہے۔ پھر اس مٹی پر سمینٹ یا پتھر سے بنا (رول) رولر اس طرح پھیرا جاتا ہے کہ منوں برف پڑے یا کئی سو ملی میٹر بارش ہو جائے۔ چھت مشکل سے ٹپکتی ہے۔
ان گھروں کی چھتیں برگے، کڑیاں، کچھیاں، میراں اور چنتھر/چنتھل سے بنائی جاتی ہیں۔
ماضی میں گاؤں کے زیادہ تر کام سانجھے ہوتے تھے۔ مطلب آج مجھے کچھ کام ہوا تو سارے محلے کے مرد آ گئے اور کل کسی کو ضرورت پڑی تو میں ہاتھ بٹانے جا پہنچا۔
ایسے کاموں کے لیے حشری یا لیتری کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ پہلے لوگ کہاہ (گھاس) کاٹنے سے لے کر گھر لاکر گاڑھا بنانے تک سب محلے والوں سے مدد لیتے تھے۔

اسی طرح
بچپن کی یادوں میں ایڈونچر سے بھرپور کام جو ہوتے دیکھا ہے وہ کئی فٹ لمبی اور تقریباً ڈیڑھ سے دو فٹ تک چوڑی کڑیوں کو جنگلوں سے لانا اور گھر کی چھت پر رکھنے تک کا مرحلہ ہے۔ کڑی کچے گھروں کی چھتوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تنگ اور دشوار رستے۔ چھوٹے موڑ اور کئی گز لمبی اور کئی من وزنی لکڑی کی ان دیوہیکل بلاؤں کو اٹھانے کے لیے کم و بیش پچاس ساٹھ بندوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ تگڑے اور تجربہ کار لوگ موٹی چادروں کی گدیاں بنا کر لے جاتے اور کڑیاں منگوانے والے کہو کے مضبوط دستے اور رسیاں لے کر جاتے۔ کہو کے یہ دستے آگے اور پیچھے کڑی میں کٹ لگا کر باندھ دیئے جاتے۔ تاکہ دونوں طرف زیادہ لوگوں کے اٹھانے کی گنجائش بن سکے۔ لوگ باری باری اٹھانے کے لیے قریب قریب چلتے رہتے تاکہ کڑی کے نیچے جو بندہ ہے اس کے تھکنے سے پہلے ہی ایک تازہ دم کندھا پہنچ چکا ہو۔ کم عمر لڑکے جو ابھی یہ بار اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے تھے۔ ان کا کام کڑی کے آگے بندھی ہوئی رسی کو کھینچنا ہوتا تھا تاکہ چڑھائی چڑھتے وقت اٹھانے والوں پر کم لوڈ آئے۔

کچھ لوگ جنہیں کسی دوسرے سے خار ہوتی وہ ایسے موقعے کی تاک میں رہتے اور کڑی اٹھائے ہوئے مخالف کو دبا کر اس کا اچھی طرح پسینہ نکالتے۔ پھر جب سے سیمنٹ ، سریے نے گاؤں میں قدم رکھا ہے۔ نہ اب کسی کو برگے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کچھیوں کی۔ اور نہ اب کڑیاں اٹھانے والے باقی بچے ہیں۔

 

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481